309

احتساب کو احتساب ہی رہنے دیں

احتساب ایک مسلسل عمل ہے اور یقیناًمستحسن بھی ‘ مگر ہمارے ہاں ہمیشہ پسندوناپسند پراحتساب ہوتاہے اور عموماً اپوزیشن ہی نشانہ بنتی ہے‘ حکومت نے شریف فیملی پر کرپشن کے4 مزید کیسز نیب کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے سابق حکمران خاندان پہلے ہی عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہا ہے اگر حکومت مزید کیس بھی کرتی ہے تو اس سے شریف فیملی کی مشکلات بڑھنے کی بجائے کم ہو جائینگی کیونکہ ایک ہی خاندان پردرجنوں کیسزسے احتساب ویسے ہی مذاق اور انتقام بن کر رہ جائے گا کسی بھی سیاسی شخصیت کیلئے یہی بات فائدہ مند ہوتی ہے کہ اس پر مقدمات مشکوک ہو جائیں یہ بھی حالات کی ستم ظریفی ہے کہ احتساب کا ادارہ میاں نوازشریف نے ہی بنایا تھا اور جس طرح آج وزیراعظم کے خصوصی معاونین پریس کانفرنس میں شریف خاندان کی کرپشن کی کہانیاں سنارہے ہیں 1997 میں نوازشریف کے مشیر اور احتساب بیورو کے سربراہ اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو اور انکے خاوند کی کرپشن کی فائلیں دکھاتے اورنئے مقدمات درج کرنے کا اعلان کرتے تھے نہ بے نظیر بھٹو پر کوئی کیس ثابت ہوا اور نہ ہی اب نوازشریف وغیرہ پر ثابت ہوگا‘ چند روز اقتدار کی بات ہے۔

پھر یہی نیب اورنئے ملزم ہونگے ‘مستقبل کے نئے ملزمان کون ہونگے یہ زیادہ مشکل سوال نہیں‘ یہ سچ ہے کہ عمران خان کا یہ پہلا موقع ہے کہ وہ اقتدار میں آئے مگر بالواسطہ طورپر وہ5 سال خیبرپختونخوا میں برسراقتدار رہے ہیں جہاں انکی حیثیت حکومت کے نگران کی رہی ہے‘ اس دوران کوئی سرکاری عہدہ نہ رکھنے کے باوجود کئی بار اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی صدارت کرتے رہے احکامات دیتے رہے اور ہیلی کاپٹر سمیت صوبائی وسائل استعمال کرتے رہے اسکے علاوہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر بھی منصوبوں میں گھپلوں کی شکایات منظر عام پر آئیں جو کوئی بھی اقتدار میں آتا ہے اس پر الزام بھی لگتا ہے حتیٰ کہ علماء کرام اورمشائخ بھی اگر حکومت میں آئے تو الزامات کی پٹاری ساتھ لیکر گئے‘ اس طرح موجودہ حکومت کے وزراء کی طرف سے دوسروں کو چور چور کہنا اور ہر وقت ایک ہی پیمانہ اٹھائے رکھنا ضروری نہیں ‘احتساب کے ادارے کو فری ہینڈ دے دیں اور اس کے نتائج کا انتظار کریں اگر حکومت اپوزیشن کو احتساب کے شکنجے میں کھینچنے کے اعلانات کریگی تو اس سے یہی سمجھا جائیگا کہ نیب پر دباؤ ڈال رہی ہے جبکہ ہمارے ہاں حال یہ ہے کہ کراچی کے ایک ہسپتال میں چیف جسٹس صاحب نے شراب کی بوتلیں برآمد کیں مگر یہ شراب ثابت نہیں ہو سکی‘ کسی الزام کو ثابت کرنا بہت مشکل ہے۔

اسکے باوجود شریف فیملی اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نوازشریف سیاست سے نااہل ہو چکے‘ شہباز شریف جیل میں ہیں دونوں کے بچے نیب میں حاضریاں دے رہے ہیں اس سے زیادہ کیا سزا ہو سکتی ہے ان سے غلطیاں ہوئی ہونگی اور ہو سکتا ہے کہ کرپشن بھی کی ہو اسی لئے تو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہیں مگر اب تک صرف شریف فیملی ہی احتساب کے شکنجے میں آسکی ہے کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی سارے سیاستدان اور بااختیار لوگ نیک اورپاک ہیں‘ نیب کے پرکیوں جلنے لگتے ہیں حکومت میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ماضی میں دوسری حکومتوں کا حصہ رہے ان کا ریکارڈ بھی دیکھ کر ساتھ ملایا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا عمران خان کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ اب فرشتے کہاں سے لاؤں ان ہی لوگوں سے نظام چلانا ہے‘ اگر ایسا ہے تو دوسروں سے بھی فرشتہ ہونے کی توقع نہیں رکھنی چاہئے کیونکہ ان ہی کے ساتھی تحریک انصاف میں آکر پاک ہوگئے ہیں‘ جو چار نئے ریفرنسز دائر کرنیکا اعلان کیاگیا ہے ان میں ایک تو شہباز شریف اور مریم نواز کے وزیراعظم کیلئے مختص ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا ہے جبکہ ایک وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کی ذاتی رہائش گاہ جاتی عمرہ کی حفاظت کیلئے اٹھنے والے اخراجات ہیں‘ یہ ایسے الزامات ہیں جو موجودہ وزیراعظم پر بھی لگ سکتے ہیں خیبر پختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر عمران خان ذاتی اور سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتے رہے جبکہ آج بنی گالہ میں سکیورٹی سٹاف کی اضافی نفری تعینات ہے ۔

ہو سکتا ہے کہ شریف خاندان نے شاہانہ انداز سے حکمرانی کی اور اس طرح ریاستی وسائل زیادہ خرچ ہوئے ہوں مگر اہم ریاستی شخصیات کی سکیورٹی بھی تو ضروری ہے اگر شریف فیملی کے گزشتہ دس سال کے کھاتے کھل سکتے ہیں تو آج تاڑنے والی نگاہیں زیادہ تیز ہیں اور زیادہ باریکی کیساتھ حکمرانوں کے معاملات دیکھے جا رہے ہیں موجودہ حکومت سے عوام کو بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں ان میں سے ایک بے لاگ احتساب کی توقع بھی ہے عوام نے عمومی طورپر بااثر لوگوں کے احتساب کا خیر مقدم کیا ہے مگر یہی احتساب اگر جانبداری پر مائل نظر آئے تو اس سے سارا تاثر زائل ہو جاتا ہے شریف فیملی کے احتساب کو انتقام سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ کسی دوسرے کا احتساب بھی شروع ہو ایک ہی خاندان پر پے درپے مقدمات اور ریفرنسز سے احتساب کا عمل مشکوک ہو جاتا ہے ضروری ہے کہ اس عمل کو حکمرانوں کی خواہشات سے پاک کیا جائے۔