346

قرض کے ساتھ آنے والی خواری

پاکستان کو مسلمہ عالمی مالیاتی ادارے قرض دیتے ہیں تو اپنی پوری تسلی کرنے اور معیشت کی بہتری کے لئے تجاویز نما شرائط بھی ساتھ رکھتے ہیں۔ جیسے ان دنوں آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان آئی ہوئی ہے جو 7 نومبر سے ایف بی آر اور وزارت خزانہ کے حکام کے ساتھ تفصیلاً مذاکرات کر رہی ہے، شرائط بتا رہی ہے اور پاکستانی حکام یہ شرائط نرم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ میں اس کے متوازی ہمیں امداد یا قرض ملنے کا ایک پراسرار اور غیر روایتی راستہ بھی ہے، یہ ایسا ہی ہے جس طرح ہر پاکستانی کی خواہش بلکہ امید ہوتی ہے کہ خدا کسی نامعلوم ذریعہ سے اسے دولت دے دے گا، اس لئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومتیں بھی اسی سوچ پر چلتی ہیں۔ 2013 میں مسلم لیگی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اقتصادی حالت پتلی تھی، پھر اچانک پتہ چلا کہ سعودی عرب نے ایک ارب ڈالر کا تحفہ (یا عطیہ) دیا ہے، وزیر خزانہ سے پوچھا گیا کہ کن شرائط پر اور کیوں اتنی بڑی رقم دی گئی تو کچھ واضح نہیں بتایاگیا، بہرحال حکومت کے ساتھ عوام بھی خوش ہوگئے یاد آیا کہ اس موقع پر موجودہ وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب جاکر پیسے مانگنے کو قابل شرم قرار دے کر حکمرانوں پر غصہ کیا تھا، اب پھر نئی حکومت کے پاس اقتصادی حالت سدھارنے کیلئے سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، اس وقت حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک اعصابی اور نفسیاتی جنگ جاری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ آئی ایم ایف کیساتھ فائنل معاہدہ طے ہونے تک کہیں سے 10 ارب ڈالر مل جائیں تو سخت شرائط کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں۔ جبکہ آئی ایم ایف کا وفد اپنا دورہ لمبا کرکے حکومت کو وقت دے رہا ہے کہ جتنا چاہو بھاگ لو ہماری رضامندی اور اشارے کے بغیر کوئی کچھ نہیں دے گا اور عملاً بھی یہی ہو رہا ہے، اگر چہ سعودی عرب کے جس پیکیج کے ملنے پر کامیابی کی مٹھائی تقسیم کی گئی تھی۔

اس کا ابھی ایک ارب ڈالر مل چکے ہیں۔ چین کے دورے پر چہل پہل تو بہت ہوئی مگر واپسی پر بتایاگیا کہ چین سے کیا ملا یہ نہیں بتا سکتے۔ وزیر خارجہ تو ناراض ہوگئے کہ ہر دورے سے واپسی پر یہ سوال کیوں کیا جاتا ہے کہ امداد ملی یا نہیں۔ انہی حالات میں ایک دن پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دوبئی گئے اور دوسرے دن وزیراعظم اپنی ٹیم کے ہمراہ پہنچ گئے مگربات تجارتی تعلقات بڑھانے کے جذبات تک ہی محدود رہی جبکہ دوسری طرف آئی ایم ایف کی ٹیم نے اپنی شرائط کو مزید سخت اورناگزیر کرلیا ہے اب یہ عوام کا مقدر ہے کہ ان کو کن کن مدّات سے نشتر مارے جاتے ہیں۔ جہاں تک آئی ایم ا یف کے ساتھ ہمارا تجربہ ہے اس کے مطابق بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ تو پہلی شرط ہوتی ہے اور ٹیکس نیٹ بڑھانا دوسری اور ان کی زد میں صرف غریب اور متوسط طبقہ آتا ہے، بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں کے ساتھ ہی ہر ضرورت کی شے کا تعلق ہے اور یہ بلامبالغہ جامع مہنگائی کی کنجی ہے ۔ یہاں یہ بات بھی واضح ہو کہ حکومت کو تو صرف یہ شرائط قبول کرنا ہوتی ہیں مگر عوام کو یہ بھگنا ہوتی ہیں جو بہتر مستقبل کی نوید کے ساتھ مسلط کی جاتی ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ موجودہ حکمرانوں نے ماضی کی روایت کے مطابق عیاشیاں ختم کر دی ہیں‘ فضول خرچیاں بند ہوگئی ہیں اس لئے اب یہ امید موجود ہے کہ ٹیکس سے جمع ہونے والا پیسہ حکمرانوں اور ان کے خاندان پر نہیں بلکہ عوام پر خرچ ہوگا مگر جس طرح حکومت کی حالت پتلی ہے اور وہ قرض کی قسطیں ادا کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتی جس کے لئے مزید قرض لینا ضروری ہے، اسی طرح عوام پر بھی اب مزید بوجھ اونٹ پر آخری تنکا ثابت ہوسکتے ہیں بہرحال حکومت نے دیکھ لیا ہے کہ ہمارے دوست بھی آئی ایم ایف کی مرضی کے خلاف کوئی مدد نہیں کرتے، آئی ایم ایف امریکہ کی مرضی پر چلتا ہے اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی خطرہ ہے کہ حکومت پیکیج قبول کرنے پر مجبور ہو عوام کو لاکھ تسلیاں دی جائیں مگر وہ اب نئی شرائط کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں اس پر تو سب کا یقین ہے کہ خدا دینا چاہے تو چھپرپھاڑ کر دیتا ہے مگر یہ چھپر پھاڑنے کا تجربہ کچھ اتنا خوشگوار نہیں ہوتا، اس کے لئے سیلاب آتاہے یا زلزلہ، تب دوسرے ممالک شرائط کے بغیر امداد یتے ہیں اللہ ہم پر رحم کرے اور اپنے وسائل سے گزارہ کرنے کی ہمت دے ۔