389

خوبصورتی کی تلاش

عزم‘ حوصلہ اور تخلیقی صلاحیتیں ہوں تو خوابیدہ جذبہ تعمیر کو بیدار کیا جا سکتا ہے۔ ایبٹ آباد کی ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی نمائندوں کی منفرد کوشش لائق داد ہے‘ جنہوں نے ملک کے مختلف حصوں سے مصوری میں مہارت رکھنے والے 200 سے زائد نوجوانوں کو موقع فراہم کیا کہ وہ سرعام اپنی مہارت کا مظاہرہ کریں‘ رواں ماہ مکمل ہونیوالی مصوری کے اس فری سٹائل مقابلے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جو درودیوار مختلف اداروں کے تشہیری مواد کی وجہ سے بدنما دکھائی دے رہے تھے انہیں جاذب نظر بنایا جا سکے اور ماضی میں اگر کسی مقصد سے کوئی وال چاکنگ کی بھی گئی تھی تو وقت گزرنے کیساتھ اسکی چاشنی باقی نہیں رہی جس سے پیدا ہونیوالا تاثر یکساں ماحول کی آلودگی کا باعث بن رہا ہے‘شہر کی مصروف اور آس پاس سے بے نیاز زندگی کو ایک نیا رنگ‘ ایک نئی زندگی اور نئی امنگ دینے کی اس کوشش سے زندگی کو بامعنی بنانے میں مدد مل سکتی ہے‘ لیکن اگر علاج جاری رہے‘طبیب وقتی طور پر توجہ کرنے کے بعد نظریں پھیر نہ لے اور وہ سبھی وجوہات جن کی وجہ سے عارضہ لاحق ہوا تھا اگر موجود رہتی ہیں تو شفایابی اتفاق تو ہو سکتی ہے‘ طریقہ علاج نہیں!

یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ وقت نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ جب جب اور جہاں جہاں حکومتی اداروں نے نوجوانوں کی سرپرستی کی‘ انکی صلاحیتوں پر اعتماد کیا‘ انہیں کچھ کر دکھانے کے مواقع فراہم کئے‘ توحب الوطنی سے سرشار نئی نسل نے موقع سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور درحقیقت یہی وہ خاصہ اور اثاثہ ہے کہ جس پر جس قدر فخر کیا جائے‘ کم ہے پبلک آرٹ کیلئے ایبٹ آباد کے چار مقامات کا انتخاب کیا گیا‘ ان میں شاہراہ قراقرم کا مرکزی حصہ‘ جناح آباد روڈ‘ پشاور ہائی کورٹ بنچ عمارت کے بالمقابل اور متصل جگہیں اور منڈیاں کے مقام پر منتخب دیواروں پر فن مصوری کے ایسے شاہکار بنائے گئے‘ جن کے ہر رنگ اور ہر نکتے سے امن و محبت ٹپک رہا ہے۔ اپنی نوعیت کی اس منفرد کوشش کا حجم اگرچہ کم رکھا گیا جو قطعی منطقی نہیں لیکن بہرحال یہ کوشش ضرور کامیاب قرار دی جاسکتی ہے کہ چند دیواریں ہی سہی لیکن کم سے کم ایبٹ آباد کے رہنے والوں اور سیاحوں کے گیٹ وے اس شہر سے گزرنے یا مختصر قیام کرنے والوں کو تبدیلی کا پیغام ضرور ملے گا‘ وہ توجہ کریں گے‘ سوچیں اور چاہیں گے کہ اپنے ساتھ تصویر کی شکل میں ان یادگاروں کو لیجائیں‘سوشل میڈیا کے زمانے میں اگر کوئی ضلعی حکومت اس قسم کی کشش کا اضافہ کرتی ہے تو یہ ایک قابل قدر و ذکر کاوش ہے‘ جس میں پیغام بھی پنہاں ہے کہ اگر ہم چاہیں تو گردوپیش کو خوبصورت بنا کر پیش کر سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اگر ہمارے فیصلہ ساز چاہیں! وقت ہے کہ اِس مرحلہ فکر پر ان فیصلہ سازوں کی کارکردگی پر بھی نظر کی جائے جنکی عدم توجہی کے باعث ایبٹ آباد کے درودیوار آلودہ ہوئے اور یہ شہر اس حال کو پہنچا کہ اب درویوار پر آویزاں خرابی دور کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

اسباب کیا ہیں؟ حالیہ عام انتخابات اور تعلیمی اداروں میں ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی داخلے شروع ہونے کے اعلانات‘کوچنگ کلاسز‘ونٹرکیمپس اور انٹری ٹیسٹ کی تیاری کروانیوالی اکیڈمیز کے اعلانات حسب معمول جابجا لکھے گئے۔ ماضی میں پراسرار اور ناقابل بیان بیماریوں کے علاج‘ امراض کی خوفناک علامات‘ جنات قابو کرنے‘ جادو اور محبوب کو قدموں میں لا پٹخنے جیسے دعوے بھی انہی دیواروں پر لکھے جاتے تھے لیکن جب سے الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کی نظریں ہر ایسی خبر پر ٹکنا شروع ہوئی ہے تو ایسے جعلسازوں کی کاروائیاں انڈرگراؤنڈ چلی گئی ہیں اگر ایبٹ آباد کی انتظامیہ اور بلدیاتی نمائندوں نے صرف چار پبلک مقامات پر نمائش کا اہتمام کیا تو اس سے پائیدار نتائج برآمد نہیں ہوں گے کیونکہ اصل مسئلہ یعنی بیماری کا سبب اپنی جگہ موجود ہے‘ جس کی وجہ سے بہتری کی کوششیں چاہے بڑے پیمانے پر بھی ہوں‘ ناکافی ہی ثابت ہوں گی۔ ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد فیاض علی شاہ کو سرکاری مالی وسائل پر فیاضی کا ثبوت دینے کیساتھ اپنی اورماتحت اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہئے‘ جن کی وجہ سے تعلیمی اداروں کا شہر‘ سیاحتی مقامات کا گیٹ وے مقام ’ایبٹ آباد اور گلیات کے درویوار آلودہ دکھائی دیتے ہیں‘جہاں خالص دودھ اور پینے کا صاف پانی جیسی بنیادی ضروریات عام آدمی کو میسر نہیں‘وہاں درودیوار کے رنگ کیا معنی رکھتے ہیں۔ کچھ ایسا کرنا پڑے گا جس سے عام آدمی کی زندگیوں میں رنگ بھر جائیں۔