221

وزیراعظم کا نوٹس

وزیراعظم عمران خان نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے ستائے شہریوں کو شدید سردی میں گیس کی فراہمی کے حوالے سے درپیش مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے اصلاح احوال کے احکامات جاری کئے ہیں‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق سوئی ناردرن اور سدرن کے سربراہوں کو برطرف کردیاگیا ہے‘ وزیراعظم نے پٹرولیم اور توانائی کے ادارو ں میں باہمی رابطے کے فقدان پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا ہے وزیراعظم کامتعلقہ اداروں کو کہنا ہے کہ میں دنیا سے پیسے مانگ رہا ہوں اور آپ اربوں کا نقصان کررہے ہیں‘ جہاں تک بجلی یا گیس کیساتھ اب پانی کی قلت کا سوال ہے تو پوری قوم حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے مشکلات برداشت کرتی چلی آرہی ہے معاملہ اس وقت سنگین صورت اختیار کرتا ہے جب وسائل کی قلت کیساتھ محکمانہ غفلت اور بدانتظامی جیسے عناصر بھی اس میں شامل ہوجاتے ہیں گھریلو اور چھوٹے کمرشل صارفین تو ایک طرف صنعت وتجارت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے اکانومی کو مستحکم کرنے کے خواہشمند لوگ بھی خدمات کے حصول کیلئے ایک سے دوسرے دفتردھکے کھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔

یہ ناقص کارکردگی اور باہمی رابطوں کا فقدان ہی ہے کہ جسکے نتیجے میں صرف ایل این جی درآمد نہ ہونے پر متعدد پاور پلانٹس بند ہوگئے‘دوسری جانب اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ملک میں بعض تھرمل پاور پلانٹس کو فرنس آئل پر چلانے کے نتیجے میں 10 سے 12 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے‘ اب دوسری جانب یہی رقم صارفین سے بجلی بلوں میں لی جائے گی‘قابل اطمینان ہے کہ عمران خان نے بجلی چوری کے خلاف مہم تیز کرنے کی ہدایت کیساتھ یہ بھی کہا ہے کہ کسی کی چوری یا بدانتظامی کا خمیازہ عام شہری کیوں بھگتے‘ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بجلی وگیس کی قلت کیساتھ محکمانہ بدانتظامی اور باہمی رابطوں کا فقدان نمایاں طور پر سامنے آیا ہے‘ یہ صورتحال صرف توانائی اور پٹرولیم کے شعبوں تک محدود نہیں ہمارے کل کے نفع بخش متعدد ادارے بدانتظامی اور بے جا سیاسی مداخلت کے باعث قومی خزانے پر بوجھ اور کارکردگی کے حوالے سے شرمندگی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں‘ ان اداروں کی حالت اس حد تک گرچکی ہے کہ یہاں ملازمین کو دینے کے لئے تنخواہیں تک نہیں ہیں‘حکومت کی جانب سے بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا نوٹس قابل اطمینان سہی تاہم اصلاح احوال کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے جس کے لئے موثر پلاننگ کرنا ہوگی۔

عطائیوں کیخلاف کریک ڈاؤن

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے پشاور سمیت صوبے کے دوسرے حصوں میں بھی عطائی ہومیو پیتھس کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے اس کاروائی میں ادویات کے نمونے بھی اکٹھے کئے جارہے ہیں‘ طب کے کسی بھی شعبے میں عطائیوں کا کاروبار انسانی صحت اور زندگی کے لئے خطرہ ہی ہے ‘اس کے ساتھ جعلی اور دو نمبر کی ادویات کھلے عام فروخت ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ثبت کرتا ہے‘ اس ضمن میں ہر کاروائی قابل تعریف سہی تاہم ایکشن کی زد میں آنے والے لوگ چند روز بعد پھراسی طرح اپنا دھندہ شروع کردیں یہ کسی صورت درست نہیں‘ اس ضمن میں مقررہ اہداف کا حصول موثر اور قابل عمل منصوبہ بندی کا متقاضی ہے تاکہ مسئلہ جڑ سے ختم ہو۔