239

کابینہ کے فیصلوں پر عمل درآمد؟

وفاقی کابینہ نے مقدمات سے جڑے اخراجات کے حوالے سے ایکٹ کی منظوری دیدی ہے‘ جس کا اطلاق یکم مارچ 2018ء سے ہوگا‘ ایکٹ سے متعلق رپورٹس کے مطابق تنازعات کے حل کیلئے متبادل طریقہ وضع کرنے کیساتھ بے بنیاد ثابت ہونیوالے کیس میں مدعی پر کیس کے اخراجات جرمانے کی صورت عائد ہونگے‘ وفاقی کابینہ نے ادویات کی ریٹیل قیمتوں میں کمی کی منظوری بھی دی‘ اس کیساتھ ہی صوبائی حکومتوں پر زور دیاگیا کہ وہ گنے کے کاشتکاروں کو رقم کی ادائیگی کی ذمہ داری پوری کریں‘ جہاں تک سستے اور فوری انصاف سے متعلق اقدامات کا تعلق ہے تو اس کیلئے مرکز اور صوبوں کی سطح پر جو بھی اقدامات ہوں وہ قابل اطمینان ہی قرار دیئے جاسکتے ہیں‘ خیبرپختونخوا حکومت اس سے قبل ضابطہ دیوانی سے منسلک ترامیم کے ذریعے مقدمات کو زیادہ سے زیادہ ایک سال میں نمٹانے کا فیصلہ کرچکی ہے جہاں تک تنازعات کے حل کیلئے متبادل انتظامات کا تعلق ہے تو اس کیلئے پولیس تھانوں کی سطح پر قائم کمیٹیوں کا دائرہ وسیع کرنے‘ انہیں زیادہ سپورٹ فراہم کرتے ہوئے ان کیلئے ارکان کا انتخاب باہمی مشاورت سے کرکے اچھے نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں‘ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگی کیلئے مرکز اور صوبوں کی سطح پر ایک موثر مکینزم کی ضرورت اب بھی ہے جس کے سب پابند ہوں‘ اس ضمن میں محض ہدایات کو کسی صورت کافی قرار نہیں دیاجاسکتا۔

جہاں تک ادویات کی قیمتوں میں کمی کا تعلق ہے تو اس کیلئے مارکیٹ کنٹرول کا انتظام ضروری ہے‘ دواؤں کے ریٹیل نرخوں پر عمل درآمد کیساتھ اصل ضرورت ان کے معیار کو یقینی بنانے کی ہے‘ کسی بھی ریاست میں یہ بات انتہائی افسوسناک ہی ہوتی ہے کہ وہاں دوائی جعلی اور دونمبر ملے‘ دوا فروش اپنے کام سے متعلق مہارت کا سر ٹیفیکیٹ نہ رکھتا ہو‘ دوا کیلئے سٹور میں ضروری درجہ حرارت کا انتظام نہ ہو‘ صحت کے شعبے کو ہر سطح پر اولین ترجیح قرار دیئے جانے کے باوجود سرکاری ہسپتالوں میں لوگ معمولی گولی کیلئے بھی بازار جانے پر مجبور ہوں‘ یہ ساری صورتحال حکومتی سطح پر مشکلات کے ادراک کیساتھ فیصلوں پر عمل درآمد کے نظام سے ہی درست ہوسکتی ہے۔

مردان واقعے کا ڈراپ سین

خیبرپختونخوا پولیس کے سربراہ صلاح الدین محسود کا کہنا ہے کہ مردان کی معصوم بچی اسماء کو 25روز قبل قتل کیاگیا اور اس دوران پولیس تفتیش سمیت دیگر مشکلات سے گزری ہے‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 16کنال کے کرائم سین سے بہت کم چیزیں ملی ہیں اور ساری تفتیش میں سائنسی طریقوں سے مدد لی گئی ہے‘ دی گئی تفصیلات کے مطابق کیس گنے کے پتے پر گرنے والے خون کے ایک قطرے سے ٹریس ہوا‘ پولیس سربراہ اپنی فورس کی کارکردگی کا احاطہ کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ صوبے میں دہشت گردی 74فیصد کم ہو گئی ہے جبکہ دیگر کرائم کا گراف بھی کم ہوا ہے‘ پولیس کارکردگی سے لوگ مطمئن ہیں یا نہیں‘ اس بحث میں پڑے بغیر اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ مردان جیسے افسوسناک واقعے کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل میں اس طرح کی صورتحال کے راستے ہر صورت مسدود کئے جائیں‘جس میں قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کے ذمہ داروں کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا‘ ذمہ دار اداروں کا سارا زور اس بات پر ہونا چاہئے کہ آئندہ اس طرح کا واقعہ رونما نہ ہونے پائے‘ ساتھ ہی پولیس کو تفتیش کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا بھی ضروری ہے۔