80

فریب نظر

مارکس ازم‘ لینن ازم اور ٹراٹسکی ازم بظاہر تین مختلف انقلابی اصطلاحیں دکھائی دیتی ہیں لیکن انکا مطلب و مقصد ایک ہی ہے کہ ’چہرے نہیں بلکہ نظام تبدیل ہونا چاہئے‘ اسکے مقابلے میں اصلاح پسند یہ سمجھتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کو رحم دل بنایا جا سکتا ہے۔ 19ویں اور 20ویں صدی میں منظرعام پر آئی مارکس ازم تحریک سے آج بھی اگر امیدیں وابستہ ہیں تو اسکی وجہ یہ ہے کہ اس تحریک میں مساوات‘ خوشحالی‘ امن اور آزادی کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی وقت میں حاصل ہونے والے اہداف سمجھا جاتا ہے۔اشتراکیت کو ’انسان دوست فلسفہ‘ قرار دینے والے کہتے ہیں کہ اگر کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو اس پر بحث و تکرار یا اس پر افسوس کا اظہاروقت کا ضیاع ہے کیونکہ انسان کو کم از کم اس قابل تو ہونا ہی چاہئے کہ وہ واقعات کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے ان کے مثبت و منفی پہلوؤں اور اثرات کو جان سکے لیکن یہ ہنر تب آ سکتا ہے جب کہ اشرف المخلوقات اپنی ذاتی‘ سیاسی‘ مذہبی‘ علاقائی اور قومی وابستگیوں میں جذباتی لگاؤ کی بجائے سائنسی اصولوں اور انداز میں تجزیہ کرنے کی ہمت سے کام لینے کا اہل ہو۔‘‘ انگریزی زبان میں ایسی کیفیت کیلئے آؤٹ آف باکس سلوشن کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے یعنی حالات و مشکلات کا کوئی ایسا حل جو منفرد ہو۔ چند روز قبل‘ جب عوام کو بذریعہ ذرائع ابلاغ اڑتی اڑتی خبر ملی کہ حکومت عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے قرضہ لے گی۔

جس پر حکومت کے حامی اور مخالف الجھ بیٹھے۔ لفظی تکرار شروع ہوئی جس میں اقرار و انکار کے پہلو یکساں شامل تھے! عام آدمی کی سمجھ میں بات اسوقت آئی جب حکومتی وفد آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے روانہ ہوا‘ اور ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں یکایک اضافہ کر دیا گیا لیکن جو ایک بات اب بھی سمجھ نہیں آ رہی وہ یہ ہے کہ پاکستان پر مسلط حکمراں طبقہ وہی ہے‘ سیاسی جماعتوں کے نظریات اور سیاسی اصول وہی ہیں اور کوئی ایسا نظریہ یا اصول تخلیق نہیں کیا گیا جو عام آدمی کی بہتری سے متعلق ہو۔ سبھی جماعتیں اور ان کے قائدین دھن‘ دولت اور سرمایہ داری نظام کو حتمی اور ابدی سمجھتے ہیں‘ وہ ان اخلاقیات اور قدروں کے مالک ہیں جنکے مطابق عزت و مرتبت‘ شرافت و مقبولیت‘ پسندیدگی‘ احترام‘ پیروی حتی کہ تعلیم و صحت اور صاف پانی جیسی بنیادی ضروریات پر بھی صرف سرمایہ داروں کا حق ہے اور یہ سرمایہ داروں کے لئے مختص و مخصوص ہونی چاہئے‘حیرت کا مقام ہے کہ سامراجی نظام سے وقتی طور پر نکلنے کا واحد راستہ بھی یہی سوجھا ہے کہ سامراجی مالیاتی اداروں سے بھیک مانگی جائے‘ آؤٹ آف باکس سلوشن پیش نہ کرنیوالوں کو اس بات پر تعجب کا اظہار بھی نہیں ہونا چاہئے اگر ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی آئی ایم ایف کا رویہ کرخت ہو اور وہ کڑی شرائط عائد کرے‘نجکاری پروگرام ہو یا ٹیکس انفراسٹرکچر میں تبدیلیاں‘ آئی ایم ایف حد سے زیادہ سختی کرے گی کیونکہ اسکے لئے ترجیح انسان نہیں بلکہ استحصالی نظام ہے‘ اگر پاکستان میں ماضی کے حکمرانوں نے اپنے وسائل کو نہیں بلکہ سامراجی نظام کو اہمیت دی۔

نمودونمائش کی بھیڑ چال میں قومی رہنماؤں نے اپنے مالی اثاثے اور اہل و عیال کو مغربی ممالک میں رکھا تو اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان پر حکمرانی تو ہر کوئی کرنا چاہتا ہے لیکن پاکستان کے مستقبل کے ساتھ اپنا مستقبل وابستہ کرنے کیلئے کوئی آمادہ نہیں! کسی ایسے کردار کوقائد کیونکر قرار دیا جا سکتا ہے‘ جو اپنے اہل و عیال بیرون ملک زیادہ محفوظ اور آزاد سمجھتا ہو!؟ المیہ یہ بھی ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح تحریک انصاف بھی بلاامتیاز احتساب کے ذریعے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے یا ضبط کرنے کی بجائے قرضوں کے ذریعے اقتصادی استحکام لانے کی خواہاں ہے‘وقت ثابت کریگا کہ یہ تحریک انصاف کی سب سے بڑی بھول ہوگی آئی ایم ایف جیسے سامراجی ادارے پر انحصار کیساتھ اقتصادی بہتری لانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے اور پاکستان یہ تجربہ کئی مرتبہ کر چکا ہے جس میں ناکامی اس وجہ سے ہوتی رہی کیونکہ بدعنوانی کے امکانات ختم نہیں کئے گئے غربت کو شکست دینے کیلئے کسی بھی ملک کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جس میں قدر مشترک یہی ملے گی کہ ان معاشروں نے بدعنوانی کو باعث ہلاکت سمجھااور فلاح پا گئے لیکن جہاں بدعنوانی اور بدعنوانوں سے انس رکھا گیا‘ انہیں آئین میں استثنیٰ دیا گیا اور امتیازی قوانین کے ذریعے بااثر افراد سے سزا کی بجائے مصلحت و گنجائش سے معاملہ کیا گیا‘ وہاں جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام ہر دن مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا۔