413

قرض کی حقیقت

فضول خرچی اور خوردبرد ایسی خصوصیات ہیں‘ کہ جس کسی میں بھی پائی جائیں دنیا اس پر کم سے کم مالی اعتبار تو ہرگز نہیں کرتی‘ یہ اصول صرف افراد ہی کے لئے نہیں بلکہ حکومتوں پر بھی صادق آتا ہے‘ جیسا کہ پاکستان کہ جسے آئی ایم ایف کے ایک وفد کی جانب سے پوچھے جانے والے سخت سوالات کا سامنا ہے اور اب ہمارے حکمرانوں پر قرض کی حقیقت عیاں ہو گئی ہے کہ اسکا حاصل کرنا کس قدر دشوار ہو سکتا ہے جبکہ مارکیٹ میں آپ کی ساکھ اچھی نہ ہو! آئی ایم ایف کا قرض دینے کا طریقہ کار خاصہ دلچسپ ہے‘ دنیا کا کوئی بھی ملک جب آئی ایم ایف سے قرض چاہتا ہے تواسے باضابطہ تحریری درخواست دینی ہوتی ہے‘عام طورپرایسااس ملک کے وزیر اخزانہ ذاتی طور پرآئی ایم ایف کے دفتر میں جا کر کرتے ہیں‘اس درخواست میں قرض کے حصول کی وجہ اور اپنا ماضی کا ریکارڈ بتایا جاتا ہے تاکہ ثابت کیا جائے کہ اس ملک کیلئے یہ قرض لینا کتنا ضروری ہے اور یہ کہ ماضی میں اس ملک نے قرض لیکر اس کا درست استعمال بھی کیا اور حسب وعدہ قرض کی اقساط واپس بھی کیں۔ آئی ایم ایف اپنے اجلاس میں اس درخواست کا سرسری جائزہ لیکر قرض دینے کی اصولی منظوری دیتا ہے‘پاکستان کے معاملے میں یہ دونوں مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور اب تیسرا مرحلہ درپیش ہے یعنی کہ اس درخواست کا جائزہ لیا جا رہا ہے‘ آئی ایم ایف صرف ان ملکوں کو قرض جاری کرتا ہے جو معاشی بحران کا شکار ہوں۔ آئی ایم ایف کے قیام کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایسے ملکوں کی مدد کرنا جو معاشی بحران سے دوچار ہوں تاکہ وہاں معاشی استحکام لانے اور معاشی پالیسیاں بہتر بنانے کا موقع مل سکے‘آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پاکستان آیا اور سب سے پہلے اس نے سمجھنے کی کوشش کی کہ پاکستان کو کس قسم کے معاشی بحران کا سامنا ہے۔

اسکے لئے وہ پاکستانی خزانے کی بیلنس شیٹ کا جائزہ لے گا تاکہ پتہ چل سکے کہ پاکستانی خزانے میں کل کتنے پیسے ہیں اور اخراجات کتنے ہیں؟اسی سے اندازہ ہو جائیگا کہ پاکستان کو درپیش معاشی بحران کتنا سنگین ہے‘جب یہ بات طے ہو جائیگی کہ پاکستان کو واقعی پیسوں کی اشد ضرورت ہے اور آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر یہ بحران ختم نہیں ہو گا اسکے بعد آئی ایم ایف یہ طے کریگا کہ حکومت کو وہ کیا اقدامات کرنے چاہئیں جس سے یہ بحران ٹل سکے‘ جب آئی ایم ایف یہ طے کرتا ہے کہ قرض لینے والے ملک کو اپنے معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے بعض اقدامات کرنے چاہئیں‘ تو وہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ وہ ملک یہ اقدامات ضرور کرے۔ ان اقدامات کو یقینی بنانے کیلئے آئی ایم ایف یہ اقدامات کرنے کی حکومت سے تحریری یقین دہانی لیتا ہے۔ انہی کوآئی ایم ایف کی شرائط کہا جا سکتا ہے یہ شرائط اس معاہدے کا حصہ ہوتی ہیں جس کے تحت قرض جاری کیا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف تنگ نظر ادارہ ہے جو اپنی ترجیحات کے مطابق ممالک کی معاشی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ اسکے پاس دنیا بھر کے ملکوں کے معاشی بحرانوں کو حل کرنے کا ایک ہی فارمولا ہے اور وہ فارمولا ہمیشہ ایک سا رہتا ہے جو کہ آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے‘ اسلئے جو لوگ بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں ۔

وہ جان لیں کہ ہر بیماری کا علاج کسی ایک دوا سے نہیں ہوتا بلکہ الگ الگ بیماریوں کیلئے الگ الگ اور ایک سے زیادہ ادویات دی جاتی ہیں‘ اسی طرح صرف ادویات ہی نہیں بلکہ جراحت کی ضرورت بھی ہوتی لہٰذا اگر پاکستان میں پائی جانے والی بدعنوانی جس سے کسی کو انکار بھی نہیں اور اسکی جراحت نہیں کی جاتی تو آئی ایم ایف کے قرض سے خاطرخواہ اقتصادی فوائد حاصل نہیں ہوں گے‘ آئی ایم ایف حکام ہمیشہ برآمدات بڑھانے‘ شرح سود بڑھانے‘ سبسڈی ختم کرنے‘ مقامی کرنسی کی قدر اور بجٹ خسارہ کم کرنے جیسے اقدامات بطور علاج تجویز کرتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی ڈھانچہ ہے جس کے گرد آئی ایم ایف کی شرائط گھومتی ہیں اور پاکستان کے لئے بھی اس نوعیت کی شرائط ہوں گی اس مایوس کن صورتحال میں خوشخبری یہ ہے کہ چین نے پاکستان کیساتھ تجارت کیلئے اپنی اپنی کرنسیوں کو استعمال کرنے کا معاہدہ کیا جس سے پاکستان کے پاس ڈالرکے ذخائر پر بوجھ کم ہو جائیگا اور پاکستان چین کے علاوہ دیگر ممالک کو ادائیگیاں آسانی سے کر سکے گا‘ اسی بناء پر وزیراعظم عمران خان کی کوشش رہی ہے کہ آئی ایم ایف کی بجائے وہ کسی دوست ملک سے حسب ضرورت کچھ قرض لیکر کام چلائیں تاکہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے بچا جا سکے اور کوئی اگر نہیں جانتا تو جان لے کہ عوام کی مالی استطاعت کم ترین حدوں کو چھو رہی ہے۔