320

صدر ٹرمپ کی پھر ہر زہ سرائی

امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس لحاظ سے ہمارے محسن ہیں کہ انہوں نے سابقہ صدور کی طرح دھوکے نہیں دیئے بلکہ امریکہ کی سوچ کو کھل کر بیان کیا ہے‘ اگرچہ وہ جب سے صدر بنے ہیں بھارت کیساتھ اپنے ہمدردانہ تعلقات اور پاکستان کے بارے میں مضحکہ خیز الزامات لگا کر ہمیں اپنی بقا کیلئے دوسرے ممالک کی طرف دیکھنے اور دنیا میں نئے دوست اور نئے امکانات تلاش کرنے پر مجبور کر رہے ہیں‘ اب تازہ بیان میں ایک بار پھر وہی بات دہرائی ہے کہ پاکستان نے امریکہ کیلئے کچھ نہیں کیا پاکستانی قیادت امریکی لیڈروں کو بے وقوف سمجھتی رہی‘اسامہ بن لادن کو چھپا کر رکھا اور ہم سے امداد بھی لیتے رہے‘ یہ ایسے الزامات ہیں جو امریکہ‘ افغانستان اور بھارت ایک تسلسل کیساتھ دہراتے رہتے ہیں مگر حقائق اسکے بالکل برعکس ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف پاکستان ہی ہے جو طالبان اور دیگر دہشت گردوں کیخلاف موثر جنگ لڑرہا ہے اور اس میں بڑی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں‘ اسکے برعکس امریکہ‘ افغانستان اور بھارت نے دہشت گردوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں دے رکھی ہیں بلکہ انکی مدد اور پشت پناہی بھی کر رہے ہیں بھارت کی صرف پاکستان سے دلچسپی ہے اور اسی لئے صرف افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے ہمارے خلاف دہشت گرد تیار کر رہا ہے۔

افغانستان اپنی زمین اور دیگر سہولیات دے رہا ہے جبکہ امریکہ افغانستان کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں بھی داعش اور دیگر دہشت گرد پال رہا ہے اور اپنے مقاصد کیلئے افغانستان میں بھی داعش کو پاؤں جمانے کی جگہ اور موقع دے رہا ہے‘ حال ہی میں پاکستان کے ایک پختون پولیس آفیسر کو اغواء کرکے افغانستان لے جایا گیا اور پھر وہاں قتل کردیاگیا اس پولیس آفیسر کی میت کی حوالگی کے موقع پر افغان حکام نے جس شرمناک رویئے کا مظاہرہ کیایہ اس قتل میں افغانستان کے ہاتھ اور افغان حدود میں پاکستان کے دشمنوں کی حمایت کا واضح ثبوت ہے‘جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی پر الزام لگانے سے پہلے یہ تو بتائے کہ اسامہ بن لادن اور دیگر عرب مجاہدین کو افغانستان لایا کون تھا‘1980 کے عشرے میں ان مجاہدین کو دنیا کے عظیم محسن کا خطاب کون دے رہا تھا اور وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں انکی کون پذیرائی کرتا تھا‘ یہ بھی بتایا جائے پاکستان کوسوویت یونین کیخلاف جنگ پر آمادہ کس نے کیا اور افغانستان کو میدان جنگ کس نے بنایا اگر حساب کرنا ہے تو وہاں سے کیا جائے جب امریکہ اپنی جارحانہ سوچ کیساتھ اس خطے میں آیا اور اب دیکھا جائے تو امریکہ کون سے طالبان کیخلاف جنگ لڑ رہا ہے اور کن کو تلاش کر رہا ہے‘ وہ تو طالبان کی منتیں کر رہا ہے کہ وہ مذاکرات کریں اور افغانستان میں حکومت سنبھالیں‘ حال ہی میں پاکستان میں زیر حراست کئی طالبان کو امریکہ نے آزاد کرایا کہ وہ مذاکرات شروع کروائیں جبکہ پاکستان نہ صرف ان طالبان کیخلاف جنگ لڑرہا ہے بلکہ انکو اپنے ملک سے نکال دیا ہے بلکہ ان سے ملک کو محفوظ بنانے کیلئے سرحد پرباڑ لگارہا ہے سرحد پر آمدورفت کو محفوظ بنارہا ہے‘ امریکہ نے تو یہاں فوجی آپریشن کے وقت فرار ہونیوالے طالبان کو افغانستان میں پناہ دے رکھی ہے انکو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال کر رہا ہے‘ یہ سب کچھ اب کوئی خفیہ مشن نہیں رہا بلکہ ساری دنیا کو نظرآرہاہے۔

اسکے باوجود صدرٹرمپ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے سے باز نہیں آتا‘ عجیب منافقانہ طرز عمل ہے کہ جب بھی امریکہ سے کوئی فوجی وفد یا سفارتی وفد آتا ہے تو وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے جس نے اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا70 ہزار جانوں اور40کھرب سالانہ مالی نقصان معمولی نہیں اور یہ سب امریکہ کی فرمائشی جنگ میں‘ جو اب ہمارے گلے پڑ گئی ہے اس جنگ اور معاشی خسارے سے نکلنے کیلئے پاکستان ہر کوشش کر رہا ہے افغانستان میں امن کیلئے قربانیاں دے رہا ہے مگر وہاں پر موجود بھارت نہ امن قائم ہونے دے رہا ہے اور نہ ہی افغانستان کو پاکستان کیساتھ مذاکرات کرکے غلط فہمیاں دور کرنے کا موقع دے رہا ہے جب بھی دونوں ممالک کی قیادت قرب آنے لگتی ہے’ را‘ کوئی دہشت گردی کروا کر شکوک پیدا کر دیتی ہے اور اس سے امریکہ بھی باخبر ہے مگر خطے میں بھارت کی بالادستی قائم کرنے‘ چین کی اقتصادی پیش قدمی روکنے اور پاکستان کے استحکام کو سبوتاژ کرنے کے مقصد کیلئے جو کردار بھارت اداکر رہا ہے اسکا الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے مگر صدر ٹرمپ کا یہ رویہ اور اظہار خیال ہمارے لئے ایک اچھا شگون ثابت ہوا ہے کہ پاکستان نے دنیا میں نئے دوستوں پر توجہ دینا شروع کر دی ہے اور چین کیساتھ ساتھ روس سے مراسم بڑھانے‘ بالخصوص دفاعی تعاون بڑھانے پر پیش رفت ہو رہی ہے دو سال ہوئے ہیں صدر ٹرمپ نے پاکستان کی امداد بند کر رکھی ہے اسکے باوجود پاکستان چل رہا ہے اور اپنی بساط سے بڑھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی لڑ رہا ہے افغانستان میں امن کیلئے بھی تعاون کر رہا ہے مگر اس کے بدلے میں بدگمانی اور بدنامی ہی مل رہی ہے‘ پاکستان کی موجودہ پالیسی پاکستان کے مفاد میں اور پاکستان خود بنارہا ہے اسی لئے امریکہ کو تکلیف ہے مگر اسی میں پاکستان کی بقا ہے۔