199

رمضان المبارک میں مارکیٹ کنٹرول؟

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے زیر صدارت اجلاس میں ماہ رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ قابل اطمینان ہے کہ وزیراعلیٰ نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ریلیف محض اعلانات تک محدود نہیں ہونی چاہئے‘وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ سمیت تمام وزراءاور ارکان اسمبلی کو روزانہ بازاروں کے دورے کرنے کی ہدایت بھی کی ہے‘ اس موقع پر وزیراعلیٰ کو 107 سستے بازاروں کے قیام اور مارکیٹ کنٹرول کیلئے اب تک کے اقدامات سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی‘وزیراعلیٰ محمود خان کا یہ کہنا کہ عوامی ریلیف محض اعلانات تک محدود نہیں رہنی چاہئے اس بات کا عکاس ہے کہ انہیں مختلف شعبوں میں بہتری کیلئے حکومتی اعلانات اور ان پر عملدرآمد کے درمیان فاصلوں کا پوری طرح احساس ہے‘خیبر پختونخوا میں حکومت تعلیم‘ صحت اور خدمات کے دیگر شعبوں میں اصلاحات اور بہتری کیلئے اب تک متعدد اقدامات اٹھا چکی ہے‘ فنڈز کے اجراءمیں بھی کبھی تاخیر نہیں کی گئی اس کے باوجود عام شہری عملی طورپر ریلیف نہ ملنے کا گلہ ہی کرتا رہاہے۔

ہیلتھ سیکٹر میں بے شمار اصلاحات کے باوجود عام مریض سرکاری ہسپتالوں میں خدمات نہ ملنے کی شکاےت کرتا ہے‘ نجی شعبے میں طبی سہولیات عام شہری کے بس سے باہر ہیں‘یہی حال سروسز کے دیگرشعبوں میں بھی ہے میونسپل سروسز کیلئے تمام تر اقدامات کے باوجود صوبائی دارالحکومت سمیت پورے صوبے میںصفائی کے انتظام پر عملدرآمد کیلئے موثر مکےنزم اور کڑی نگرانی کا انتظام نہ ہونے پر لوگ اس قدر مایوس ہوگئے ہیں کہ لوگوں کے آگے یہ اعلانات بے معنی ہوکر رہ گئے تھے‘وزیراعلیٰ کی سخت تنبیہ کا ہی نتیجہ تھا کہ ہدایات ملتے ہی فوڈ اتھارٹی کا اجلاس فوراً طلب کیاگیا اور بعض اقدامات کی منظوری بھی دی گئی‘ کے پی فوڈ اتھارٹی میں ایمرجنسی رسپانس یونٹ بھی قائم ہوگئے ہیں اور عوام کو شکایات کیلئے نمبر بھی فراہم کئے گئے ہیں اس ساری ایکسر سائز کا اب بھی ثمرآور ہونا اس بات سے جڑا ہواہے کہ تمام تر اقدامات پر عملدرآمد
کے سارے مراحل کی کڑی نگرانی کی جائے‘وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں مرکزی کنٹرول روم قائم ہو جہاں پورے صوبے میں انتظامیہ کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جائے‘ذمہ دار اداروں کے وسائل میں اضافہ کیا جائے اور انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جائیں تاکہ سٹاف ممبرز اپنی ذمہ داریاں احسن طورپر سرانجام دے سکیں۔

پینے کے صاف پانی کا مسئلہ

موسم گرما کی آمد کے ساتھ مکھی مچھروں کی بہتات میں پانی کی ٹینکیوں کی صفائی کیلئے خصوصی مہم کی ضرورت ہے جس میں آٹھ سے دس روز کا ٹائم فریم دیا جائے‘ڈینگی بخار اور دوسری بیماریاں پھیل جانے کے بعد صفائی کا کام جب شروع ہو تو اس وقت تک بہت نقصان ہوچکاہوتاہے‘دوسری جانب صوبائی دارالحکومت میں پرانے اور بوسیدہ پائپوں کی تبدیلی کاکام خصوصی دیکھ بھال کا متقاضی ہے‘ ہمارے ہاں پائپ سیوریج کی نالیوں سے گزر کر بیماریاں لے کر ہی آتے ہیں‘اس سب کے ساتھ پانی کی فلٹریشن کیلئے لگے یونٹس کو دوبارہ سے آپریشنل کرنابھی ضروری ہے۔