203

وفاقی کابینہ کے فیصلے

وفاقی کابینہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز موخر کردی ہے‘ وزیراعظم عمران خان نے یہ معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھیج دیا ہے‘ کابینہ کے اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران لوڈشیڈنگ ختم کرنے کیلئے خصوصی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے‘ کابینہ کے اجلاس میں مجموعی ملکی معاشی منظرنامے کے تناظر میں 1300ارب روپے کے گردشی قرضوں کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے‘ کابینہ کے 13نکات پر مشتمل ایجنڈے میں سرکاری اداروں میں کرپشن کی آگاہی دینے والے کو برآمد ہونیوالی رقم میں 20فیصد حصہ دینے کا عندیہ بھی دیاگیا‘واضح رہے کہ اوگرا کی جانب سے بھجوائی گئی سمری میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں 14روپے تک اضافے کی سفارش کی تھی تاہم حکومت نے عوام پر فوری بوجھ ڈالنے کی بجائے معاملے کو موخر کیا‘اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ملک کے اقتصادی حالات نے عام شہری کو بھی متاثر کررکھا ہے‘۔

اس کیساتھ بدانتظامی کااندازہ 1300 ارب روپے کے گردشی قرضوں سے بھی لگایاجاسکتا ہے جن کیلئے خصوصی آڈٹ کا فیصلہ ہر حوالے سے قابل اطمینان ہے تاکہ صوتحال کی پوری طرح وضاحت سامنے آسکے‘ خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس وقت انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے مہنگائی میں مزید اضافے کا عندیہ دیا ہے‘ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر پورے خطے میں معیشت سست روی کا شکار ہے اور یہ کہ ترقی کی شرح 4.2سے کم ہو کر 3.6فیصد ہو گئی ہے‘ اس ساری صورتحال کا تقاضا تو وطن عزیز کے مہنگائی کی چکی میں پسنے والے شہریوں کو مزید مشکلات سے بچانے کیلئے اقدامات کا ہے جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ کو 500ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی یقین دہانی بھی کرادی گئی ہے‘ بتایا جارہا ہے کہ فنڈز کے حکام کیساتھ مذاکرات میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے خدوخال پربھی بریفنگ دی گئی‘ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیلئے تواتر کیساتھ سمریاں بھجوائی جاتی ہیں جبکہ مجبوری کے باعث ہونیوالی گرانی تو اپنی جگہ‘ مصنوعی مہنگائی‘ ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ پر بھی قابو نہیں پایاجارہا۔

 صورتحال کا تقاضا ہے کہ اب وزیراعظم اور وزراءاعلیٰ خود اس ساری بات کانوٹس لیں اور عوام کیلئے ریلیف یقینی بنایاجائے‘حاضر وقت وفاقی کابینہ کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ موخر ہونا قابل اطمینان سہی تاہم اس ارضی حقیقت سے انحراف نہیں کیا جاسکتا کہ عالمی منڈی کی صورتحال اور ملک کی اکانومی کیساتھ بیرونی قرضوں کے بوجھ میں پٹرولیم مصنوعات کو مہنگا ہونے سے روکا نہیں جاسکتا‘جو گرانی میں اضافے کا ذریعہ ہے‘ ایسے میں انتظامی طورپر ڈسٹرکٹ اورتحصیل لیول پرگرانی کے کنٹرول کیلئے اقدامات ضروری ہیں ‘ دوسری جانب اب ایسی حکمت عملی کو اپنانا بھی ناگزیر ہوگیا ہے کہ آئندہ کیلئے غیر ملکی قرضوں کے چنگل سے بچا جاسکے‘ یہ سب اسی صورت ممکن ہے جب ایک جانب صنعتی وتجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیاجائے تو دوسری طرف بھاری یوٹیلٹی بل دینے والوں کو بجلی اور گیس کےساتھ پینے کا صاف پانی فراہم کیاجائے‘ صنعت کا پہیہ چلانے کیلئے توانائی کے وسائل بڑھائے جائیں‘ قابل اطمینان ہے کہ کہ کل وزیراعظم مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں تاہم صرف ایک یا دو ڈیم کافی نہیں‘ وطن عزیز کی سیاسی قیادت کو سرجوڑ کر آبی ذخائر سے متعلق ٹھوس پلاننگ کرنا ہوگی۔