79

لاہور میں خود کش حملہ

لاہور کے مرکزی مقام داتا دربار کے باہر سکےورٹی چیک پوسٹ پر خودکش حملے سے یہ ثابت ہوگےا ہے کہ دہشت گردوں کی نرسریاں اب بھی موجود ہیں اور کسی جگہ بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتی ہیں‘ لاہور اولین سیف سٹی منصوبے میں شامل اور تمام جدید سکےورٹی آلات سے لیس ہونے کی وجہ سے محفوظ سمجھا جاتا ہے مگر اسکے باوجود ایک اہم مذہبی اہمیت کی حامل جگہ پر ایک15سالہ بچے کو بارود سے بھر کر چھوڑ جانا سکےورٹی اداروں کیلئے ایک سوال ہے اگرچہ اس کا نشانہ بھی سکےورٹی اہلکار ہی تھے یہ بچہ اگر دربار کے اندر داخل ہوجاتا تو نقصان بہت زیادہ ہوتا‘اس سے پہلے 2009ءمیں دربار کے اندر خودکش دھماکہ ہوا تھا جب شہبازشریف کی حکومت تھی‘ اسکے بعد نئی حفاظتی حدبندی کی گئی تھی اب دربار تک جانے کیلئے زائرین کو ایک سخت تلاشی کے بعد اندر جانے کی اجازت ہے شاید یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں کو بیرونی چیک پوسٹ پر ہی دھماکہ کرنے کا موقع ملا مگر یہ بات طے ہے کہ یہ خودکش لڑکا لاہور کے اندر ہی تیار کیا گیا اور اسکو آسانی کےساتھ ہدف تک پہنچایاگیا‘اب یہ تو خودکش بمبار کی باقیات کا ڈی این اے ہونے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ وہ مقامی تھا یا باہر سے لایا گیا تھا لیکن اسکے سہولت کار یقینا مقامی ہی ہونگے ایک نوعمر لڑکے کو اس طرح خودکش بمبار بناکر اس سے دھماکہ کرانا یقینابہت بھیانک جرم ہے مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ اس مقصد کیلئے پاکستان میں رضا کار آسانی کےساتھ تیار ہو جاتے ہیں‘ کسی کی جان بچانے کیلئے رضاکار تیار کرنا زیادہ مشکل ہے۔

 مگر اپنی جان کےساتھ مزید بے گناہوں کی جان لینے کےلئے ایسے شعبدہ باز موجود ہیں جو چند دنوں کی برین واشنگ سے کچے ذہنوں کو تیار کرلیتے ہیں‘ انسانی تاریخ میں جنگی ضرورت کیلئے خودکش فدائی ہمیشہ ہی ایک موثر ہتھیار رہے ہیں اسکاموثر استعمال دوسری عالمی جنگ کے موقع پر جاپان نے کیا تھا جب اسکے پائلٹ پورا جہاز بارود سے بھر کر دشمن کے اہم ٹھکانوں پر گرادیتے ‘ جنگ میں حملہ کےساتھ دفاع کرنا بھی حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے مگر جو دشمن اپنی جان بچانے کی بجائے جان دینے پر تیار ہو اس سے دفاع بھی مشکل ہوجاتا ہے ‘جاپان کے خودکش مشن نے اتحادی افواج کو سخت نقصان پہنچایا تھا اسی لئے آخری ہتھیار کے طور پر امریکہ نے ایٹم بم استعمال کئے تھے‘کہا جاتا ہے کہ 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں چونڈہ کے ٹینکوں کی جنگ میں ہمارے فوجیوں نے جسم کے ساتھ بارودی سرنگیں باندھ کر بھارتی ٹینکوں کو تباہ کیا تھا جبکہ خودکش کار بم بنانے اور فوجی قافلوں پر حملہ کرنے کی شروعات فلسطینی فدائین نے کی تھی اسی طرح اسرائیل کو بہت نقصان پہنچایاگےاتھا پاکستان میں خودکش حملے افغان جنگ کے بعد دراصل امریکی حملہ آور فوج کےساتھ شروع ہوئے تھے پاکستان کی اسوقت کی حکومت نے امریکہ کا ساتھ دیا تھا اسلئے امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستانی فوج اور سکےورٹی ادارے ان خودکش حملوں کا ہدف بن گئے جو بعد میں عبادت گاہوں اور بازاروں میں بھی ہونے لگے۔

 افغان جنگ اور اس سے ملحقہ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں براہ راست اتنے لوگ نہیں مرے جتنے ان خودکش حملوں میں مرے‘ فوج کے سپاہی سے لیکر جنرل تک اور پولیس کے اہلکار سے لیکر آئی جی تک ان حملوں میں شہید ہوئے جبکہ مسجد‘ مدرسہ‘ امام بارگاہ اور غیر مسلم عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں‘ اس صورتحال کےخلاف2014 میں پاک فوج اور حکومت نے نیشنل ایکشن پروگرام پر اتفاق کیا فوج نے قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا جبکہ صوبوں میں سول اداروں کی مدد سے دہشت گردوں کی مدد کرنےوالوں کےخلاف کاروائی شروع ہوئی اسکے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے اب آپریشن ردالفساد کے تحت نشاندہی پر کاروائی ہوتی ہے مگر کسی نہ کسی حد تک ان دہشت گردوں کو سہولت کاری میسر ہے جسکی وجہ سے قبائلی سرحدی علاقوں کےساتھ ساتھ لاہور جیسے محفوظ شہر میں بھی ان کو دھماکہ کرنے کاموقع مل گیا‘بہرحال ایک وقفے کے بعد ہی سہی مگر لاہور جیسے سیف سٹی کے مرکز تک خودکش حملہ آور کی رسائی سے یہ بات تو ثابت ہوگئی ہے کہ نیشنل ایکشن پروگرام پر عملدرآمد کرنے میں کہیں نہ کہیں کوتاہی ہو رہی ہے‘ اسکے ساتھ ہی خصوصی فوجی عدالتوں کا قیام بھی اسی پروگرام کا حصہ تھا جنکے ذریعے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو سزائیں ہوئیں مگر اب یہ عدالتیں بھی مدت ختم ہونے پر غیر فعال ہیں اپوزیشن کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ان عدالتوں کی وجہ سے دہشت گردی میں کمی آئی تھی یا نہیں اور ان کی بحالی کیلئے حکومت سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔