536

کرتار پور سرحد کھولنے کا فیصلہ

بھارت نے بالآخر پاکستان کی ایک تجویز کو تسلیم کرکے سکھ کمیونٹی کے مقدس مقامات تک رسائی آسان بنانے کی راہ ہموار کردی ہے‘ وزیراعظم عمران خان نے اپنی وزارت عظمیٰ کی تقریب حلف برداری میں شریک سابق کرکٹر نوجوت سدھو کے مطالبے پر نارووال کے قریب سرحدی مقام کرتارپور سے سرحدی راہداری بنانے کی پیشکش کی اس راستے سے بھارتی سکھوں کو گوردوارہ دربار صاحب اور ننکانہ تک آسان اور سستی رسائی ممکن ہوسکتی ہے مگر ہر اچھی تجویز اور امن کی کوشش پر انکار کرنے والے بھارت نے اس تجویز کو بھی ابتدائی طورپر ردکردیا تھا بلکہ نوجوت سدھو کیخلاف بھی نفرت انگیز مہم چلائی گئی تھی مگر بھارت نے اس پر کھلے دماغ کیساتھ غور کیا تو دیکھا کہ اس میں بھارتی سکھوں کا ہی فائدہ ہے اور پھر کابینہ نے منظوری دیکرپاکستان کو آگاہ کردیا‘اب28نومبر کو وزیراعظم عمران خان راہداری اور چیک پوسٹ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھیں گے جبکہ سرحد تک بھارت سڑک تعمیر کرے گا‘ سکھوں کیلئے سب سے مقدس مقامات‘ گورونانک کا جنم استھان اور پنجہ صاحب پاکستان میں واقع ہیں ‘اسلئے سکھ یہاں آتے ہیں اور شاید یہی بھارت کی ہندو اکثریت کو پسندنہیں‘ وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ کم سے کم سکھ پاکستان آئیں ‘یہ زیارت کیلئے ویزے اور آمدورفت کی سہولت ایک معاہدے کے تحت ہے جسکے مطابق پاکستان میں سکھ‘ ہندو اور بدھ مذاہب کے مقدس مقامات کی یاترہ کیلئے ہندوستان کے شہریوں کو اجازت دی جاتی ہے جبکہ بھارت میں مسلمان بزرگوں کے عرس کے مواقع پر پاکستانی زائرین کو ویزے جاری ہوتے ہیں مگر بھارت ہمیشہ ہی پاکستانی زائرین پر پابندیاں لگاتا رہتا ہے اورعام طورپر اجازت نہیں دیتا اسکامقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ اسکے ردعمل میں پاکستان بھی سکھ یاتریوں پر پابندی لگادے مگر تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان نے سکھوں پر کبھی دروازے بند نہیں کئے البتہ یہ کیا ہے کہ بھارت نے خود ہی سکھوں پر پابندی لگادی اسکے باوجود کینیڈا‘ امریکہ اور یورپ سے ہزاروں سکھ جنم دن تقریبات اور بیساکھی میلہ کے موقع پر پاکستان آتے رہے ہیں‘ سکھوں کی اہم ترین اور مقدس ترین جگہ ننکانہ ہے جہاں سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کی جائے پیدائش ہے ۔

اس جگہ واہگہ بارڈر سے آنا سکھوں کو نسبتاً دور پڑتا تھا اور انکا دیرینہ مطالبہ تھا کہ کرتارپور والا راستہ کھولا جائے مگر بھارت ہمیشہ اس تجویز یا مطالبے کی مخالفت کرتا تھا پاکستان کو بھی جگہ جگہ سرحدی کراسنگ پوائنٹ بنانا پسند نہیں تھا مگر موجودہ حکومت نے مذہبی آزادیوں کے احترام کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر محمد نورالحق قادری کی تجویز کو پسند کیا اس طرح نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان میں رہنے والے سکھوں کو بھی خوشی دیدی‘ وزیر مذہبی امور نے اس جانب مزید پیش رفت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو توہین مذاہب کو روکنے کیلئے پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر توہین مذہب کیخلاف جامع اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے یہ پہلی بار ہے کہ حکومتی سطح پر یہ بات اقوام متحدہ کے فورم پر کہی گئی‘ سکھوں کے علاوہ بدھ مت اور ہندومت کی بھی اہم اور مقدس زیارات پاکستان میں ہیں‘ چکوال کے قریب راج کٹاس کے مندر اور تالاب ہندوؤں کے قدیم ترین مقامات ہیں پاکستان نے ان کو بحال کیا ہے اور قریب سیمنٹ فیکٹریوں کی وجہ سے تالابوں میں پانی خشک ہونے کا سپریم کورٹ نے بھی سخت نوٹس لیا ہے اگر بھارت اپنے ہی شہریوں کی روحانی تسکین اور تالیف کیلئے توجہ دے تو یہاں بھی ہزاروں ہندو آسکتے ہیں۔

مگر بھارتی عصبیت اپنے ہی شہریوں کے آڑے آجاتی ہے‘ اسی طرح ٹیکسلا سے برآمد ہونیوالی بدھ مت کی نوادرات مہاتما بدھ سے تعلق رکھنے والی قدیم ترین اشیاء ہیں گزشتہ سال حکومت نے خیر سگالی کیلئے نیپال میں یہ نوادرات بھیجی تھیں جہاں مذہبی تقریب میں عوام نے ان کی زیارت کی پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ یہاں رہنے والے غیر مسلم شہری اور غیر مسلموں کی قابل احترام جگہوں کی حفاظت کی جائے اور ان کو ہرطرح کی مذہبی آزادی میسر ہو مگر افسوس کہ بھارت غیر ہندو اقلیتوں کیلئے ایک تنگ نظر اور پریشان کن ملک بن چکا ہے جہاں مسلمانوں کو اپنی عبادت اور قربانی کرنے کی بھی اجازت نہیں اور کشمیر میں مسلمان اکثریت کو ریاستی دباؤ سے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے یہ حالات بھی دنیا کو نظرآنے چاہئیں اور بھارت وپاکستان کے درمیان اقلیتوں کو مذہبی آزادی اور سہولت دینے کا بھی موازنہ کرنا چاہئے اب کشمیر میں ریاستی اسمبلی توڑ کر گورنر راج کی راہ ہموار کی جارہی ہے جو کشمیری مسلمانوں پرجاری تشدد کو تیز کرنے کی کوشش ہوگی‘یہ دنیاکو بے وقوف بنانے کیلئے کشمیریوں پر الزامات بھی لگاتا ہے مگر اصل مقصد مسلمانوں کو نسل کشی ہے‘بہرحال پاکستان اپنی اخلاقی اور عالمی ذمہ داریاں ہمیشہ پوری کرتا آیا ہے۔