524

سچ باتیں‘ جھوٹی خبریں

برق رفتار ذرائع ابلاغ اور بالخصوص سماجی رابطہ کاری کے وسائل متعارف ہونے کے بعدخبر کی تعریف‘ تشریح‘ تاویل اور اخلاقیات کا ازسرنو تعین ہونا چاہئے‘ اکیسویں صدی میں خبر کا اثر ماضی کی نسبت زیادہ ہونے کی وجہ اظہار کے ذرائع کی عمومیت ہے۔ سیٹلائیٹ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ پر منحصر سوشل میڈیا کے مثبت و منفی اثرات تہہ دار ہیں ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے سے کوئی ایک خبر چند لمحوں میں پاکستانی سٹاک ایکس چینج میں جاری کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو کسی عالمی رہنما کا بیان اسکے مخالف کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ بھی فوری وضاحت کرے!سال دوہزار سترہ کا خلاصا کرتے ہوئے ماہرین نے عالمی طاقت امریکہ کیلئے سب سے بڑا خطرہ جھوٹی خبر کو قرار دیا کیونکہ اسکے ذریعے نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی سطح پر جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ جھوٹی خبر گذشتہ چند برس سے ذرائع ابلاغ کی دنیا میں سب سے زیادہ بولا جانے والا لفظ بھی ہے اور آج دنیا خبر کی صورت ’جھوٹی خبر‘ سے نمٹنے کیلئے سوچ بچار میں مصروف ہے! اس صورتحال میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف لائبریری ایسوسی ایشنز اینڈ انسٹیٹیوشنز نامی ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جسکے تحت عوام کو جھوٹی خبروں کو جانچنے اور پرکھنے کیلئے تعلیم دی جاتی ہے۔ بنیادی مقصد یہی ہے کہ خبر کو کیسے پرکھا جائے اور اس سے کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے کون سی احتیاط لازم ہے‘ مذکورہ عالمی ادارے نے مختلف شعبوں کے ماہرین جن میں نفسیاتی امراض کے معالجین بھی شامل ہیں کی مدد سے آٹھ رہنما اصول وضع کئے ہیں تاکہ غلطی کا امکان باقی نہ رہے‘یہ اصول اگرچہ پاکستان صحافتی نصاب کا حصہ نہیں بنے لیکن امید اور تجویز ہے کہ متعلقہ فیصلہ ساز اس بات پر ضرور غور کریں کہ صحافت میں پڑھائے جانیوالے مضامین کو عصری و عملی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہئے۔

پہلا اصول یہ ہے کہ جب بھی کوئی خبر موصول ہو تو اسکے پس پردہ محرکات جاننے کی کوشش میں ایک سے زیادہ ذرائع ابلاغ سے استفادہ کیا جائے‘کسی ایک ذریعے سے آنیوالی خبر پر یقین نہ کیا جائے دوسرا اصول یہ ہے کہ کسی خبر کا صرف ایک پہلو سے مطالعہ نہ کیا جائے بلکہ اس کے ضمنی پہلوؤں پر بھی سوچا جائے تاکہ مکمل بات سمجھ میں آ سکے۔ تیسرے اصول یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ خبر لکھنے والا یا سنانے والا کون ہے‘ اس کا تعلق جس کسی ادارے سے ہے وہ کتنا مستند ہے اور ماضی میں اس کی خبریں کتنی درست ثابت ہوئیں۔ چوتھے اصول کے تحت یہ جاننے کی کوشش کریں کہ خبر کے علاوہ خبر کے متعلق دیئے جانیوالے دلائل اور ثبوتوں کو جن ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے کیا وہ مستند اور متعلقہ ہیں پانچواں اصول خبر کے شائع ہونے کی تاریخ ہے کیا وہ بیان کردہ حقائق تازہ ترین اور متعلقہ ہیں؟ چھٹا اصول خبر میں شامل تنقیدی نکتۂ نظر ہے‘ جس کے مقصدتک پہنچنے کی کوشش کی جائے ساتواں اصول خبر پر یقین سے پہلے اپنی پسند اور ناپسند کو دیکھا جائے کہیں غلط خبر پر اسلئے تو یقین نہیں آ رہا کیونکہ ایسا پڑھنا یا سننا آپ کو ذاتی طور پر پسند ہے یا اس سے آپکا ذاتی فائدہ وابستہ ہے اور آٹھواں رہنما اصول یہ وضع کیا گیا ہے کہ جس کسی شعبے سے متعلق خبر آپ تک پہنچے‘ یقین کرنے سے قبل اس شعبے کے متعلقہ ماہرین کی رائے ضرور معلوم کریں بناء تحقیق و تصدیق نہ توخبر پر یقین کریں اور نہ ہی اسے پھیلائیں‘ہم میں سے ہر کوئی اپنے متعلق غلط خبر سننا نہیں چاہتا لیکن جب تک یہ جذبہ اور جذبات دوسروں سے متعلق بھی پیدا نہیں ہوں گے‘ اس وقت تک خبر کی تباہ کاریاںیونہی جاری رہیں گی۔

عالمی سطح پر صحافتی تنظیمیں اور تدریسی ادارے مذکورہ آٹھ رہنما اصولوں کو اپنے نصاب کا حصہ بنا رہی ہیں لیکن پاکستان کی سطح پر تاحال وفاقی یا صوبائی سطح پر ایسے اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے‘ جس سے ذمہ دار صحافت فروغ پائے اور غیردانستہ یا دانستہ غلطیوں سے اجتناب کیا جائے‘تازہ ترین مثال قصور میں ہوئے جرائم سے متعلق ہے جب یہ بات کہی گئی کہ گرفتار ملزم کا تعلق منظم عالمی گروہ سے ہے‘ جس کے پاکستانی اور غیر ملکی کرنسیوں کے تیس سے زیادہ بینک اکاؤنٹس ہیں اور ان اکاؤنٹس میں لاکھوں ڈالرز اور پاؤنڈز موجود ہیں یہ خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیلی‘ عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی اس خبر کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور سپریم کورٹ نے خبر کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اینکر کو طلب کیا اور ایک سادہ صفحے پر شریک ملزموں کے نام لکھ کر عدالت کو دینے کا کہا تاہم جب سٹیٹ بینک نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ ملزم کے نام کوئی ایک بھی بینک اکاؤنٹ نہیں‘یہ معاملہ تاحال سپریم کورٹ میں ہے اور ملک کے سبھی بڑے تجزیہ کاروں کو طلب کرنے کے باوجود بھی اس مقدمے سے متعلق ابھی عدالتی فیصلہ نہیں آیا لیکن اِس غلطی کو نادر موقع سمجھتے ہوئے صحافتی تنظیموں اور بالخصوص صحافتی علوم سے متعلق درس وتدریس کرنیوالے اداروں کو سوچنا چاہئے کہ وہ کس طرح ذمہ دار صحافت کی عالمی کوششوں کا حصہ بن سکتے ہیں۔ خود احتسابی بھی اگر کوئی شے ہے تو معاشرے کو سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنے کی زحمت دینے سے قبل یہ ذمہ داری خود ذرائع ابلاغ سے متعلق اِداروں اور انفرادی طور پر صحافتی پیشہ وروں کو تسلیم کرنا پڑے گی‘ کہ غیرضروری طور پر بناء تصدیق و تحقیق جذباتی باتیں اُور سنسنی خیزی پھیلانے سے گریز آج کی تاریخ و حالات میں کس حد تک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے!