98

اقتصادی صورتحال:کڑے فیصلے

تحریک انصاف کے اقتدار سنبھالنے کیساتھ ہی پاکستان میں مہنگائی کا سونامی بھی درآیاکیونکہ حکومت نے ملک کے مالیاتی اور اقتصادی نظام کی اصلاح کے تناظر میں منی بجٹ کے ذریعے بعض نئے ٹیکسز اور ڈیوٹیاں عائد کرنے کیساتھ ساتھ گیس‘ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں بھی اضافہ کیا ہے‘بیشک وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اسدعمر اقتدار سنبھالنے تک قوم کو یہی مژدہ سناتے رہے کہ ملک کو آئی ایم ایف سے نجات دلائی جائیگی اور اس سے نئے قرضوں کیلئے رجوع نہیں کیا جائیگا تاہم اقتدار سنبھالنے کے کچھ ہی روز بعد تحریک انصاف حکومت کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہے کہ معیشت کو سنبھالنے کیلئے قومی خزانہ میں تو کچھ بھی نہیں ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بھی خطرناک حد تک نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں‘اس صورتحال میں آئی ایم ایف سے قرض لینے کے سوا حکومت کے پاس کوئی دوسرا راستہ ہی موجود نہیں‘اس حقیقت حال کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو ہنگامی طور پر پریس کانفرنس کرنا پڑی جس میں انہوں نے قوم کو باور کرایا کہ معیشت کو سنبھالنے کیلئے ہمارے پاس ایک راستہ قومی خزانہ میں لوٹ مار کرنے والے چوروں‘ ڈاکوؤں کو نکیل ڈال کر ان کی بیرون ملک موجود رقوم واپس لانے کا ہے جس کیلئے انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے تاہم اس کیساتھ ساتھ انہیں قوم کو یہ بھی باور کرانا پڑا کہ ہمیں نئے قرضوں کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ سکتا ہے‘ ۔

زیراعظم کا یہ اعلان درحقیقت قوم کیلئے پیغام تھا کہ وہ آنیوالے دنوں میں مہنگائی کے جھٹکے برداشت کرنے کیلئے ذہنی طور پر تیار رہیں فی الحقیقت تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے انتخابات میں کامیابی کے بعد نگران حکومت کے دوران ہی آئی ایم ایف کو عندیہ دیدیا گیا تھا کہ اسکی آنیوالی حکومت نئے قرض کیلئے اس سے رجوع کر سکتی ہے‘ اس وقت اسدعمر کے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے سے متعلق بیان کی بنیاد پر ہی امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیونے یہ رعونت بھرا بیان جاری کیا تھا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کا قرض سی پیک منصوبے کے حوالے سے چین کا قرض اتارنے کیلئے استعمال نہیں کرنے دیا جائیگا‘ بیشک مائیک پومپیو کے اس بیان کا تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد فوری نوٹس لیا تاہم اس کے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے فیصلہ کی ضرور گرہیں کھلنے لگیں اور اس حوالے سے آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط بھی سامنے آنے لگیں‘ اسی تناظر میں آئی ایم ایف کی جانب سے ڈکٹیشن کے انداز میں پاکستان کو مشورہ دیا گیا کہ وہ روپے کی قدر میں مزید خاطرخواہ کمی کرے اور بجلی کے نرخ بڑھا کر اکیس روپے فی یونٹ کردے‘ اگر اس صورتحال کے تناظر میں کرنسی کی شرح میں ہونیوالی حیران کن کمی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد ہوتا ہی نظر آتا ہے جبکہ گیس اور بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافہ بھی آئی ایم ایف کی شرائط کے تابع ہی کیا گیا ہے۔ یہ تاثر دینا درست نہیں کہ ڈالر پر جوا ہورہا ہے۔‘ اس کے برعکس حقائق و شواہد روپے کی قدر میں کمی حکومتی فیصلہ کے تابع ہی دکھا رہے ہیں ۔

اسلئے حکومت کو بہرصورت قوم کو اصل حقائق سے آگاہ رکھنا چاہئے‘اگر قوم کو کٹھن صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو حکومت کو قوم کو اس امر سے بھی آگاہ کرنا چاہئے کہ اس صورتحال سے کیسے عہدہ برآء ہونا ہے‘فی الوقت تو قوم کو اپنے سامنے مہنگائی کے نئے پہاڑ کھڑے نظر آرہے ہیں جنہیں کیسے پاٹنا ہے اس کی سمجھ نہیں آ رہی۔ یقیناًحکومت کے پاس حل موجود ہوگا اور اگر ایسا کوئی حل موجود ہے تو اسے قوم کیساتھ ضرور شیئر کرنا چاہئے تاکہ اگر اقتصادی حالات میں مزید خرابی پیدا ہو تو اِس سے کسی کو مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے‘ بصورت دیگر وزیراعظم عمران خان کی شخصیت کیساتھ وابستہ امیدیں دم توڑنا شروع ہو جائیں گی‘قوم کو یقین ہے کہ عمران خان کی صورت انہیں نجات دہندہ میسر آ گیا ہے لیکن اگر ملک و قوم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری کے دلدل سے نکلنے کی بجائے اس میں مزید دھنسنے لگی ہے اور اب مہنگائی کا نیاسونامی بھی نظر آرہا ہے تو قوم کے ہوش ٹھکانے آنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کو تو یقیناًایسے مواقعوں کی تلاش رہتی ہے جس میں وہ حکومت پرسیاسی پوائنٹ سکورنگ کرسکیں۔ تحریک انصاف نے خود پر تنقید کرنے کا نادر موقع خود ہی فراہم کر دیا ہے‘ روپے کی قدر میں کمی کیساتھ ہی حکومت پر تنقید کیلئے اپوزیشن ایک صف میں کھڑی نظر آ رہی ہے اور مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب ہی نہیں‘ مولانا فضل الرحمان‘ اسفندیار ولی‘ سراج الحق اور پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضاربانی نے بھی روپے کی بے قدری کو سازش قرار دیا ہے اور ساتھ ہی یہ باور کرانا بھی ضروری سمجھا کہ قرض کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانا وزیراعظم عمران خان کے بیانات سے متصادم مؤقف ہے اور یہ ان کا یو ٹرن ہے‘حزب اختلاف کی سیاست تو اپنی جگہ مگر تحریک انصاف حکومت کو مہنگائی کے تابڑتوڑ حملوں کے تناظر میں بہرصورت عوام کو ضرور مطمئن کرنا ہے جو وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں نئے پاکستان کی تشکیل کے آرزومند ہیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ابوسعید فاروقی۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)