126

قبائلی اضلاع کی ترقی

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کا حصہ بننے والے قبائلی اضلاع کی ترقی کو پہلی ترجیح قرار دیا ہے‘ وزیراعلیٰ محمود خان نے گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ آپریشن سے متاثر ہ لوگوں کو گھر واپس لایا جائے گا‘وزیراعلیٰ نے وزیرستان میں موبائل سروس کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے 54 کلو میٹر طویل روڈ کی تعمیر و بحالی کا عندیہ بھی دیا‘قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی فراہم ہو گی ‘ قبائلی اضلاع کا خیبر پختونخوا میں انضمام ایک بہت بڑا فیصلہ تھا‘ اس فیصلے کا ثمر آور ہونا دور افتادہ او ر ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے ان اضلاع میں تعمیر و ترقی اور بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی سے جڑا ہوا ہے‘ اس سارے عمل کو مطلوبہ رفتار سے مکمل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ فنڈز کی ترسیل بروقت ہو‘ اس مقصد کیلئے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں شیئر کا کیس یکسو کرنا ہو گا جبکہ صوبے کیلئے دیگر منظور شدہ رقوم کا بروقت ادا کرنا بھی ضروری ہے۔

ضروری یہ بھی ہے کہ عام شہری کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے یہ سہولیات فیصلہ سازی کے عمل میں عام شہری کی شمولیت سے ہی حقائق کی روشنی میں فراہم ہو سکتی ہیں‘ اس مقصد کیلئے نئے اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے تعمیر و ترقی کا عمل نئے قبائلی اضلاع میں ہو یا پھر صوبے کے کسی بھی حصے میں اس کا حقیقی معنوں میں لوگوں کیلئے سہولیات کا ذریعہ بننا صرف اعلانات اور ابتدائی اقدامات کے ذریعے ممکن نہیں‘ سرکاری اداروں کی سست روی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں‘ ہماری سکیموں کا تکنیکی مہارت سے عاری ہونا بھی ریکارڈ کا حصہ ہے‘ پراجیکٹس کی بروقت تکمیل کبھی کبھارہی دیکھنے کو ملتی ہے معیار پر سوالیہ نشان ثبت ہی ہوتے رہتے ہیں‘ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے آن سپاٹ دوروں کا سلسلہ شروع کرکے یہ عندیہ دے دیا ہے کہ وہ محض سرکاری رپورٹس پر انحصار نہیں کریں گے بلکہ خود ہر چیز کا جائزہ لیں گے‘ تاہم ابھی مزید بہت کچھ کرنے کی گنجائش باقی ہے‘ وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کو اپنے اعلانات اور مثبت اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے سب سے پہلے ٹائم لائن کا تعین کرنا ہوگا اس کیساتھ آن سپاٹ دوروں کا سلسلہ نہ صرف جاری رکھنا ہو گا بلکہ دیگر ذمہ دار حکام کو بھی اس حوالے سے پابند بنانا ہو گا بصورت دیگر لوگوں کو تبدیلی کا کوئی احساس نہیں ہو گا۔

یوٹیلٹی بل اور غریب صارفین


بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ ‘ ترسیل کے نظام میں آئے روز کی خرابیاں‘ غلط بلنگ ‘ کنکشن کے حصول میں مشکلات کے ساتھ صارفین کو بل جمع کرانے کے حوالے سے بھی سخت دشواریوں کا سامنا ہے ‘ یوٹیلٹی بلوں کی ترسیل کا نظام کسی صورت فول پروف قرار نہیں دیا جا سکتا‘ اکثر صارفین کو بل بروقت نہ ملنے پر جرمانے ادا کرنا پڑتے ہیں یا پھر کچھ لوگ ویب سائٹس سے اپنا بل وصول کرکے جرمانوں سے بچتے ہیں ‘ بل جمع کرانے کی تاریخ مہینے کے آخری ہفتے میں ہوتی ہے جس کے باعث تنخواہ دار طبقے کے پاس جرمانہ بھرنے یا پھر قرض اٹھانے کے سوا کوئی تیسرا آپشن نہیں ہوتا ‘سٹیٹ بینک کی واضح ہدایت کے باوجود اکثر بینکوں میں یوٹیلٹی بل جمع کرانے والے صارفین کو منظور شدہ سہولیات حاصل نہیں ہوتیں‘ اصلاح احوال کے لئے کسی بڑے فنڈ کی ضرورت نہیں جس کے لئے ملک کو بیرونی قرضہ اٹھانا پڑے یہاں ضرورت صرف عوامی مشکلات کے احساس اور بدانتظامی کو دور کرنے کی ہے ۔