75

قومی سے علاقائی سیاست تک

پاکستان ایک وفاق ہے‘ جس کی صوبائی اکائیاں داخلی انتظامی خودمختاری کے ساتھ مربوط اور مضبوط رکھتی ہیں‘ بھارت کے برعکس ہمارا ایوان بالا (سینٹ) آبادی کی بجائے چاروں صوبوں سے مساوی ارکان کے انتخاب کے ساتھ وفاق میں برابری کے تصور کو مضبوط کرتا ہے‘ آئینی طور پر تو یہ بات اس حد تک درست ہے‘ یہ الگ بات ہے کہ سیاسی پارٹیاں اس تصور کی نفی کرتی ہیں اور سینٹ کے لئے ارکان نامزد کرتے وقت صوبائی تعلق کو پیش نظر نہیں رکھتیں اور جہاں اکثریت حاصل ہو وہاں سے ہی دوسرے صوبوں کے شہری سینٹ کے رکن منتخب کرواتی ہیں اور یہ قومی المیہ ہی ہے کہ کوئی سیاسی جماعت قومی جماعت ہونے کے معیار پر پورا نہیں اترتی‘ کسی زمانے میں پیپلز پارٹی قومی جماعت ہوتی تھی اس کے چاروں صوبوں میں قابل قدر تعداد میں ووٹر اور قومی اسمبلی کے ارکان ہوتے تھے مگر ذوالفقار علی بھٹو کے بعد یہ پارٹی پنجاب سے باہر ہوگئی اور بے نظیر بھٹو کے بعد تو خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے بھی فارغ ہوچکی ہے‘ اب پیپلز پارٹی عملی طور پر سندھ تک محدود ہوچکی ہے اور اس کی حکومت اورسیاست کا دائرہ سندھ تک ہی رہ گیا ہے۔

 اس کے بعد 1990ءکی دہائی میں پاکستان مسلم لیگ ایک قومی جماعت کے طور پر ابھری‘ مسلم لیگ کے سر پر پاکستان کے قیام کا سہرہ ہونے کے باوجود یہ اسٹیبلشمنٹ کی جماعت رہ گئی تھی‘ پھر اس کی تقسیم در تقسیم نے بھی کردار ادا کیا‘ مگر میاں نواز شریف نے ایک دھڑے کو عوامی مقبولیت دے کر ایک قومی جماعت بنا دیا تھا‘ ایک وقت تھا کہ وفاق سمیت چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ کی حکومتیں قائم تھیں مگر جس طرح پیپلز پارٹی بھٹو نام کے ساتھ مشروط ہے اسی طرح مسلم لیگ بھی نواز شریف کے ساتھ لازم و ملزوم ہوگئی‘ سیاسی پارٹی میں ایک خاندان کی اجارہ داری سے مسلم لیگ کی قومی سطح پر مقبولیت میں کمی آئی‘ 2008ءمیں وہ پنجاب تک محدود ہوئی‘ اگرچہ 2013ءمیں مسلم لیگ نے وفاق میں حکومت بنائی مگر یہ بھی پنجاب میں اکثریت کی وجہ سے ہی ممکن ہوا‘ سندھ سے یہ جماعت سیاسی طور پر باہر ہوگئی‘ حتیٰ کہ تنظیم بھی ٹوٹ گئی‘ 2018ءمیں تو یہ پنجاب کی ایک علاقائی جماعت بن کر رہ گئی ہے‘ سندھ میں کوئی وجود نہیں‘ بلوچستان میں کوئی نظم و ضبط نہیں‘ کسی حد تک خیبرپختونخوا میں تنظیمی طور پر زندہ ہے۔

 اس کے باوجود الیکشن جیتنے کی صلاحیت کم ہوگئی ہے اور اب میاں نواز شریف کے جیل اور شہباز شریف کے لندن جانے کے بعد جو تنظیم نو کی گئی ہے اس میں یہ عملی طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب تک محدود ہے‘ عہدوں کی تقسیم میں ہمیشہ یہ خیال رکھا گیا کہ صدر اور چیئرمین پنجاب سے ہیں تو سیکرٹری جنرل کا عہدہ کسی دوسرے صوبے کو دیا جائے مگر اب یہ روایت ختم کردی گئی ہے‘ پہلے چاروں صوبوں سے چار نائب صدور ہوتے ہیں‘ اب 16 نائب صدور میں سے اکثریت پنجاب سے ہے‘ دو تو شریف خاندان سے ہی ہیں‘ سینئر نائب صدر بھی پنجاب سے ہے‘ پارلیمانی پارٹی کی نئی تنظیم میں پارلیمانی لیڈر اپوزیشن لیڈر اور پی اے سی چیئرمین بھی پنجاب کے ہی چنے گئے ہیں‘ اس صورتحال پر کے پی سے ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر عباد نے احتجاج بھی کیا ہے‘ بہرحال اب تحریک انصاف ایسی جماعت رہ گئی ہے جس نے حالیہ انتخابات میں سب سے زیادہ اور چاروں صوبوں سے ووٹ لئے ہیں‘ وہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اپنی اکثریت کے ساتھ اور بلوچستان میں اتحادی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے اور یہ بات ثابت کی ہے کہ تحریک انصاف میں قومی جماعت بننے کی صلاحیت موجود ہے مگر اقتصادی سطح پر ناکامی اور عوام کی مایوسی سے اس تصور کو دھچکا لگا ہے‘ ویسے بھی وفاقی حکومت کی زیادہ ہمدردی اور توجہ اپنی پارٹی کی حکومت والے صوبوں میں ہے‘ تحریک انصاف میں تنظیمی طور پر بھی پنجاب کا غلبہ ہے اگر آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف بھی سمٹ گئی تو یہ ایک قومی نقصان ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔