327

سیاست و معاشت کیلئے مثال

یہ ایک المیہ ہی ہے کہ ہمارے ملک کے اندر کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں غربت‘ افلاس اور بے چارگی کا یہ عالم ہے کہ صومالیہ اور افریقہ کے قحط زدہ علاقے یادآجاتے ہیں‘پاکستانی قحط زدہ علاقوں میں تھر زیادہ متاثر ہے جہاں ہر جاندار کیلئے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے حالانکہ تھر سے صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں منتخب ارکان ہیں بلکہ سندھ حکومت میں تھر کے نمائندے شامل ہیں مگر ایک طرف صوبائی حکومت کے گوداموں سے گندم غائب ہوجاتی یاپھر لاکھوں بوریاں خراب ہوجاتی ہیں مگر ان کا ایک دانا بھی بھوک زدہ انسانوں کے کام نہیں آتا‘ یقیناًپاکستان میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جن پر خداکے فضل و کرم اور نعمتوں کی فراوانی ہے اور ان میں سے ایسے بھی موجود ہیں جواللہ کی طرف سے عطا کئے گئے وسائل کو اللہ کی مخلوق پر بے دریغ خرچ کرتے ہیں ان کو جس مقام پر بھی ایسی صورتحال کی اطلاع ملے تو ضرورت کا سامان لیکر پہنچ جاتے ہیں‘ ان میں سینیٹر طلحہ محمود سب سے نمایاں ہیں جو اپنے کاروبار سے حاصل منافع کا بیشتر حصہ انسانیت کی خدمت پر خرچ کرتے ہیں ‘یہ شام و عراق کے بے خانماں خاندان ہوں یا صومالیہ اور کینیا کے فاقہ زدہ عوام یا پھرپاکستان کے اندر قدرتی آفات یا حکومتی چشم پوشی کے باعث بھوک وافلاس کا شکار عوام‘ گزشتہ دنوں سینیٹر طلحہ محمود روزمرہ استعمال کاراشن لیکر تھر کے علاقے میں گئے انہوں نے تھرپارکرکے مختلف مقامات پر متاثرین میں فوڈ پیکج تقسیم کئے ‘طلحہ محمود فاؤنڈیشن کے تحت ہزاروں افراد کو اوسطاً ایک ماہ کے راشن کے پیکٹ تقسیم کئے گئے‘ اسکے علاوہ انہوں نے سول ہسپتال مٹھی کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے مریضوں کی عیادت کی اور ساتھ ہی نقد رقوم بھی تقسیم کیں۔

مٹھی کا سول ہسپتال بچوں کی اموات کے حوالے سے مشہور ہے‘ تھرکے علاقے میں بھوک کیساتھ پیاس کا بھی راج ہے خشک سالی تو ہے ہی‘ پینے کا پانی بھی مشکل سے ملتا ہے سینیٹر طلحہ محمود نے مختلف آبادیوں میں پینے کے پانی کیلئے طلحہ محمود فاؤنڈیشن کے صاف پانی پراجیکٹ کے تحت کئی سولر ٹیوب ویل بھی نصب کروائے ہیں جن کا اسی دورے میں افتتاح کیا‘ یہ وہ کام ہیں جو حکومت کی ذمہ داری ہے مگر جہاں حکومت بھی کچھ نہ کر رہی ہو وہاں کسی سیاسی مفاد یا نام ونمود کی خواہش کے بغیر اگر کوئی ہزاروں خاندانوں میں ضروریات زندگی تقسیم کرتا ہے تو وہ یقیناخراج تحسین کا حقدار ہے‘ حالانکہ اس کام کا اصل اجر اللہ کریم ہی عطا کرتا ہے جو اس دنیا میں وسائل میں خیروبرکت اور فراوانی کی صورت میں ہے تو اگلے جہاں میں بھی یقیناًنجات وفلاح کا باعث ہوگا پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں لوگ کثیر تعداد میں خیرات تقسیم کرتے ہیں مگر افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ ان کا زیادہ حصہ این جی اوز لے لیتی ہیں جہاں مانیٹرنگ کا مناسب نظام نہ ہونے کے باعث ضائع ہو جاتا ہے یا ان این جی اوز کے رضا کاروں کے ذاتی مراعات میں خرچ ہو جاتا ہے‘ سینیٹر طلحہ محمود بھی کئی سال اپنے حصے کے عطیات ایسی ہی فلاحی تنظیموں کے ذریعے تقسیم کرتے رہے جس کا بہت کم حصہ اصل مستحقین اورمتاثرین تک پہنچ پاتا۔

انہوں نے مایوس ہونے کی بجائے یہ نیک کام اپنے ہاتھوں سے سرانجام دینے کا فیصلہ کیا اس کام کو منظم اور قوانین کے دائرے میں رکھنے کیلئے طلحہ محمود فاؤنڈیشن قائم کی جسکی فلاحی سرگرمیوں کیلئے تمام وسائل وہ خود یا ان کی فیملی کے افراد فراہم کرتے ہیں ‘ طلحہ محمود نے اپنے وقت کو استعمال کرنے کا منفرد فارمولاطے کر رکھا ہے وہ اپنی سرکاری‘ پارلیمانی ‘قومی سماجی اور کاروباری ذمہ داریاں بڑی خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہیں یہ ایک آئیڈیل اوقات کار کی تقسیم ہے جہاں تک تھرپار کرکے علاقے میں اس صورتحال کا تعلق ہے تو پچھلے گیارہ سال سے وہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اسلئے اسکی ہر لحاظ سے ذمہ داری پیپلز پارٹی پر عائد ہوتی ہے سینیٹر طلحہ محمود کا تعلق ایک ایسی مذہبی سیاسی جماعت سے ہے جس نے کبھی بھی سندھ میں حکومت نہیں کی مگر محض انسانیت کی خدمت کا جذبہ ہے جو انکو وہاں بھی لے جاتا ہے جہاں کوئی سیاسی مفاد پیش نظر نہیں ہوتا ایسے لوگ ہماری سیاست کی ضرورت ہیں جو اپنے وسائل کو انسانوں پر بے دریغ خرچ کرتے ہیں۔