205

پیشگی اطلاع کے بغیر بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے پر پابندی

اسلام آباد: چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی نے پہلے ہی روز اہم حکم نامہ جاری کرتے ہوئے پیشگی اطلاع کے بغیر بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے پر پابندی عائد کردی۔

ایف بی آر نے تمام چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو کو حکم نامہ جاری کردیا، جس میں بتایا گیا کہ بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لیے ایک طریقہ کار طے کردیا گیا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا کہ چیئرمین ایف بی آر کی پیشگی منظوری کے بغیر بینک اکاؤنٹس منجمند نہ کئے جائیں۔حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ بینک اکاؤنٹس منجمند کرنے سے 24 گھنٹے قبل پیشگی اطلاع دینا ضروری ہے۔

ایف آئی آر کے حکم نامے میں بتایا گیا کہ بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لیے ٹیکس دہندہ، سی ای او، پرنسپل آفیسر اور مالک کو 24 گھنٹے قبل پیشگی اطلاع دینا لازمی ہوگا۔

بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ کمیٹی یا ادارے کا اکاؤنٹ منجمد کرنے سے پہلے انہیں آگاہ کیا جائے گا۔

شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ایف بی آر اور دیگر فریقین کے درمیان تنازع کی صورت میں ادارے کے پاس بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے کا اختیار ہوتا ہے اور یہ قانونی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لیکن میں نے ہدایت کی ہے کہ ایف بی آر کسی بھی شخص یا ادارے کا اکاؤنٹ منجمند کرنے سے قبل انہیں ایک نوٹس بھیجے اور اس سے بھی پہلے چیئرمین سے منظوری لی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر حکام کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ادارے کے سی ای او کو بلا کر انہیں بھی اکاؤنٹ کے منجمد کرنے اور اس حوالے سے قانون کے بارے میں بتائیں، کیوں کہ اکثر ادارے کے مالکان سے روابط کی کمی کی وجہ سے انہیں صورت حال کی نوعیت کا علم نہیں ہوتا۔

ایک سوال کے جواب میں شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ہمارا اصل مقصد ملک میں غیر دستاویزاتی معیشت کو دستاویزی شکل میں لانا ہے جس سے ٹیکس میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ہم وہی کریں گے جو پاکستان کے لیے بہتر ہوگا جبکہ بجٹ کے لیے کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔

ایک سوال کے جواب میں شبر زیدی کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی بات نہ کریں، پاکستان کی بات کریں۔