366

افغان امن:ْ خواہشات کی منزل

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے دانت کھانے کے اور لیکن دکھانے کے اور ہیں! نئی بات یہ ہے کہ امریکہ کی افغان پالیسی میں تبدیلی کے حالیہ آثار خوش آئند اور پاکستان کے نکتہ نظر سے نہایت ہی اہم قرار دیئے جا سکتے ہیں کیونکہ بلاشک و شبہ خطے کا امن افغان سرزمین پر سکون سے مشروط ہے بالخصوص پاکستان میں داخلی سکیورٹی اسوقت تک بہتر نہیں ہوسکتی اور سی پیک منصوبے کی کامیابی بھی صرف اسی صورت ممکن ہے جبکہ امن کے دشمن اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہ کریں! رواں ہفتے اہم ترین پیشرفت اسلام آباد میں حکومت پاکستان اور امریکی وفد کے درمیان ہونے والے مذاکرات تھے‘ جن میں 2 اہم معاملات پر بات چیت ہوئی یعنی افغانستان کے بارے میں جینیوا کانفرنس کے انعقاد اور افغان امن و استحکام کی کوششوں کو تیز کرنے پر غور ہوا‘ ان دونوں امور کا براہ راست تعلق پاکستان کی خواہشات سے بھی ہے افغانستان کے مسئلے کے پر امن حل کی کوششوں پر بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کیلئے کانفرنس کا انعقاد سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں رواں ماہ کے آخر میں ہونے جا رہا ہے جسکی کامیابی کیلئے امریکی پہلے سے زیادہ سرگرم ہیں!کیونکہ ماضی میں ہوئی ایسی کئی درجن کانفرنسوں اور پس پردہ مذاکراتی کوششوں کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ مذکورہ کانفرنس کے انعقاد میں امریکہ کا سب سے اہم کردار رہا ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے بھی ان کوششوں کی حمایت کی جارہی ہے اور پاکستان بھرپور حصہ بھی لے گا لیکن امریکی حکام جانتے ہیں کہ کانفرنسوں میں شرکت اور خندہ پیشانی سے یہ معاملہ کئی گنا زیادہ گھمبیر اور سنجیدہ عملی کوششوں کا متقاضی ہے!

فیصلہ سازوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کے دورے پر آئی ہوئی امریکی سفارتکار ایلس ویلز نے وزیر خزانہ اسد عمر سے اور وزارت داخلہ و خارجہ کے دیگر سینئر عہدیداروں اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نعمان ذکریا سے ملاقاتیں کیں‘ ان اجلاسوں میں امریکی عہدیدار ایلس ویلز نے امریکی سیکریٹری مائیک پومپیو اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے درمیان طے پانیوالے اعتماد پر مبنی مشترکہ مفاد کے تعلقات کے عزم کو دہرایا یہاں تک ہوئی پیشرفت امریکی حکام کی توقعات کے عین مطابق ہے جس میں عرب ممالک کی حصہ داری اور شرکت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر امریکہ بھارت کو دی جانیوالی حمایت میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کرے تو اس سے نہ صرف افغانستان کے محاذ پر اُسے پائیدار کامیابی حاصل ہو سکتی ہے بلکہ افغانستان سرزمین کے ایران کیخلاف استعمال کے عزائم بھی بناء نوٹس اہداف کے قریب ہو سکتے ہیں۔افغانستان میں قیام امن کے کئی فریق ہیں‘ جن میں سب سے زیادہ بنیادی خود افغان حکومت ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ مدعی سست اور گواہ چست ہو یعنی کل جہان جس بات کیلئے فکرمند ہے لیکن خود افغان پر حکومت کرنے والے جاری فساد کو ختم ہی نہ کرنا چاہتے ہوں۔

عسکریت پسندوں سے بات چیت کرنیوالی افغانستان امن کونسل کی طرف سے یہ اعلان ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہو چکا ہے کہ اس کی جانب سے چار رکنی نمائندہ وفد امن مذاکرات کیلئے روس جائے گا‘ کانفرنس میں شرکت کے لئے روس نے امریکہ‘ پاکستان‘ بھارت‘ ایران‘ چین‘ کازغستان‘ تاجکستان‘ کرغستان‘ ترکمانستان اور ازبکستان سے نمائندوں کو مدعو کر رکھا ہے لیکن یہاں سب سے تعجب خیز بات یہ ہے کہ امریکہ یہ تو چاہتا ہے کہ پوری دنیا اُس کے پیچھے دم ہلاتی ہوئی چلے اور افغانستان میں امن کی کوششوں کو اُس کی مرضی کے مطابق آگے بڑھایا جائے لیکن وہ خود ایسی کسی کوشش کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ روس میں طلب کی گئی کانفرنس میں سبھی مدعو ممالک بشمول پاکستان اپنی اپنی شمولیت کی تصدیق کرچکے ہیں بلکہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے تو ’’ضرور‘‘ کا لفظ بھی غیرضروری طور پر استعمال ہوا ہے جبکہ یہ کہنا کہ پاکستان شرکت کرے گا ہی کافی تھا! سچ تو یہ ہے کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان ہر انتہاء اور ہر حد سے آگے جانا چاہتا ہے اور اسی خلوص کو پاکستان کی کمزوری سمجھا جا رہا ہے! امریکہ کی جانب سے روسی کوششوں کا حصہ بننا اتنا ہی ضروری و لازمی ہے جتنا روس کی جانب سے امریکہ تعاون کا خواہشمند و متمنی ہے‘ خواہشات‘ توقعات اور مقاصد اپنی جگہ اہم لیکن اگر عالمی فیصلہ سازی میں ویٹو جیسی امتیازی شان رکھنے والی عالمی طاقتیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرتیں اور اپنی انا اور مفادات کوپس پشت ڈالنے کو روادار نہیں تو جان لیجئے کہ ماسکو ہو یا جنیوا‘ افغان امن کیلئے سرجوڑ کر مل بیٹھنے سے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔