289

ہسپتالوں میں صفائی؟

وفاقی دارالحکومت میں قائم بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے انسانی صحت کے لئے مضر سالڈویسٹ کوہسپتال کے اندر ہی جلانے کا انتظام کرلیا ہے اس پراجیکٹ سے متعلق میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بجلی اور گیس پر چلنے والی بھٹیوں کی درآمد سے ہسپتال کو سالانہ 10 ملین روپے کی بچت ہوگی یہ رقم مضر سالڈ ویسٹ اٹھانے کے لئے کمپنی کو ادا کی جارہی ہے یہ کمپنی 80 روپے کلو گرام کے حساب سے کچرا ٹھکانے لگانے کا وصول کرتی ہے جبکہ محفوظ کچرا سی ڈی اے والے ہی اٹھاتے ہیں پمز کے لئے خریدی جانے والی مشینری ایک گھنٹے میں 80 سے 100 کلوگرام ویسٹ کو جلاسکتی ہے خیبرپختونخوا میں گزشتہ دور حکومت سے ہی صحت کے شعبے کو حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیا جارہا ہے حکومت نے اس سیکٹر میں اصلاحات کے لئے بیشمار تجربات کئے جن کا سلسلہ آج تک جاری ہے ہیلتھ سیکٹر کے لئے فنڈز کے اجرء میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی اس سب کے باوجود لوگ خدمات نہ ملنے کا گلہ ابھی تک کررہے ہیں ۔

وزیراعلیٰ محمود خان کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اب وہ حکومتی اعلانات اور ان پر عمل درآمد کے درمیان گیپ کو چیک کرنے کے لئے سپاٹ پر جارہے ہیں گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت میں بچوں کے علاج کے لئے قائم ہسپتال کے دورے میں انہوں نے صفائی کے نظام کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اصلاح احوال کے احکامات جاری کئے صفائی کی یہ حالت اس ہسپتال میں تھی کہ جو گندگی کے باعث بیمار ہونے والے بچوں کے علاج کے لئے بنایا گیا وزیراعلیٰ نے اس موقع پر نکاسی آب کا مسئلہ حل کرنے اور ادویات کی مفت فراہمی کے لئے ہدایات بھی جاری کی ہیں ۔

صوبے کی سب سے بڑی علاج گاہ لیڈی ریڈنگ پر مریضوں کا گنجائش سے زیادہ رش ایک حقیقت ہے جس سے ہسپتال انتظامیہ کو بیشمار مسائل کا سامنا ہے اس سب کے ساتھ ہسپتال کے اطراف میں ٹریفک کی حالت ایسی ہے کہ ایمرجنسی تک پہنچنا انتہائی دشوار کام ہے اس کے ساتھ ہی ہسپتال کا کچرا ایک مستقل مسئلہ ہے یہ مسئلہ صرف ایل آر ایچ تک محدود نہیں دیگر سرکاری اور نجی طبی اداروں میں بھی ہے کیا ہی بہتر ہوکہ وزیراعلیٰ صوبے کے تمام بڑے ہسپتالوں میں سالڈویسٹ کے لئے پلانٹس اور انہیں آپریشنل رکھنا یقینی بنائیں یقینی یہ بھی بنایا جائے کہ ہسپتال کا کچرا اگر کہیں پر بھی گرایا جاتا ہے تو اس پر ڈھکن ضرور ہو اس مقصد کے لئے ارباب بست وکشاد کو دفتروں سے نکل کر موقع پر جانا ہوگا سٹیک ہولڈرز کی بات سننا ہوگی اور فوری وطویل مدت کے لئے آن سپاٹ فیصلے کرنا ہوں گے۔

تجارتی خسارہ کم کرنیکی کوشش

حکومت نے درآمدات کم کرکے تجارتی خسارہ گھٹانے کی کوشش میں 470استعمال شدہ الیکٹرانکس اشیاء کی امپورٹ پر پابندی عائد کردی ہے ملکی مصنوعات کو فروغ دینا کسی بھی ریاست کی ا ہم ذمہ داری ہے مقامی صنعت جتنی ترقی کریگی اتنی ہی معیشت مستحکم ہوگی درآمدی اشیاء پر پابندی کا فیصلہ درست ضرور ہے تاہم ضروری یہ بھی ہے کہ شہریوں کو ملکی اشیاء مناسب نرخوں پر اعلیٰ معیار کیساتھ ملیں اس مقصد کے لئے پروڈکشن کا سٹ کم کرنے کے ساتھ مارکیٹ میں کنٹرول پرائس پر مصنوعات کی فروخت یقینی بنانا ہوگی صرف درآمد پر پابندی کسی صورت کافی قرار نہیں دی جاسکتی۔