73

ایف اے ٹی ایف اور بھارت

بھارتی وزیر ارون جےٹلی کا یہ کہنا کہ بھارت پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں لانا چاہتا ہے دراصل یہ اس باطنی خباثت کا اظہار ہے جو بھارت نے شروع دن سے پاکستان کے بارے میں پال رکھا ہے‘ پاکستان نے ہمیشہ اپنے دوستوں کی مدد سے ہرسفارتی فورم پر بھارت کو مات دی ہے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہونا بھی ایک لحاظ سے بھارت کی ناکامی ہی ہے کیونکہ بھارت کی یہ خواہش رہی ہے بلکہ بھارت نے اپنے ملک کے اندر اور پاکستان میں دہشت گردی کروا کر ان واقعات کا الزام پاکستان پر لگاتا رہا ہے وجہ صرف یہ تھی کہ پاکستان بلیک لسٹ ہو جائے‘اب مئی میں اےف اے ٹی اےف کا پیرس میں اجلاس ہونا ہے جس میں پاکستان کی پوزیشن پر فیصلہ ہوگا اس کیلئے بھارت پہلے ہی سے کوشش کررہاہے کہ پاکستان بلیک لسٹ ہوجائے پاکستان مےں حالیہ دنوں میں ہونیوالے دہشت گردی کے واقعات اور ان میں را اور افغان ایجنسی کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں پاکستان نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بھارت پاکستان کےخلاف فےٹف میں سیاسی طور پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے‘ پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے بجاطورپر کہا ہے کہ بھارتی وزیر کا بیان پاکستان کے خدشات کی تصدیق کرتا ہے اور اس سے ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

 تاہم اب یہ ضروری ہے کہ ایف اے ٹی ایف بھی یہ یقین دہانی کرائے کہ وہ پاکستان کے معاملے میں غیر جانبدار‘ شفاف اور تکنیکی بنیادوں پر کاروائی کرےگا اس سلسلے میں پاکستان نے رواں سال کے شروع میں فےٹف کے صدر سے مطالبہ کیا تھا کہ ایشیا پیسفک مشترکہ گروپ میں بھارت کے علاوہ کسی اور ملک کا شریک چیئرمین بنایا جائے بھارت کا پاکستان کے بارے میں رویہ دنیا کے سامنے ہے اور بھارت کے معاندانہ رویئے سے تنظیم کی شفافیت پر سوال اٹھیں گے‘ امید رکھنی چاہئے کہ اس ماہ ہونےوالے اجلاس میں پاکستان کی سنجیدہ کوششوں اور اٹھائے جانےوالے اقدامات کا غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائےگا اوربھارت کی کوششوں کو اسکے ماضی کے تناظر میں دیکھا جائیگا جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو وہ خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اسکے باوجود دنیا کے تحفظات دور کرنے کیلئے ایک بڑی جنگ لڑ رہا ہے‘اس جنگ میں پاکستان نے کامیابیاں حاصل کی ہیں‘ ہر قسم کی دہشت گردی کو شکست دی ہے اور اب پاکستان میں ایک بار پھر بین الاقوامی کھیلوں کے میدان آباد ہو رہے ہیں ‘سی پیک جےسے منصوبے کامیابی سے پایہ تکمیل کو پہنچ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف بھی نئے پیکیج دینے پر تیار ہو رہا ہے اس صورتحال کی ایف اے ٹی ایف نے تعریف بھی کی ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایسے اقدامات سے پاکستان گرے لسٹ سے بھی باہر نکل آئیگا پاکستان کی طرف سے سرمائے کی منتقلی پر سخت نگرانی رکھنے جیسے موثر اقدامات کے بعد اب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا مطالبہ ہے کہ سونے کے لین دین اور خریداری کو بھی دستاویزی صورت دی جائے سونا خریدنے کیلئے ادائیگی بینک کارڈز کے ذریعے ہو اور خریداروں کاڈیٹا اکٹھا کیا جائے تاکہ دہشت گرد اپنے سرمائے کو سونے میں تبدیل نہ کرسکیں اگرچہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں سونے کی خرید وفروخت دکانداروں کے علاوہ نجی طورپر بھی ہوتی ہے اتنی سخت مانیٹرنگ مشکل ہے مگر اسکے باوجود پاکستان نے صرافہ یونین کے ساتھ ملکر ایسے تمام راستے مسدود کرنے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے جس سے سونے کی خرید وفروخت کو مانیٹرکیا جا سکے گا‘ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو آج بھی بھارت میں دہشت گرد تنظیموں کو نہ صرف آزادی حاصل ہے بلکہ ریاستی تحفظ بھی حاصل ہے ۔

مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور اسکے خلاف کشمیری عوام کا انتخابات کا بائیکاٹ ہی بھارت کوفےٹف میں بلیک لسٹ کرنے کیلئے کافی ہے مگر مسلمانوں‘ عیسائیوں اور سکھوں کےخلاف ہندو اکثریت کا تعصب اور انتہا پسندی ساری دنیا کے سامنے ہے مگر ایسے لگتا ہے کہ جس طرح اقلیتوں کےخلاف دہشت گردی پربھارت سرکار کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی بندھی ہے اسی طرح دنیا کے جمہوریت پسند اور انصاف پسند ممالک کی نظروں پر بھی بھارت نے مسلم دشمنی کی عینک لگا دی ہے‘ دنیا کو اور خصوصاً اقوام متحدہ اور ایف اے ٹی ایف جیسے اداروں کو بھارت کی طرف سے چشم پوشی کے تاثر کو بھی زائل کرنا چاہئے کشمیر کے عوام نے مسلسل قربانیوں کےساتھ یہ بات ثابت کردی ہے کہ وہ بھارت کےساتھ نہیں رہنا چاہتے ان کےساتھ انصاف اقوام عالم پر قرض ہے مگر بھارت کی منافقانہ پالیسیوں کے باعث عالمی ادارے بھی اپنا فرض پورا کرنے میں ناکام ہیں اب وقت ہے کہ کم از کم فےٹف جیسے ادارے میں جو صرف دہشت گردی کیلئے سرمائے کی ترسیل روکنے کیلئے بنا ہے بھارت کا کردار محدود ہونا چاہئے ۔ کیونکہ دہشت گردی اور ہندو انتہا پسند تنظیموں کو بھارت میں کھربوں کی آمدنی ہوتی ہے اور یہ سب غیر ہندو اقلیتوں کے خلاف استعمال ہوتی ہے جبکہ ان تنظیموں کو سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔