348

امریکی انتخابات اورہماری جمہوریت

امریکی انتخابات سے صرف ہمارا نہیں بلکہ ساری دنیا کا براہ راست تعلق اسلئے ہوتا ہے کہ وہاں کی حکومتی پارٹی اور صدر کے فیصلوں کا اثرہم پر ہی ہونا ہوتا ہے‘امریکیوں کی صحت پر اسکا کچھ خاص اثر نہیں ہوتا صدرڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد پوری دنیا میں تبدیلی محسوس کی گئی پہلے تو صرف مسلم ممالک یا مشرق وسطیٰ ہی زیر عتاب آتا تھا اس بار یورپ بھی حیران وپریشان تھا اگرچہ حکمران ری پبلکن پارٹی کے ممبران بھی کچھ کم پریشان نہ تھے مگر پارٹی ڈسپلن اور آئین کی پاسداری پر مجبور تھے اور صدر ٹرمپ کے ناپسندیدہ فیصلوں کی بھی تائید کرتے تھے‘ ہمارے ہاں رائج جمہوریت کے برعکس امریکہ میں آدھی پارلیمنٹ وسط مدت میں منتخب ہوتی ہے‘ مقصد یہ ہے کہ حکومت کو راہ راست پر رکھا جائے اور یہ دباؤ رہے کہ دوسال بعد عوام کی عدالت میں جانا ہے ہمارے ہاں پانچ سال تک تو عوام کا کسی کو خیال ہی نہیں رہتا‘ اب وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان میں اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی نے میدان مار لیا ہے‘ ایوان میں اکثریت اپوزیشن کو مل گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ صدر ٹرمپ من مانے فیصلے نہیں کرسکیں گے بلکہ اب تو صدر کے مواخذے کا امکان بھی پیدا ہوگیا ہے‘کیونکہ صدر کے پرانے ٹیکس گوشواروں میں گھپلے موجود ہیں اگر انکی چھان بین ہوتی ہے تو صدر کا مواخذہ ممکن ہو سکے گا اور ایوان نمائندگان میں حکومت دفاع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی ‘اگر دیکھا جائے تو امریکہ یا برطانیہ میں جمہوریت کا یہی حسن ہے جو دکھا کر تیسری دنیا کے ہم جیسے ممالک کو بے وقوف بنایا جاسکتاہے۔

‘خود آئین پر سختی سے عمل کرتے ہیں پارٹی سیاست اور پارلیمانی جمہوریت میں کسی شخصیت یا خاندان کی اجارہ داری نہیں صدر کا عرصہ اقتدار چار سال ہے اور کوئی بھی صدر دوبار سے زیادہ صدر نہیں بن سکتا‘مطلب یہ کہ زیادہ سے زیادہ آٹھ سال اقتدار میں رہ سکتا ہے اگر کوئی ایک بار صدارتی الیکشن ہار جائے تو وہ تاحیات دوبارہ صدارتی انتخاب کیلئے نااہل ہو جاتا ہے صدارتی امیدوار بننے کیلئے پارٹی کے اندر طویل سیاسی جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور مختلف ریاستوں سے پارٹی کنونشنز سے منظوری حاصل کرنا پڑتی ہے پارٹی ہی اصل طاقت ہوتی ہے اور پالیسیوں پر عملدرآمد کیلئے پارلیمنٹ سے منظوری ضروری ہوتی ہے اسکے باوجود کسی کی بھی جرات نہیں کہ پولنگ میں دھاندلی کرسکے اور نہ ہی کسی میں یہ جرات ہے کہ الیکشن کمیشن پر دھاندلی کا الزام لگا سکے‘ الیکشن کے دن پولنگ پر لوگ ایسے آتے ہیں جیسے جاگنگ کرنے یا شاپنگ کرنے‘ ہر جگہ پولنگ بوتھ بنے ہوئے ہیں کوئی چھٹی نہیں ہوتی اپنے کام پر گئے وہاں قریبی پولنگ بوتھ پر جا کر اپنا ووٹ پول کرآئے‘ کوئی زبردستی نہیں نہ کوئی زوروشور کی حمایت‘ اسی لئے دشمنی نہ ہی ناراضگی‘ امریکی عوام نے بھی تبدیلی کیلئے ری پبلکن صدر کو ووٹ دیئے تھے مگر یہ تبدیلی انکی منشا کے مطابق نہیں آئی صدر ٹرمپ نے امریکی معاشرے اور عالمی تشخص کا ہلا کر رکھ دیا اگرچہ مرکزی پالیسیاں اسلام دشمنی پر ہی مشتمل ہیں مگر ماضی کے برعکس ٹرمپ نے زیادہ جارحانہ انداز اپنایا‘ خود امریکہ کو الگ تھلگ کردیا۔

اب وسط مدتی انتخابات میں عوام کو اپنے پہلے گناہ کی تلافی کا موقع ملا تو انہوں نے دیر نہیں لگائی صدر کے پرباندھ دیئے اب وہ طے شدہ اور قوم کے مزاج و خواہش کی حدود سے باہر پرواز نہیں کرسکیں گے‘صدرٹرمپ کے ایجنڈے کے کئی نکات ادھورے رہ جائینگے جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ اب ایوان نمائندگان میں صدر کا مواخذہ بھی ہو سکتا ہے اور اسکا جواز بھی موجود ہے‘صدر کے ماضی کیساتھ کئی ایسے حقائق جڑے ہیں جو انکو صدر امریکہ کے منصب کیلئے نااہل کرتے ہیں‘انکا اخلاقی معیار ہر لحاظ سے بہت پست رہا ہے صرف دولت کمانے اور عیاشی کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کیا اور اس میں بھی ہر طرح کی آئینی واخلاقی حدود کو پامال کیا ہے مختلف خواتین کیساتھ بدسلوکی کے علاوہ ٹیکس بچانے میں بھی ملوث ہیں اور امریکی عوام ہرچیز برداشت کرسکتے ہیں‘مگر اپنے صدر کو اعلیٰ اخلاقی معیار سے گرا ہوا برداشت نہیں کرسکتے‘ اسکی ماضی میں کئی داستانیں ہیں اسلئے اب صدر ٹرمپ کے لئے باقی عرصہ صدارت آسان نہیں ہوگا‘ جو من مانیاں وہ کرتے رہے ہیں ان پر پارلیمنٹ کا بند باندھ دیاگیا ہے اب شاید وہ میکسیکو کی سرحد پر وہ دیوار بھی نہ بنا سکیں جسکا بڑے جوش وخروش سے اعلان کیا تھا‘یہ ہے عوامی عدالت اور اس کا فیصلہ‘ ہم اپنے ہاں کے مروجہ جمہوری رویوں سے موازنہ کریں تو شرمندگی ہی ہوتی ہے حالیہ دنوں جو کچھ سڑکوں پر ہوا وہ کچھ کم افسوسناک نہیں تھا کہ قومی اسمبلی میں منتخب نمائندوں‘ آئین سازوں کا رویہ دیکھ کر مزید افسوس ہوتا ہے اگر سابق حکمران اپنی مرضی کیخلاف عدالتی فیصلوں کا سڑکوں پر تمسخر اڑائینگے تو عام شہری ایسا کیوں نہیں کرینگے عوام کو حکمران ہی آئین پر عمل کرنا سکھاتے ہیں جو یہاں الٹا ہوتا ہے ۔