366

تعلیمی صنعت!

نجی تعلیمی اِداروں سے متعلق والدین منطقی مؤقف رکھتے ہیں‘ 1: تعلیمی دہشت گردی کا جاری سلسلہ بند ہونا چاہئے‘ 2: ٹیوشن فیسیں کم ہونی چاہئیں۔ اِن دونوں بنیادی مطالبات کا تعلق ’تعلیمی اداروں کے بارے میں حکومتی قواعد و ضوابط‘ سے ہیں‘ جن میں اِس قدر خامیاں ہیں کہ اُن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کے طول و عرص میں درس و تدریس کے عمل کو ’غیراعلانیہ طور پر‘ ایک صنعت کی حیثیت مل گئی ہے‘ جس میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو دیگر صنعتوں کے مقابلے کئی ہزار گنا زیادہ منافع مل رہا ہے! اگر درس و تدریس کا عمل صنعت ہی ہے تو اِسے کاروباری درجہ دے کر صنعتوں پر لاگو ہونے والے جملہ قواعد و ضوابط کا اطلاق بھی اِس شعبے پر ہونا چاہئے اور جس طرح کسی صنعت کو لگانے کیلئے اجازت بھی مشروط ہوتی ہے اور صنعتیں رہائشی علاقوں میں نہیں لگائی جاتیں۔ صنعتی کارکنوں کے حقوق کا اطلاق سکولوں کے اساتذہ و دیگر عملے پر بھی ہونا چاہئے‘ حکومت کی جانب سے نجی سکولوں سے یوٹیلٹی بلز صنعتی صارفین کے تناسب سے وصول کئے جاتے ہیں‘ اگر نجی تعلیمی ادارے صنعت ہی ہیں تو اُن سے صنعتی اصولوں پر مکمل معاملہ کیوں نہیں ہوتا لیکن چونکہ صنعتوں سے تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتیں بھی حکومت ہی کی منظوری سے مقرر ہوتی ہیں‘ اِس لئے فراہم کردہ سہولیات کی بنیاد ’نجی تعلیمی اداروں‘ کی زیادہ سے زیادہ فیسوں کی شرح مقرر ہونی چاہئے۔

اِس سلسلے میں بھارت میں ہوئی پیشرفت اور قانون سازی سے رہنمائی لی جا سکتی ہے!سپریم کورٹ آف پاکستان میں نجی سکولوں کی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ’’سکولوں کی فیسوں کا میکانزم طے کرنا پڑے گا۔‘ ایک کمرے کے سکول کس طرح تعلیم کا فروغ کر رہے ہیں؟‘‘ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3رکنی بینچ نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے لیکن مسئلہ جوں کا توں ہے کیونکہ نجی تعلیمی اداروں نے ’تگڑے وکلاء‘ کے ذریعے سیدھے سادے معاملے کو اِس قدر اُلجھا دیا ہے کہ اب عدالت کی سمجھ میں بھی نہیں آ رہا‘ ؔ صورتحال یہ ہے کہ عدالت کی نظر میں حکومت‘ نجی سکول اور والدین تین فریق ہیں لیکن حقیقت میں فریق صرف ایک ہی ہے اور وہ ہیں نجی سکول۔ ہر دور حکومت میں نجی سکولوں کے مالک‘ حصہ دار یا شراکت داروں کی ایک بڑی تعداد قومی و صوبائی اور سینیٹ قانون ساز ایوانوں کی رکنیت حاصل کرنے کیلئے قانون سازی اور فیصلہ سازی میں شریک ہوتی ہے‘ اِسلئے عوام سراسر نجی اِداروں کے رحم و کرم پر ہیں اور عدالت جس قدر چاہے تشویش کا اظہار کرے ہوگا وہی جو سیاسی فیصلہ ساز نجی اداروں کے مفاد میں کرینگے‘ کیس کی سماعت کے دوران ایک موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن کا یہ کہنا معنی خیز ہے اور اشارہ ہے کہ عدالت وہ کچھ بھی جانتی ہے‘ جس کا اظہار نہیں کر رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ ’’فرانزک آڈٹ کیلئے وفاقی محتسب نے جتنا وقت مانگا ہے وہ زیادہ ہے فرانزک آڈٹ میں یہ تعین کرنا ہے کہ نجی سکول کتنا کماتے ہیں‘ اس میکنزم پر فیس کے میکانزم کا تعین ہونا ہے۔‘‘ بات کو جاری رکھتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عبوری رپورٹ میں کچھ نظر نہیں آرہا۔

سیکرٹری لاء کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ ’’والدین اور سکولوں کے وکلاء کا ’’ٹی او آرز‘‘ پر اتفاق ہے‘ فیسوں میں ’’سالانہ آٹھ فیصد‘‘ اضافے پر فریقین کسی حد تک متفق ہیں! جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ فیس میں سالانہ اضافہ طے کر لیا جائے کیونکہ اَفراط زر میں اِضافہ ہوتا رہتا ہے لیکن یہ اضافہ قابل جوازہونا چاہئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ’’فیس کے مسئلے کے حل کیلئے کمیٹی بنائی تھی‘ لگتا ہے کمیٹی سے مسئلہ حل نہیں ہوتا‘ کمیٹی کا اجلاس بلا لیں میں خود صدارت کروں گا۔ جس میں کھل کر بات ہوگی‘ فیس میں اضافے کا طریقۂ کار طے کرنا پڑے گا۔ سکولوں کی حسب سہولیات فیسوں کا تقرر ایک ایسا نکتہ ہے جس پر نجی ادارے زیادہ بات کرنا نہیں چاہتے تو بحث کو کسی نہ کسی بند گلی میں لے جاتے ہیں۔ عدالتی ریمارکس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ’’کراچی میں ایک خاتون نے 56سکول کھول رکھے ہیں‘‘ چونکہ اِس قسم کا کوئی قانون موجود نہیں کہ کوئی شخص کتنے سکول کھول سکتا ہے کیونکہ عدالتی فیصلہ صرف اور صرف قانون کے مطابق ہوگا اور قانون نہایت ہی کمزور بلکہ ناکافی ہے! ایک طرف والدین بلک رہے ہیں‘ دوسری طرف عدالت فیصلہ نہیں کر پارہی۔

تیسری طرف حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جبکہ نجی سکولز فیسوں میں ہر سال من مانے اضافے کرتے چلی جا رہے ہیں! عدالت عظمی نے اٹھارہ ستمبرسے نجی سکولوں کی فیس سے متعلق ملک بھر کی ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کی رجسٹریوں میں زیر سماعت مقدمات کا ریکارڈ طلب کر رکھا ہے‘ جو مکمل طور پر فراہم نہیں کیا جا رہا۔ کیا رکاوٹ ہے کہ ’پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی طرز پر ملک گیر سطح پر ایک ایسی ’مرکزی ریگولیٹری اتھارٹی‘ نہیں بنائی جا سکتی جو جملہ سرکاری اور نجی سکولوں کی فیسوں اور درس و تدریس کے عمل‘ اساتذہ و طلباء کی رجسٹریشن اور امتحانی نظام و نتائج پر نظر رکھ سکے؟ مقدمہ حل ہونے کی بجائے پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا جا رہا ہے۔ آخر نوبت اِس بات تک آ چکی ہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ فریقین آپس میں مل بیٹھ کر کسی نتیجے پر پہنچیں باقی کا فیصلہ عدالت کر دے گی‘ سوال یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جنہیں والدین کی جانب سے بطور فریق نمائندگی دی جا رہی ہے‘ وہ سکولوں ہی کے نمائندے ہوں۔