484

یہاں وہاں100: دن!

پاکستان اور ملائیشیا کی سیاسی قیادت کے درمیان پائی جانیوالی ایک مماثلت یہ بھی ہے کہ یہاں اور وہاں حکومتیں بدعنوانی کے خاتمے جیسے انتخابی نعروں کے ذریعے اقتدار تک پہنچیں‘ یادش بخیر ملائیشیا کے چودہویں عام انتخابات میں کامیابی سمیٹنے کیلئے مہاتیر اور انکی اتحادی سیاسی جماعتوں نے ایک سو دن کا دس نکاتی ایجنڈا پیش کیا‘ جسکے اہداف بظاہر ناممکن لیکن عوام میں مقبول عام تھے لہٰذا اسی کی بنیاد پر انتخابات جیسے امتحان کا سامنا کیا گیا اور عوام کو مسلسل یہ یقین دلایا جاتا رہا کہ مہاتیر کی قیادت میں مذکورہ اہداف باآسانی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ مذکورہ دس نکاتی میں شامل تھا کہ حکومت جنرل سیلز ٹیکس ختم کرے گی پٹرول کی قیمت میں توازن لائے گی اور پٹرول پر سبسڈی دے گی‘ وفاقی غیر ضروری قرض ختم کئے جائیں گے‘ گھریلو خواتین کیلئے روزگار منصوبے شروع کئے جائیں گے‘ قومی سطح پر کم از کم اجرت کے قانون کو بہرصورت لاگو کیا جائے اور کم از کم ماہانہ اجرت میں اضافہ کیا جائیگا‘ گریجویٹس کی تنخواہ چار ہزار ملائیشین رنگٹ سے کم ہے‘ ان کی تعلیم کی خاطر لئے گئے قرضوں کی ادائیگیوں کو التوا میں ڈال دیا جائیگا اور قرض لیکر واپس نہ کرنیوالوں کو مالیاتی اداروں کی جانب سے بلیک لسٹ کرنے کی پالیسی ختم کی جائیگی‘ ملکی اداروں کو نقصان پہنچانیوالے تمام سکینڈلز کی تحقیقات اور ان اداروں کے نظام میں اصلاحات لانے کے لئے تفتیشی کمیشنز بنائے جائیں گے‘ ۔

ملائیشیا ایگریمنٹ 1963ء کو اسکی اصل حالت میں لاگو کرنے کیلئے خصوصی کمیٹی بنائی جائے گی‘ صحت سے متعلق پالیسی کو جانچا جائیگا اور کم آمدن والے افراد کے علاج سے متعلق نئی پالیسی نافذ کی جائے گی‘ ملائیشیا کے تمام بڑے منصوبوں کی تعمیر سے متعلق بیرون ملک دیئے گئے ٹھیکوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ عوام کی نظر میں یہی دس نکاتی ایجنڈا ملائیشیا کی اقتصادیات کو سہارا دینے کے لئے بہترین حل تھا دیکھتے ہی دیکھتے مقبول ہوا‘ مہاتیر اور انکی اتحادی جماعتیں 9مئی 2018ء کو انتخاب جیت گئیں جسکے نتیجے میں مہاتیر ملائیشیا کے ساتویں اور دنیا کے معمر ترین وزیراعظم منتخب ہونے کا اعزاز اپنے نام کر گئے۔ عام انتخابات جیتنے کے بعد ملائیشین حکومت کے سامنے سب سے بڑا پہاڑ پہلے ایک سو دن تھے۔ کام شروع ہوا‘ اور تمام تر کوششوں اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پہلے ایک سو دنوں میں صرف 2 وعدے ہی مکمل ہو سکے‘ تین وعدوں پر کام شروع کیا اور باقی پانچ نکات ملتوی کر دیئے گئے پاکستان کی طرح وہاں بھی حزب اختلاف‘ ذرائع ابلاغ اور عوام کے ایک طبقے نے حکومت سے استفسار شروع کردیا اور جھوٹ بولنے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع ابلاغ نے تو گویا یلغار کر کے یہ ثابت کرنیکی کوشش کی کہ مہاتیر نے قوم کو دھوکہ دیا ہے‘مہاتیر کی حکومت نے الیکشن جیتنے کے لئے سو دن کے جو وعدے کئے وہ سیاسی تھے‘ عملی نہیں تھے۔ عملی وعدوں کی تکمیل کیلئے وقت کا تعین کر لینا خسارے کا باعث ہوتا ہے حزب اختلاف کی جماعت نے عوام کو اشتعال دلایا کہ جو حکومت سو دن کے منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکی وہ باقی وعدے بھی مکمل نہیں کرسکے گی ۔


دوسری طرف مہاتیر کی پارٹی نے اقتدار کے روایتی رویئے کا مظاہرہ کیا جس سے عوام کی بے چینی بڑھنے لگی‘ لوگ اضطراب کا شکار ہوئے اور حکومت کیخلاف تحریک چلانے کیلئے سرگوشیاں ہونے لگیں۔ مہاتیر محمد نے معاملے کی نزاکت کو محسوس کیا اور قوم سے سچ بولنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بیان دیا کہ ’میں مانتا ہوں کہ ہم نے آپ سے 100دن میں 10وعدے پورے کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اب میں تسلیم کرتا ہوں کہ ان وعدوں کی تکمیل میں 100سے زیادہ دن لگیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ عوام میری مشکل اور مسائل کی شدت کو سمجھیں گے اور مجھ پر یقین رکھیں گے‘مہاتیر کا یہ سچ عوام میں مقبول ہوگیا! ملائیشیا کے دو تہائی ووٹرز نے مہاتیر حکومت کو مثبت ریٹنگ دی اور اکتہر فیصد نے کہا کہ وہ حکومت سے مطمئن ہیں‘ اگرچہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مہاتیر کی رفتار سست ہے‘ وہ آہستہ چل رہے ہیں لیکن صحیح راستے پر ہیں یہی بات پاکستان کو بھی سیکھنی ہے کہ تبدیلی کے نعروں اور وعدوں پر عملدرآمد کی رفتار بھلے ہی سست رہے لیکن صحیح راستے پر پیشرفت ضروری ہے‘ مہاتیر کی سچائی نے عوام کے دلوں میں حکومت کیلئے اعتماد بحال کیا اور اگر یہی کلیہ اپنایا گیا تو عمران خان سمیت تحریک انصاف کیلئے اپنائیت میں اضافہ قطعی مشکل نہیں۔ مہاتیر کے قوم سے سچ بولنے کی حکمت عملی نے انہیں پوری دنیا کے سیاستدانوں اور رہنماؤں کیلئے مثال بنا دیا ہے‘ جنہوں نے قول و فعل سے ثابت کیا ہے کہ آپ عوام کے سامنے صرف سچ رکھ دیں تو یہ برے سے برے حالات میں بھی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آج کی تاریخ میں رہنما وہی ہے جو مصلحت کی آڑ میں جھوٹ نہ بولے اور اگر کبھی کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو عوام کے سامنے اس کا اقرار کرتے ہوئے معافی مانگ لے۔