515

بے جرم سزائیں

پشاور کی قسمت میں فقط سزائیں تحریر ہیں؟ جبکہ جنوب مشرق ایشیاء کا قدیم ترین زندہ تاریخی گندھارا تہذیب کا مرکزی شہر اس قسم کے متعصبانہ رویئے کا قطعی مستحق نہیں‘ آج کا پشاور تعمیروترقی کے اندھا دھند دور سے گزر رہا ہے‘ جس نے نہ صرف شہری زندگی کے معمولات کو الٹ پلٹ کے رکھ دیا ہے بلکہ عام انتخابات کے قریب شروع ہونیوالی تعمیراتی سرگرمیاں دراصل وقت کا پہیہ الٹا گھمانے کی ناکام کوشش دکھائی دیتی ہے! لیکن پشاور کو بے جرم سزاوار ٹھہرانے والوں میں صرف تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت ہی ذمہ دار نہیں بلکہ اس میں وفاقی حکومت بھی برابر کی شریک ہے‘ جس نے پہلے تو باچا خان انٹرنیشنل ائرپورٹ کو پسماندگی اور غربت کی ایسی تصویر بنایا کہ یہ اس ہوائی اڈے سے استفادہ کرنے والوں کو کسی بھی زاویئے سے یہ ایک انٹرنیشنل ائرپورٹ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ مسافروں کے لئے جدید ترین سہولیات تو بہت دور کی بات‘ صفائی کے لحاظ سے بھی پشاور کا ائرپورٹ کچھ ایسا منظر پیش کرتا تھا کہ آمدورفت کرنیوالے عازمین کے علاوہ عزیز واقارب اور دوستوں کوپک اینڈ ڈراپ کرنے والوں کی کوشش ہوتی کہ وہ جلد از جلد یہاں سے چلتا بنیں! ان دنوں پشاور ائرپورٹ کی توسیع کا عمل جاری ہے‘ جس کے بارے میں سول ایوی ایشن اتھارٹی حکام پرامید ہیں کہ یہ کام پورے معیار اور خوبیوں کے ساتھ رواں برس کے چوتھے ماہ کے اختتام سے قبل مکمل کر لیا جائے گا۔

اِس توسیعی کام کی تفصیلات یہ ہیں کہ ’’2 ارب روپے کی خطیر رقم سے اندرون و بیرون ملک پروازوں کیلئے سہولیات میں اضافہ متوقع ہے لیکن نہ تو عمارتی ڈھانچے کی خاطرخواہ بڑے پیمانے پر توسیع دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی پہلے سے موجود رقبے میں اضافہ کیا گیا ہے بلکہ سبزہ زار اور راہداری کے ان حصوں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے‘ جن کی وجہ سے پہلے کچھ نہ کچھ کشادگی کا احساس ہوتا تھا‘ ائرپورٹ کے سامنے سبزہ زار کی اپنی اہمیت تھی‘ لیکن حکام کیلئے 700 گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش پیدا کرنا زیادہ بڑی ضرورت تھی‘ جبکہ یہ کام تین اطراف میں کشادہ سڑکوں پر باقاعدہ پارکنگ بنانے سے باآسانی ممکن تھا‘ائرپورٹ کا پارکنگ پلازہ حال و مستقبل کی ضروریات پوری کرسکتا تھا‘ بہرحال ملک کے دیگر ہوائی اڈوں کا اگر پشاور سے موازنہ کیا جائے توسب زیادہ بے سروسامانی پشاور میں دکھائی دیتی ہے۔ پشاور ائرپورٹ پر عموماً 35 ہوائی جہازوں کی یومیہ آمدورفت ہوتی ہے جبکہ یہی ہوائی پٹی خصوصی طیاروں اور فضائیہ کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے‘ اگرچہ لاہور‘کراچی اور اسلام آباد جیسے تین بڑے ائرپورٹس کی طرح پشاور مصروف ترین تو نہیں لیکن دفاعی اور شہری ہوا بازی کے نکتہ نظر سے اسے خاصی اہمیت حاصل ہے اور اسکا استعمال خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے خلیجی ممالک کے محنت کش ترجیحی بنیادوں پر کرتے ہیں‘ ۔

یہی ائرپورٹ غیرملکیوں کی توجہ کا مرکز بھی ہے اور پشاور میں تعینات غیرملکی سفارتکار بھی اسی کے ذریعے نجی یا چارٹرڈاور بالخصوص معروف خلیجی ائرلائن ایمریٹس سے استفادہ کرتے ہیں‘جون دوہزار چودہ میں ہوئے ایک ہوائی حادثے کی وجہ سے پشاور ائرپورٹ پر رات کے وقت پروازوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی تھی‘اس حادثے میں طیارے کو آگ لگنے سے ایک مسافر کی موت بھی ہو گئی تھی‘ جسکے بعد سہولیات میں اضافہ اور ائرپورٹ آپریشنز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی بجائے غروب آفتاب کے بعد پروازوں کا سلسلہ ہی ختم کر دیا گیا تصور کیجئے ایک ایسے ائرپورٹ کا‘جہاں ہوائی جہازوں کی آمدورفت بھی خاص اوقات کے علاوہ ممکن نہ ہو! ایک طرف مثالیں موجود ہیں کہ ائرپورٹس کی سہولیات کو چوبیس گھنٹے کے ہر سیکنڈ استعمال کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ایک ایسا ائرپورٹ بھی ہے جہاں ایک گلاس پینے کے صاف پانی سے لیکر انتظارگاہوں میں نشستوں تک کچھ بھی مثالی نہیں! ضرورت تو اس امر کی تھی کہ دو ارب روپے سب سے پہلے تو نائٹ آپریشنزکی بحالی پر خرچ کئے جاتے لیکن شاید مسافروں کا یہ دیرینہ مطالبہ کبھی پورا ہو پائے !پشاور ائرپورٹ سے اڑان بھرنے والی پینتیس پروازوں میں اکثریت غیرملکی روٹس پر اڑنے والے جہازوں کی ہے جبکہ صرف چار مقامی پروازیں ہیں۔ پورے خیبرپختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والوں کے لئے ہر روز اندرون ملک صرف چار پروازیں کسی بھی طور انصاف نہیں ۔