142

مسائل کا حل؟

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز سینئر صحافیوں کیساتھ بات چیت میں اپنی ترجیحات اور آئندہ کی حکمت عملی کے خدوخال واضح کرنے کےساتھ بعض اہم امور کی نشاندہی بھی کی ہے‘ وزیراعظم دستور میں ہونےوالی 18 ویں ترمیم کو وفاق کے دیوالیہ ہونے کی وجہ قرار دیتے ہیں‘ وزیراعظم کا کہناہے کہ صوبے اس ترمیم کے تحت ٹیکس جمع کرنے میںناکام رہے ہیں‘ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام کی بات ان کی جانب سے نہیں آئی اور یہ کہ اس کیلئے سب سے پہلے پارلیمنٹ کو متحدہونا ہوگا‘ وزیراعظم گڈ گورننس اور نئی لیڈر شپ لانے کا عندیہ دینے کیساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اداروں کو یک دم کوئی ٹھیک نہیں کر سکتا‘ وطن عزیز میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرمی کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے‘ اس دوران عام انتخابات بھی ہوئے اور ایوان میں حزب اقتدار اور اپوزیشن کی نشستیں تبدیل بھی ہوئیں بہت بڑے بڑے فیصلے بھی آئے اور ہائی پروفائل کیسوں میں کاروائیاں بھی ہوئیں۔

 اس ساری صورتحال میں معاشی دشواریاں بڑھتی گئیں اور اہم نوعیت کے امور یکسوہوئے نہ ہی قانون سازی کا عمل آسان ہوا‘ عین اسی روزجب وزیراعظم اپنی حکمت عملی کے بعض نکات بیان کررہے تھے‘ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن شدید احتجاج ریکارڈ کرا رہی تھی‘ اس دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونےوالے حالیہ اضافے پر نعرہ بازی بھی ہوئی اور اراکین نے سپیکر کے ڈائس کا گھیراﺅ بھی کیا‘ قومی اسمبلی میں تو سپیکر نے اجلاس بھی ملتوی کیا‘ ملکی معیشت ہو یا اداروں کی کارکردگی میں بہتری، توانائی بحران کا خاتمہ ہو یا سرمایہ کاری میں اضافہ اس سب کیلئے حکومت کی کاﺅشیں اپنی جگہ ملک میں سیاسی استحکام اور اہم امور پر قومی قیادت میں اتفاق اپنی اہمیت رکھتا ہے‘ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں جمہوریت میں قومی قیادت کو اپنا موقف پیش کرنے کا بھرپور موقع ملتا ہے لیکن اختلافات اور گرما گرم بیان بازی اس پوائنٹ پر نہیں جانی چاہیے کہ جہاں اہم معاملات اور قانون سازی کیلئے بھی یکجانہ ہوا جاسکے‘ اس وقت وطن عزیز کوتوانائی بحران کےساتھ پانی کی قلت کا سامنا ہے‘ بڑے آبی ذخائر کی تعمیرمیں اتفاق رائے بات چیت ہی کے ذریعے ممکن ہے‘ اسی طرح دیگر بہت سارے ایشوز ہیں جن پر مل بیٹھ کر بات کرنا ضروری ہے، اس مقصد کیلئے سینئر قیادت کو اپنا کردار ادا کرناہوگا تاکہ بہتر اور متفقہ فیصلے سامنے آسکیں۔

وزیراعلیٰ کا عندیہ

رمضان المبارک میںمارکیٹ کنٹرول کےلئے مختلف احکامات جاری کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے عملی نتائج یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی قابل اطمینان ہے کہ وزیراعلیٰ نے مہنگائی اور ملاوٹ مافیا کو قابو میںرکھنے کیلئے خود تمام اقدامات کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کرلیا ہے، وزیراعلیٰ کی جانب سے چھاپوں اور معائنوں کا سلسلہ یقینا ثمرآور نتائج کا حامل ہی ہوگا‘ وطن عزیز میں مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار حکومتیں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور عوام کو سروسز کی فراہمی کے حوالے سے انتہائی خوش کن اعلانات کرتی رہتی ہیں جن کا اس وقت بھرپور خیرمقدم بھی ہوتاہے یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ سرکاری اعلانات پر عملدرآمد اور عملی نتائج کے حصول کیلئے درکار مانیٹرنگ کے نظام کا ہمیشہ گلہ ہی رہا‘ وزیراعلیٰ نے عملی نتائج کیلئے ہونےوالی نشاندہی کے ایک پوائنٹ ٹائم لائن اور دوسرے چیک اینڈ بیلنس کو یقینی بنانے کی شروعات کی ہیں جو یقینا ثمرآور ہوں گی۔