196

وزیراعظم کا عزم‘ عملی نتائج؟

وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوںمیں اصلاحات کے جاری عمل میں کسی کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جائیگا‘وزیراعظم وضاحت کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری نہیں ہو رہی بلکہ اس میں پرائیویٹ ہسپتالوں کی طرز پر مینجمنٹ لائی جارہی ہے جس سے غریب لوگوں کو بھی پبلک سیکٹر میں پرائیویٹ ہسپتالوں کی طرح علاج کی سہولت مل سکے‘وزیراعظم ادویات کی قیمتوں پر کنٹرول کی ہدایت بھی کرتے ہیں وزیراعظم کا عزم انکے احساس کی عکاسی کرتا ہے ‘ وہ بطور رول ماڈل شوکت خانم ہسپتال کی مثال بھی دیتے ہیں‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ شوکت خانم ہسپتال میں خدمات کا معیار اور خصوصاً ادائیگی کرنیوالے اور فری لسٹ کے مریضوں کومساوی سروسز کی فراہمی قابل اطمینان ہی ہے‘ جہاں تک ہیلتھ سیکٹر میں ریفارمز کا سوال ہے تو خیبرپختونخوا میں یہ سلسلہ گزشتہ دور حکومت سے جاری ہے‘ اس مقصد کیلئے فنڈز کا اجراءاور خالی آسامیوں پر تقرریوں کیساتھ اس شعبے میں کام کرنے والوں کیلئے مراعات میں اضافہ بھی ہوا ہے‘ صوبے کے ہسپتالوں میں اہم کلیدی عہدوں کے نام بدلنے کیساتھ انتظامی ڈھانچوں میں تبدیلیاں بھی ہوئیں‘ اس سب کے باوجود عملی نتائج سوالیہ نشان ہی رہے‘ سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور موجودہ چیف منسٹر محمود خان اپنے اچانک دوروں میں خود صورتحال کا مشاہدہ کرچکے ہیں۔

 ان کی اپنے دوروں میں ہدایات اور وارننگ ریکارڈ کا حصہ ہے‘ صوبے کے سرکاری شفاخانوں میں رش ایک حقیقت ہے‘ اس کے مقابلے میں کم وسائل بھی یقینا سروسز کی فراہمی میں رکاوٹ ہیں تاہم خود وزیراعظم اصل مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصلاحاتی عمل میں رکاوٹ بننے والے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں علاج کا دہرا نظام جاری رہے‘ اس سب کیساتھ آن سپاٹ کڑی نگرانی کیلئے موثر نظام کا فقدان بھی ایک حقیقت ہے‘ حکومت کو اپنے وژن کو عملی شکل دینے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے‘سب سے پہلے سرکاری اور پرائیویٹ کی تقسیم کیساتھ علاج کا دہرا نظام جاری رکھنے والوں کی کوششوں کو روکنا ہوگا‘ ہسپتالوں کے اندر پرائیویٹ کلینک کی پرچی کا رسوخ ختم کرنا ہوگا‘ خدمات کی فراہمی سے متعلق صرف اعداد وشمار پر اکتفا کی بجائے آن سپاٹ حقائق کا جائزہ لینے کیلئے انتظام ضروری ہے‘ اس سب کیساتھ بڑے شہروں کے شفاخانوں پر رش کم کرنے کیلئے بنیادی مراکز صحت سے لیکر ڈسٹرکٹ وتحصیل لیول ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے‘ اس سب کیلئے موثر منصوبہ بندی ضروری ہے۔

گوادر حملہ

گوادر میں پرل کانٹی نینٹل ہوٹل پر دہشت گردوں کے حملے میں دو سکےورٹی گارڈ شہید ہوئے جبکہ رپورٹس کے مطابق تینوں حملہ آور مارے گئے‘ سہ پہر 4بجے ہونیوالے حملے کیساتھ پاک فوج نے کوئیک رسپانس دیا‘ہوٹل کے عملے اور مہمانوں کو بحفاظت نکال لیاگیا‘ داتا دربار کے قریب ہونیوالے خودکش حملے کے بعد گوادر میں پرل کانٹی نینٹل کو ٹارگٹ بنایاجانا امن کے قیام کیلئے اقدامات پر نظرثانی اور انہیں مزید فول پروف بنانے کا متقاضی ہے‘ حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر کام تیز کرنے کا فیصلہ بھی ہوا ہے‘ کیا ہی بہتر ہو کہ لوکل سطح پرسکےورٹی انتظامات میں عوام کو بھی شریک کیا جائے‘ اس بات کو مدنظر رکھاجائے کہ گلی محلوں کی سطح پر اقدامات اسی صورت زیادہ ثمر آور ہوسکتے ہیں جب ان میں مقامی آبادی شامل ہو۔