385

سیاست کے جھوٹ

پاکستان کے موجودہ اور ماضی کے سیاسی فیصلہ سازوں میں صرف ایک ہی بات کا فرق تھا کہ ماضی میں قول کا پاس رکھا جاتا تھا اور آج افعال اقوال کے تابع نہیں‘ 1950ء سے 1970ء تک ہر دہائی کے معروف قائدین بشمول حسین شہید سہروردی‘ میاں افتخارالدین‘ خان عبدالغفار خان‘ جی ایم سید‘ شیخ مجیب الرحمن‘ ابو الاعلیٰ مودودی‘ شاہ احمد نورانی‘عبدالستار خان نیازی‘ خان عبدالولی خان‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ میر غوث بخش بزنجو اور نواب اکبر خان بگٹی کے نظریات سے کوئی کتنا ہی اختلاف کرے لیکن انکی شخصیت اور سیاست کے اس روشن و نمایاں پہلو کا بہرحال اعتراف کرنا پڑے گا کہ یہ سب اپنے کہے کا پاس رکھتے تھے اور ایک بار جو بات بول دیتے تھے یا لکھ دیتے تھے تو اسے سیاسی بیان قرار دے کر رد نہیں کیا کرتے تھے۔ ماضی کے سیاسی قائدین لفظ آشنا بھی ہوتے تھے اور انہیں الفاظ کی حرمت بھی اپنی جان و ساکھ کی طرح ہی عزیز رہتی تھی کہ برسوں نہیں دہائیاں کیمپوں اور کال کوٹھریوں میں گزار دیں حتیٰ کہ پھانسی گھاٹ پہنچ گئے لیکن اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے! نواب اکبر خان بگٹی اپنی آخری عمر تک فخریہ بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بارہ سال کی عمر میں پہلا قتل کیا تھا۔ شیخ مجیب الرحمان نے چھ نکات کا جو بیڑہ اٹھایا تو لاکھوں کا خون بہاکر آزادی حاصل کی ذوالفقار علی بھٹو نے تاشقند ڈکلیئریشن کی تھیلی سے جو بلی نکالی‘ اس نے پنجے مار مار کر ایوبی آمریت کو لہولہان کردیا۔روٹی کپڑا اور مکان کا وہی نعرہ پیپلز پارٹی آج تک بیچ بھی رہی ہے اور اسی نعرے سے کھا بھی رہی ہے!

یہ ساری تمہید اسلئے باندھی گئی کہ ہماری موجودہ سیاسی قیادت رات کے پہر میں جو بیان دیتی ہے‘ ابھی اخبارات میں اس کی سیاہی اور سکرینوں پر بازگشت سنائی ہی دے رہی ہوتی ہے کہ پیچھے پیچھے تردید کی لائن چل رہی ہوتی ہے۔ اسی لئے آج کی سیاست اور صحافت دونوں ہی عوام کی نظروں میں اپنی قدر کھو رہے ہیں! اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہمارے رہنما ہونے کے دعویدار ایسی ایسی سیاسی اصطلاحات اپنے مخالفین کیخلاف استعمال کرتے ہیں جو انہوں نے برس دو برس پہلے ہی اپنے ذاتی اور سیاسی مفاد میں ایجاد و استعمال کی ہوتی ہیں‘ وزیراعظم عمران خان نے عام انتخابات سے پہلے الیکٹ ایبلز کو نہ لینے اور آئی ایم ایف کے مانیٹرنگ پروگرام کا حصہ نہ بننے کے وعدہ بھی کیا اور دعوی بھی کیا کہ اس سے تو بہتر خودکشی ہے لیکن ایسی سیاسی قلابازی لگائی کہ عوام داد دینے سے زیادہ مہنگائی کی لہر سے پریشان ہیں کہ کم سے کم اس کی توقع عمران خان سے نہیں تھی!تحریک انصاف کی طرح پیپلزپارٹی کی قیادت بھی کسی سے پیچھے نہیں آصف علی زرداری کے اس بیان پر بیک وقت ہنسی اور روناآتا ہے کہ عمران خان بھی نواز شریف کی طرح ڈیل کے نتیجے میں اقتدار میں آئے ہیں اور جو کوئی بھی ڈیل کرکے حکومت میں آتے ہیں انہیں پھر سمجھوتے تو کرنے ہی پڑتے ہیں!

ڈیل کے حوالے سے میں آغازذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو سے بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے اور اقتدار کے دوران کیسی کیسی مصلحتوں سے کام لیا مگر پاکستانی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو سے خاص عقیدت رکھی جاتی جبکہ انکی صاحبزادی نے سیاسی قربانیاں دیکر جو مثال قائم کی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ آصف زرداری کا معاملہ‘ کھلاڑیوں کے کھلاڑی کی ذہانت و فطانت کا ایک زمانہ معترف ہے مگر بصد احترام یہ بات کم سے کم ان کو قطعی زیب نہیں دیتی کہ وہ اپنے مخالفین پر ڈیل کا الزام لگائیں معذرت کیساتھ لیکن اگر محترمہ بینظیر بھٹو سے ان کی شادی نہیں ہوئی ہوتی‘ جو کہ یقیناًپاکستان کی سیاسی تاریخ کا ناقابل فراموش حادثہ تھا تو وہ قطعی طور پر مرد اوّل نہ بن سکتے۔ خیر آصف علی زرداری کی جماعت کی پہلی باضابطہ ڈیل 1988-89ء میں ہوئی جب اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کو اپنا صدر اور صاحبزادہ یعقوب علی خان کو وزیر خارجہ قبول کرنے کیساتھ ساتھ ایک ڈیل کے نتیجے میں ایم کیو ایم کی کڑوی گولی نگلی‘ یہ درست ہے کہ دس سال کی جیل‘ جلاوطنی اور کوڑوں جیسی سزاؤں کے سبب جیالوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا ۔

جس سے پیپلزپارٹی کی قیادت کو یہ مہنگا سودا کرنا پڑا مگر ممتاز بھارتی صحافی کرن تھاپڑ نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ’لندن میں محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک سے زائد بار اس بات کا اعتراف کیا کہ 1989ء میں ڈیل کے ذریعہ اقتدار میں آنا‘ انکی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی‘ غلطی مانی یا نہیں مانی۔ غلطی قرار دیا تھا یا نہیں لیکن بہرحال ڈیل ہوئی! اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی اسوقت کی اسٹیبلشمنٹ سے اگر راضی نامہ نہ کرتی تو آصف علی زرداری کا شاندار سیاسی و درخشاں مستقبل کبھی بھی ظہورپذیر نہ ہوتا۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر جھوٹ کی سیاست اور سیاست کے جھوٹ کب تک چلیں گے؟ سیاسی رہنما نئی نسل کے ہیرو ہیں‘ جن کے ہر ایک لفظ کو بطور امانت وصول کرنے والی نوجوان نسل اپنی عملی زندگی میں وہی کچھ کاٹے گی‘ جو سیاسی رہنما ماضی و حال میں بو رہے ہیں! کیا جمہوریت ایک ایسے نظام کا نام ہونا چاہئے جس میں عوام کی یاداشت کمزور ہی نہیں بلکہ سرے سے موجود ہی نہیں ہونی چاہئے؟ کیا ماضی کو بھول کر ہم مستقبل کے چیلنجز سے نمٹ سکتے ہیں؟ کیا سب کچھ بھولا جا سکتا ہے؟ ’’یاد ماضی عذاب ہے یارب ۔۔۔ چھین لے مجھ سے حافظہ میرا۔ (اختر انصاری)‘‘