349

حج اخراجات

وفاقی حکومت کی جانب سے حج پیکج کے تحت دی جانیوالی سبسڈی واپس لے لی گئی ہے‘ جس سے رواں برس اخراجات میں 36 فیصد اضافہ یعنی گذشتہ سال کے مقابلے فی عازم ڈیرھ لاکھ روپے سے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ سرکاری حج اسکیم 2019ء کے تحت منتخب افراد کو تمام اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے‘ سینٹ کی خصوصی کمیٹی ان دنوں حج انتظامات کو حتمی شکل دے رہی ہے‘ جسکی سربراہی مولانا عبدالغفور حیدری کر رہے ہیں پنجاب اور خیبرپختونخوا سے سفر کرنیوالے ہر عازم کو 4لاکھ 26ہزار975 روپے ادا کرنا ہوں گے جبکہ سندھ اور بلوچستان سے حج کیلئے جانیوالے ہر حاجی کو 4لاکھ 36ہزار 975روپے دینا ہوں گے‘ یہ قیمت سرکاری حج سکیم کے تحت بذریعہ قرعہ اندازی منتخب ہونیوالوں کیلئے ہوگی‘گذشتہ برس خیبر پختونخوا اور پنجاب کے لئے سرکاری حج پیکج کی قیمت 2 لاکھ 80 ہزار روپے جبکہ سندھ اور بلوچستان کیلئے 2 لاکھ 70 ہزار روپے تھی‘ اس سال نجی اداروں کے ذریعے حج کرنیوالوں کو اسکے مساوی یا زیادہ قیمت ادا کرنا پڑیگی‘ جس کی وجہ قیام و طعام کی بہتر اور خصوصی سہولیات ہوتی ہیں اور ظاہر ہے کہ جہاں پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی ہوئی ہے وہیں سعودی عرب میں اشیائے خوردونوش سمیت قیام اور سفر کی سہولیات کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں‘ جو سعودی عرب کے خراب مالی حالات اور داخلی و خارجی محاذوں پر اصلاحات اور توسیعی عزائم کی وجہ سے ہے۔

پاکستان نے رواں برس حج کیلئے قربانی کی فی حصہ قیمت 19 ہزار 451 روپے مقرر کی ہے جو گذشتہ برس کے مقابلے 6ہزار 401 روپے زیادہ ہے۔ اسی طرح ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے سعودی عرب آمدورفت کا خرچ اِس مرتبہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کیلئے 93 ہزار روپے جبکہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے لئے 1 لاکھ 10 ہزار روپے زیادہ ہوگا۔ حکومت کی جانب سے نجی حج آپریٹرز کو زبانی کلامی پابند تو کیا گیا ہے کہ وہ اپنی خدمات کیلئے سرکاری حج کے مقابلے 10 فیصد سے زائد وصولی نہ کریں لیکن ظاہر ہے کہ نجی حج آپریٹرز پہلے ہی دس سے سو فیصد زائد وصولی کر رہے ہیں ‘حج 2019ء کیلئے سعودی حکومت نے پاکستان کا کوٹہ پانچ ہزار حاجیوں کا غیرمعمولی اضافہ کیا ہے‘ جسکی وجہ سے رواں برس پاکستان سے ایک لاکھ 84ہزار 210 پاکستانی حج کی سعادت حاصل کریں گے‘حکومت کی جانب سے جہاز راں کمپنیوں سے بات چیت کرنے کی ایک تجویز بھی زیرغور ہے‘تاکہ 93 ہزار سے 1 لاکھ 10ہزار روپے سفری اخراجات میں کچھ رعایت حاصل کی جائے۔ علاوہ ازیں رواں برس بزرگ افراد کے نام حج کی قرعہ اندازی میں شامل نہیں کئے جائیں گے اور پہلی ترجیح گزشتہ برس کے باقی ماندہ درخواست گزاروں کو دی جائے گی۔

نجی ٹور آپریٹرز حج کے بنیادی مناسک کی ادائیگی کیلئے چھ یا سات روزہ خصوصی پیکج مرتب کرتے ہیں‘ جبکہ حکومت کی جانب سے اس قسم کے خصوصی پیکجز فراہم نہیں کئے جاتے‘اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ خالصتاً کاروباری نکتہ نظرسے سوچنے والے نجی ٹور آپریٹرز نے بنیادی مناسک حج کی ترتیب کو سمجھ لیا ہے اور وہ انہیں ملحوظ رکھتے ہوئے ایسے پیکجز تیار کرتے ہیں‘ جن سے کاروباری خواتین و حضرات یا بیمار استفادہ کر سکیں۔ عموماً ایک سے زائد حج اَدا کرنے والوں کی بڑی تعداد مختصر ایام کا انتخاب کرتی ہے جبکہ سرکاری حج سکیم کے تحت جانے والے پینتیس سے چالیس روزہ پیکج کے تحت پابند ہوتے ہیں۔ سرکاری حج کی قیمت میں کمی کے لاتعداد امکانات موجود ہیں‘ اس سلسلے میں زیادہ سوچ بچار اور مختلف مختصر دورانئے کے سرکاری حج پیکجزبھی متعارف کروائے جا سکتے ہیں‘ جن میں قیام و طعام کے زیادہ آپشنز دیئے گئے ہوں۔ حج کی عبادت صرف صاحبان استطاعت پر فرض ہے لیکن مقدس مقامات کی زیارت اور حج جیسی بزرگ ترین عبادت کا شوق رکھنے والے ساری زندگی تیاری کرتے ہیں۔ عقیدت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ایسے کم آمدنی والے طبقات سے تعلق رکھنے والے عبادت گزاروں کے ذوق و شوق کو مدنظر رکھا جائے تو خصوصی حج پیکج کے ذریعے حکومتی فیصلہ ساز عبادت کے ثواب میں برابر شریک ہو سکتے ہیں۔