63

فن خطابت کازوال

فن خطابت ایک بہت بڑا ہنر ہے اور یہ فن ان معاشروں میں زوال پذیر ہوتاجاتاہے کہ جن میں جمہوری ادارے کمزور پڑ جائیں یا دانستہ طورپر کمزور کردئیے جائیں‘ باالفاظ دیگر جب عوام میں سیاسی مفاہمت کی فضا عنقا ہوجائے تو فن خطابت بھی انحطاط کا شکار ہوجاتا ہے‘ اس فن میں یدطولیٰ صرف ان لوگوں کو ہوتاہے کہ جن کو زبان پر مکمل عبور حاصل ہو جو آوازکے زیرو بم سے واقف ہوں اور جو باڈی لینگویج یعنی کہ بدن بولی میں بھی مہارت رکھتے ہوں‘اگر آپ تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ فن کسی دور میں یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں اپنے عروج پر تھا وہاں کے سیاستدانوں کو یہ ڈھنگ آتا تھا کہ کس طرح عوام سے مخاطب ہوکران کی حمایت حاصل کی جاتی ہے اس فن کی باریکیاں سمجھانے کیلئے اس شہر کے سکالرز اشرافیہ کے بچوں کو خصوصی تربیت دیا کرتے کہ عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے کون کون سے گر ہیں۔ یونان نے ایک بہت بڑا مقرر پیدا کیا جس کانام تھاپیری کلز ‘اسی طرح یونان میں ہی ڈیماس تھینس نامی خطیب پیدا ہوا وہ شروع شروع میں ہکلاتا تھا پر اس نے اس کا علاج یوں کیاکہ وہ سمندر کے کنارے جا کھڑا ہوتا اپنے منہ میں کنکریاں ڈال کر بغیر وقفے کے خود کلامی کیا کرتا تاریخ میں اس جیسا بہترین مقرر کوئی دوسرا پیدا نہ ہوسکا۔

جب مقدونیہ کے بادشاہ فلپس نے ایتھنز پر حملہ کیا تو اس نے اس کی مخالفت کی اور اپنی تقاریر سے لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا وہ سکندر اعظم کے بھی خلاف تھا جب اسکی فوج نے اسے پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے خودکشی کرلی۔ روم کی سلطنت میں بھی فن خطابت زوروں پر تھا کیونکہ اس دور میں بھی کئی جمہوری ادارے موجود تھے خصوصاً سینٹ جہاں پر سیاسی امور پر بحث و مباحث کی جاتی جب رومن سلطنت زوال پذیر ہوئی تو فن خطابت بھی ماند پڑ گیا۔جب بادشاہت کا زمانہ شروع ہوا تو عوامی اسمبلیوں کا کردار نہ ہونے کے برابر تھا۔ انگلستان غالباً واحدملک تھا جہاں پر پارلیمنٹ نے آزادی تقریر کو جلابخشی‘ ہاؤس آف کامنزنے واقعی بڑے بڑے مقرر پیدا کئے‘انقلاب فرانس 1789ء میں برپا ہوا اور اس دور میں پیرس میں واقع نیشنل اسمبلی میں شعلہ بیان تقاریر سننے میںآئیں‘ دوسری جنگ عظیم میں اگر ایک طرف برطانیہ کے وزیراعظم سرونسٹن چرچل اپنی قوم میں اپنی تقاریر کے ذریعے نیشنلزم کی شمع جلاتے رہے تو دوسری جانب ہٹلر اپنی شعلہ بیانی کے ذریعے جرمن قوم کو عظیم قربانی کیلئے ذہنی طورپر تیارکرتا رہا‘ ہندوستان کی سیاست پر اگر آپ نظر ڈالیں تو جنگ آزادی کے دوران آپ کو کئی ایسے سیاستدان ملیں گے کہ جو فن خطابت کے ذریعے ہندوستانیوں کے جذبہ آزادی کو بھڑکاتے رہے۔

بہادر یار جنگ‘ عبدالکلام آزاد اور عطاء اللہ شاہ بخاری ہندوستانی مقرروں اور خطیبوں کے سرخیل تھے مقام افسوس ہے کہ جہاں زندگی کے اور شعبوں میں زوال دیکھنے میں آیا ہے فن خطابت بھی عرش سے فرش پر گر پڑا ہے اب ابوالکلام آزاد یا عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے مقرر ناپید اور کمیاب ہیں۔ اپنی پارلیمنٹ پر ہی ذرا نظر ڈال لیجئے گا ایک دور تھا کہ جب حسین شہید سہروردی‘ میاں ممتاز خان دولتانہ‘ خان عبدالولی خان‘ خان عبدالقیوم خان‘ سردار عبدالرب نشتر‘ سردار اورنگزیب‘ لیاقت علی خان‘ مولوی فرید‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ مولانا مودودی‘ مفتی محمود‘مولانا نورانی‘پروفیسر غفور‘مولاناکوثر نیازی اور ان ہی کے پائے کے کئی اور سیاستدان ہماری اسمبلیوں کے رکن ہوا کرتے کوئی بھی بات کرنے کے طریقے سے یہ لوگ آشنا تھے ان کو ایک دوسرے کا احترام کرنا بھی آتا تھا ان کے بعد آنے والے اکثر مقرروں کو تو ہم نے ایک دوسرے پر ہاتھ ڈالتے بھی دیکھا اور ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑتے بھی۔