87

نئے پاکستا ن کا مکاناتی منصوبہ

تحریک انصاف کے منشور میں جو جو چیزیں شامل تھیں ان پر دھیرے دھیرے عمل کا آغاز ہوگیا ہے پہلے تو گم کردہ یا بیرون ملک لے جائی ہوئی دولت کا تذکرہ سننے میں آیا۔ منشور میں اور خان صاحب کی تقاریرمیں تولگتا تھا کہ جیسے ہی حکومت ملے گی بیرونی دنیا سے لوٹی ہوئی دولت اور بیرن ملک کام کرنیوالوں کی جانب سے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح دولت کی لہریں پاکستان کا رخ کریں گی اور دنوں میں ملک ترقی یافتہ ممالک سے بھی آگے نکل جائے گا۔ وہ کام توکچھ سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے چونکہ جو اربوں کی لوٹی ہوئی دولت تقاریر میں دکھائی جاتی تھی وہ اب کہیں نظر نہیں آتی‘ہاں نیب نے لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کا ذمہ اٹھا رکھا ہے اور چونکہ نیب ایک ’آزاد ‘ادارہ ہے اسلئے وہ کسی کو بھی ( جسکا تعلق حزب اختلاف سے ہو) بلا کر اسے اپنی حوالات میں بند کر سکتا ہے اس لئے کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے‘ ہو سکتا ہے کہ نیب ان لوگوں سے پری بارگین کی صورت میں کچھ رقم نکلوا ہی لے ‘اسلئے کہ اگر کسی نے ملکی دولت کی حفاظت کی ہو اور وہ بد قسمتی سے آج حزب اختلاف میں ہو تووہ کیسے دولت نیب کو دے گا‘ ہاں اگر اپنی پگڑی کی حفاظت کیلئے ایسا کر لے تو وہ دوسری بات ہے‘تاہم نیب پوری طرح سے حزب اختلاف کے لیڈروں کی پگڑیاں اچھالنے میں اپنا کردار خوبی سے نبھا رہا ہے‘اگرجو خان صاحب کی تقریروں میں لوٹی ہوئی دولت واقعی کہیں ہے تو اگر وہ مل جاتی ہے تو پاکستان کی تو کیا بات ہو جاتی ہے‘اسلئے کہ صرف ایک خاندان کے پاس کوئی تین سو ہزار ارب روپے کی لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک موجود ہے ۔ اسی طرح اور بہت سے خاندانوں کے پاس اربوں کھربوں کے حساب سے دولت موجود ہے۔

اب اگر یہ دولت مل جاتی ہے تو پاکستان کی توبلے بلے ہونی ہی ہے‘مگر یہ دولت واپس لانی ذرا مشکل ہے اسلئے کہ یہ تقریروں سے باہر کہیں نہیں نظر آتی‘اب خان صاحب نے پچاس ہزار مکانوں کا وعدہ پورا کرنے کی ٹھان لی ہے اس کیلئے ایک نیا پاکستان ہاؤسنگ سوسائٹی کا قیام بھی عمل میں لایا جا چکا ہے جس کی سربراہی خود خان صاحب فرمائیں گے اور اس کیلئے ایک بیرونی کمپنی کو ٹھیکا دینے کی بھی شنید ہے ‘یہ ان ہی صاحب کی کمپنی ہے جو مبینہ طور پر خان صاحب کی کینسر ہسپتالوں اور الیکشن میں مالی مدد کرتے رہتے ہیں۔ (دروغ بر گردن راوی) جیسا کہ خان صاحب نے فرمایا ہے کہ اس پورے منصوبے میں حکومت پاکستان نے ایک پیسہ بھی نہیں خرچ کرنا صرف حکومت کا کام زمین مہیا کرنا ہے باقی کا کام کمپنی خود کرے گی‘ اسے عام محاورے میں ’’ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے ‘‘ کہتے ہیں‘یہ خان صاحب کے مشیروں اور خود خان صاحب کی ذہانت کا ثمرہے کہ پاکستان کے لوگوں کو ایک بہت اچھی سکیم بغیرکوئی پائی پیسہ خرچ کرنے کے میسر آ رہی ہے‘اس منصوبے میں جو اربوں کا منصوبہ ہے۔

اسلئے کہ پچاس ہزار گھر کوئی مفت میں تو بن نہیں سکتے کسی بھی پاکستانی کمپنی کو شمولیت کی اجازت نہیں‘ چیف جسٹس صاحب نے فرمایا ہے کہ پچاس ہزار گھر بنانا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے مگر خان صاحب یہ کر کے دکھا رہے ہیں اللہ کرے کہ یہ کام ہو جائے اور خان صاحب کسی کے احسان سے بھی عہدہ برا ہو سکیں اور پاکستان کے غریبوں کو بھی چھت میسر آسکے‘اس سکیم میں سب سے پہلے ان غریبوں کو حصہ ملے گا جو سرکار کے ملازمین ہیں او ر انکی ما ہانہ آمدن دس بیس ہزار سے زیادہ نہیں ہے‘ اور اسے تھوڑی تھوڑی قسطوں میں اس مکان کی قیمت ایک بڑے عرصے میں ادا کرنی ہو گی‘ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو مگر ہم نے دیکھا ہے کہ اس سے پہلے بھی غریبوں کیلئے کئی ایسے منصوبے بنائے گئے تھے اور ایک کثیر رقم لگا کر یہ مکانات لوگوں کو مفت دیئے گئے تھے ‘مگرلوگوں نے وہ گھر الاٹ توکروائے مگر ان میں رہائش اختیار نہیں کی اسلئے کہ وہ بڑے شہروں سے دور تھے اور وہ پیسہ یوں ہی ضائع گیا اسلئے ہم یہ گذارش کریں گے کہ مکانات کیلئے ایسی جگہوں کا انتخاب کریں کہ جو شہروں کے قریب ہوں اور کوئی فیکٹری بھی ان گھروں کے قریب ہو تاکہ یہ لوگ آسانی سے اپنے کاموں تک پہنچ پائیں ورنہ جیسے پہلے ہوچکا ہے حکومت کے یا کمپنی کے پیسوں کا ضیاع ہو گا‘اللہ کرے کہ یہ منصوبہ اپنی تکمیل کو پہنچے ‘اگراس میں ذرا برابر بھی ملاوٹ ہوئی تو اسکا مکمل ہوناناممکن ہو جائیگا اسلئے کہ دلوں کے حال جاننے والا ہی ایسے منصوبوں کی تکمیل کا محافظ ہے۔