265

فروری کا پٹرول بم

وطن عزیز میں پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی کردی گئی ہیں اس مقصد کے لئے جاری اعلامیے کے مطابق پٹرول 2.98جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 5.92روپے فی لیٹر مہنگا ہوگیا ہے مٹی کے تیل کی قیمت میں5.94 اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں5.93 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمت بڑھائے جانے کا اضافی بوجھ حکومت خود برداشت کرے گی ترجمان کا کہنا ہے کہ خام تیل کی عالمی منڈی میں قیمت8.07فیصد بڑھی ہے جبکہ لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت11روپے 72پیسے اضافے کے بجائے 5روپے 92 پیسے بڑھائی گئی ہے بتایا جارہا ہے کہ عالمی منڈی میں ہائی سپیڈ ڈیزل 8.68فیصد مہنگا ہوا ہے وطن عزیز میں اقتصادی اعشاریے جتنے بھی بہتر ہوئے اس سے انکار نہیں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے یا کم ہوئے سب ریکارڈ کا حصہ ہے تاہم اس حقیقت سے انحراف کسی طور ممکن نہیں کہ گرانی کا گراف مارکیٹ کے اندر مسلسل بڑھتا ہی رہا ہے گو کہ بینک دولت پاکستان کی رپورٹس میں اس کی شرح بعض اوقات کم بھی دکھائی گئی تاہم کتاب میں درج اعداد وشمار اور مارکیٹ کے ریٹس میں بہت بڑا گیپ ہی رہا ہے۔

انکار اس حقیقت سے بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اقتصادی شعبے میں کامیابیوں کے تمام تر اعلانات کے باوجود وطن عزیز پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں حالیہ اضافہ پوری معیشت پر اثر انداز ہوگا دوسری جانب حکومت کے پاس مرکز اور صوبوں کے لیول پر مارکیٹ کنٹرول کرنے کا کوئی موثر انتظام نہیں اس فل ٹائم جاب کو جزوقتی اقدامات کے ذریعے یکسو نہیں کیا جاسکتا حکومت کو ہر صورت اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ اس وقت عام شہری گرانی اور ملاوٹ کے ہاتھوں شدید دشواریوں کا سامنا کررہا ہے غریب اور متوسط طبقے کو بنیادی شہری سہولیات تک دستیاب نہیں پینے کا صاف پانی ملتا ہے نہ ہی آلودہ فضاء میں سانس لینے والے شہری دودھ اور دوسری اشیائے خوردنی خالص پاسکتے ہیں‘اس بات کا احساس بھی ضروری ہے کہ بجلی کے جتنے منصوبے بن جائیں اگر عام شہری کو بجلی بلا تعطل نہیں ملتی تو اسے حکومتی منصوبوں کے حجم سے کوئی سروکار نہیں ہوگا یہی حال گیس اور دوسری سروسز کا بھی ہے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم کے نرخوں میں اتارچڑھاؤ حقیقت سہی تاہم مارکیٹ کنٹرول اور سروسز کی فراہمی کیلئے ٹھوس اقدامات سے ہی عام شہری کو ریلیف مل سکتی ہے جس کیلئے برسر اقتدار قیادت کو ٹھوس حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی۔

ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے 25 اہم منصوبوں کی منظوری دی ہے ‘ صوبے میں اربوں روپے کے نئے پراجیکٹس کی منظوری احسن اقدام ضرور ہے تاہم ان کا ثمر آور ہونا بروقت اور معیاری تکمیل سے مشروط ہے ‘ سرکاری منصوبوں کی امکاناتی رپورٹس میں حقائق کی بنیاد پر ضروریات کے عدم احساس مستقبل کی ضروریات کا ادراک نہ کرناغیر معیاری تعمیرات اور منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر کی شکایات اکثر سامنے آتی ہیں تعمیراتی کام کو بروقت مکمل نہ کرنے پر فنڈز کا لیپس ہو جانا اور مارکیٹ میں میٹریل کی قیمت بڑھنے پر لاگت میں اضافہ قومی خزانے پر بوجھ ہی بنتا ہے حکومت کو پراجیکٹس کی منظوری کے ساتھ ان کی بروقت معیاری تعمیر اور بعد میں دیکھ بھال کیلئے کنکریٹ انتظامات کرنا ہو نگے ۔