84

حکومت ‘آئی ایم ایف گٹھ جوڑ

وطن عزیز میں حکمرانوں کی مہربانی سے کبھی بھی اقتصادی حالات اتنے اچھے نہیں رہے کہ جن کو خوشحالی سمجھا جائے مگر اچھے برے دنوں میں بھی عوام کو رمضان المبارک میں ریلیف دی جاتی رہی ہے‘یہ پہلا موقع ہے کہ اس مبارک مہینے میں مہنگائی بے لگام ہے اور یوٹیلٹی سٹور پر بھی چند اشیاءپر رعایت نہیں دی جا سکی حالانکہ دیگر کئی اداروں کی طرح یوٹیلٹی سٹورز بھی اربوں روپے خسارے میں ہیں اور محدود رہ گئے مراکز سے بھی بمشکل5 فیصد شہری ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘ اسکے باوجود حکومت ہر سال4ارب تک سبسڈی دیکر ایک کوشش ضرور کرتی تھی کہ روزہ داروں کو کچھ فائدہ پہنچ جائے اس بار حکومت نے6ارب روپے کی رعایت دینے کا اعلان کیا تھا اور یہ بھی کہ2مئی تک یوٹیلٹی سٹورزپر19اشیاءپر10سے15فیصد تک رعایت شروع ہو جائےگی مگریہ ممکن نہ ہو سکا اور جہاںتک مہنگائی کا تعلق ہے توگرمیوں کے روزوں میں غریبوں کی پہنچ لیموں تک ہی ہوتی تھی اس بار اسلام آباد میںلیموںکا600 روپے کلو تک ریٹ ہے جبکہ ’آج‘ میں خبر ہے کہ خیبر پختونخوا میں لیموں 1000روپے کلو کے ہوگئے ہیں‘یکم رمضان کو وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا یہ خوش فہمی تھی کہ حکومتی مشینری کے سب سے بڑے اور بااختیار فورم پر عوام کی مشکلات کم کرنے پر غور ہوگا ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی روکنے کیلئے اقدام اٹھائے جائینگے مگر وہاں بھی یہ خوشخبری سنائی گئی کہ اگلے ڈیڑھ سال تک بجلی مہنگی ہوتی رہے گی یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈیڑھ سال کے بعد کیسے سستی ہوگی جبکہ پٹرول و ڈیزل ہرماہ کی بنیاد پر مہنگا ہو رہا ہے جس کیلئے عالمی منڈی میں مہنگائی کا بہانہ بھی ختم ہوگیا ہے اب باہر تیل سستا ہورہا ہے جبکہ یہاں بدستور مہنگا ہے‘جہاں تک ملکی اقتصادی حالت کا تعلق ہے۔

 تو ہم کبھی بھی عالمی مالیاتی اداروں کی مداخلت سے پاک نہیں رہے یہاں معین قریشی اور شوکت عزیز جیسے وزرائے اعظم بھی آئے جو اپنی ڈیوٹی دیکر واپس چلے گئے مگر اس بار جو مالیاتی بندوبست کیا گیا ہے اس کو اقتصادی فیصلوں اور پالیسیوں کی باگ ڈور براہ راست آئی ایم ایف کے ہاتھ میں دےنا ہی کہا جا سکتا ہے‘ مشیر خزانہ اگر چہ پہلے بھی حکومت کاحصہ رہے ہیں مگر ان کا مستقل تعلق ورلڈ بینک کےساتھ ہی رہا ہے‘اب گورنر سٹیٹ بےنک ایسے ماہر کو لگایا گیا ہے جو آئی ایم ایف کا باقاعدہ ملازم ہے اگرچہ حکومتی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ گورنری کا چارج لینے سے پہلے انہوں نے آئی ایم ایف سے استعفیٰ دےدیا ہے مگر ان رسمی باتوں کی حقیقت کچھ اور ہوتی ہے‘ ایف بی آر کا چیئرمین بھی ایسے شخص کو لگایا گیا جس پر ایک بےنک کی نجکاری پر نیب میں انکوائری بھی ہو رہی ہے‘ بہرحال اب حکومت مالیاتی امور میں بری الذمہ ہوگئی ہے عالمی ادارے خود ہی عوام سے ٹیکسوں کی صورت میں وسائل جمع کرینگے اور خود ہی اپنے قرضے اور سود ایڈجسٹ کرتے رہیں گے اسلئے مہنگائی کی کوئی حد مقرر نہیں کی جا سکتی وزیراعظم ہاﺅس کی بھینسیں اور گاڑیاں بیچنے جیسے عبث اقدامات کے بعد اب وزراءکے چائے پانی فنڈ بند کرنے جیسے اقدامات سے عوام کو بہلایا جا رہا ہے جبکہ اخراجات اب بھی اتنے زیادہ ہیں کہ چھ ماہ مےںقرضوں کا ریکارڈ قائم ہوگیا ہے‘ 9ماہ سے ترقیاتی کام بند ہیں۔

حکومت کے پاس عوام کو ضروری سبسڈی کیلئے بھی پیسے نہیں ہیں مگر یہ پتہ نہیں چل رہا کہ اتنے نئے قرضے کہاں جا رہے ہیں‘ تحریک انصاف سے جو امیدیں لگائی گئی تھیں اور جو خواب عوام کو دکھائے گئے تھے وہ تو اب بھیانک تعبیر بن چکے ہیں‘عوام مشکلات بھی برداشت کرلیتے مگر اس کیلئے کوئی جواز توہونا چاہئے‘1998ءمیں ایک دباﺅ کے تحت پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے پڑے اسکے بعد اقتصادی پابندیوں کا جواز بناکر حکومت نے سخت فیصلے کئے سمندر پار پاکستانیوں کے فارن کرنسی اکاﺅنٹس پرقبضہ کرلیا اور کئی ٹیکس بڑھائے مگر عوام برداشت کرگئے‘موجودہ حکومت تو اس حوالے سے بھی عوام کو مطمئن نہیں کر سکتی کیونکہ تبدیلی کے تمام دعوے اور قرض نہ لینے کے اعلانات ہوا میں اڑ گئے ہیں‘ عوام کس بات کیلئے قربانی دیں اور کس مقصد کیلئے مشکلات برداشت کریں مگر حکومت کو یہ اعتماد اور یقین ہے کہ عوام بے حس ہوچکے ہےں ان کو اپنے مسائل سے زیادہ حکمرانوں سے اب بھی ہمدردی ہے وہ ایک سابق حکمران کو جیل چھوڑنے کیلئے توجلوس نکال سکتے ہےں مگر اپنے مسائل کیلئے باہر نہیں نکل سکتے اور اسمبلیوں میں صاحب اور صاحبہ کہنے پر تو ہنگامہ برپا ہوسکتا ہے مگر عوام کش اقدامات پر نہیں۔