374

طاہرداوڑکی المناک شہادت

خیبرپختونخوا پولیس کی پیشہ ورانہ خدمات کیساتھ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں دلیرانہ کردار سے تو پہلے ہی ملک بھر کی پولیس سے ممتاز مقام رکھتی تھی‘شہادتوں کی تعداد میں بھی سینئر افسران سے لیکر سپاہی تک ایک قابل فخر داستان ہے مگر ایس پی طاہر داوڑ کی بے بسی اور بے کسی کی شہادت ایک الگ ہی المیہ ہے‘ شہید افسر نجی مصروفیات کیلئے اسلام آباد میں واقع اپنے گھر میں آئے ہوئے تھے شام کو گھر سے نکلے اور پھر واپس نہیں آئے ‘کہا جاتا ہے کہ گھر والوں کو انکا ایک ایس ایم ایس ملا کہ وہ مصروف ہیں فارغ ہو کر آجائینگے مگر نہ وہ آئے نہ ہی ٹیلی فون پر رابطہ ہو سکا‘اس گمشدگی پر اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کی پولیس فورسز بھی کوشش کرتی رہیں مگر کوئی سراغ نہ لگایا جاسکا بلکہ اسلام آباد سیف سٹی جیسے مہنگے نظام کی فعالیت پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں‘بہرحال طاہر داوڑ کے گم ہونے کے بعد پہلی بار دو دن قبل افغانستان میں طاہر داوڑ کی لاش کی تصویریں سوشل میڈیا پر آئیں پہلے تو حکومت نے اس پر شک کا اظہار کیامگر پھر افغانستان نے تصدیق کردی کہ یہ لاش گمشدہ ایس پی کی ہے ساتھ ہی سروس کارڈ بھی پڑا تھا افغان انتظامیہ نے لاش قبضہ میں لیکر پہلے تو جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے حوالے کی مگر طورخم پر پیش آنیوالے افسوسناک واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ لاش افغان حکام کے پاس ہی تھی۔

کیونکہ لاش وصول کرنے کیلئے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریارآفریدی اور صوبائی وزیر اطلاعات موجود تھے مگر تمام ترسفارتی اور اخلاقی حدود کو توڑتے ہوئے افغان حکام نے لاش ریاستی نمائندوں کے حوالے کرنے سے انکار کردیا حالانکہ کئی افغان شخصیات پاکستان میں قتل ہوئیں تو انکی میت باعزت طریقے سے حوالے کی گئی مگر ایک سرکاری افسر کی نامعلوم حالات میں افغانستان کے اندر قتل پر معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کی بجائے افغان حکام نے عجیب و غریب موقف اختیار کیا اور جرگے کو لاش دینے کا مطالبہ کیا چنانچہ پاکستانی حکام نے میت کے تقدس کے پیش نظر کسی قسم کی انا کا مسئلہ بنائے بغیر ہی مشران کو بلالیا اور اس طرح شہید ایس پی کی لاش وصول کرلی‘ بعد میں پورے سرکاری اعزاز کیساتھ نماز جنازہ اور تدفین کا عمل مکمل ہوا‘ پاکستان نے اس غیر مناسب رویہ پر افغان قونصل جنرل کو وزارت خارجہ میں بلاکر سخت احتجاج کیا ہے اور اس رویے کو پاکستان کے اندر انتشار پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے‘ جہاں تک طاہر داوڑ کا تعلق ہے تو یہ حاضر سروس پولیس آفیسر تھے ایک عمومی تھریٹ تو ہر افسر کو ہوتا ہی ہے اور اسی لئے انکے ساتھ باڈی گارڈ ضرور رہتا ہے مگر طاہر شہید نے نجی مصروفیات کے دوران گارڈ کبھی ساتھ نہیں رکھا۔

کہاجاتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد میں ہی طاہر شہید کے بھائی اور بھاوج کو بھی پراسرار حالات میں قتل کردیاگیا تھا‘ ہوسکتا ہے کہ یہ کسی ذاتی دشمنی میں ہونیوالا قتل ہو مگر اسلام آباد سے اغوء کرکے افغانستان لے جانا‘ پھر وہاں کسی مطالبے کے بغیر قتل کردینا ایک افسوسناک المیہ ہے‘اس میں پاکستان کے سکیورٹی انتظامات میں نقائص کا پتہ چلتا ہے اور پھر افغان حکومت نے جو رویہ اختیار کیا ہے یہ بھی کئی سوالات اٹھا رہا ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید خرابی پیدا ہوئی ہے‘ پاکستان کو افغان انتظامیہ سے وضاحت لینی چاہئے اور اس بات کا کھوج بھی لگانا چاہئے کہ اس اغواء اور قتل میں افغان خفیہ ایجنسی تو ملوث نہیں ہے افغانستان کو اس موقع پر‘ جبکہ طالبان سمیت خطے کے ممالک کے درمیان امن کیلئے جامع مذاکرات ہو رہے ہیں اس قسم کے رویئے سے اجتناب کرنا چاہئے تھا مگر انہوں نے جان بوجھ کر غیر سفارتی انداز اپنایا اور اس سے پاکستان کے اندر بے چینی اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی ہے‘ بہرحال اس افسوسناک واقعہ کی ہر پہلو سے تفتیش ہونی چاہئے تاکہ پختون خطے میں پائی جانیوالی بے چینی دور ہو سکے‘ اللہ شہید طاہر داوڑ کو جنت میں اعلیٰ مقام دے۔