156

پاکستان اپنی ویزا پالیسی پر نظرثانی کرے، چین

چین نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کو اپنی ویزا پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ چند میرج بیوروز ویزا آن آرائیول کی پالیسی کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

 خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان زاو نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ پاکستان کو خاص طور پر ان چینی باشندوں کو دیکھنا چاہیے جو وہاں جاکر شادیاں کرتے ہیں، ساتھ ہی یہ معلوم کرنا چاہیے کہ وہ کن کاروباری اداروں اور ایوان صنعت و تجارت کی دعوت پر وہاں آئے ہیں۔

چینی باشندوں کی پاکستانی لڑکیوں سے شادی اور پھر انہیں زبردستی جسم فروشی کروانے اور ان کے اعضا بیچنے سے متعلق شکایات پر چینی عہدیدار کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس ہمارے پاس 142 کیسز آئے، جن میں سے صرف کچھ ایسے کیسز تھے، جس میں کوئی مسئلہ تھا اور ہم ان تمام کیسز کی تحقیقات کر رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو ہم مدد کریں گے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے انٹرنیٹ اور میڈیا پر جھوٹ پھیلایا جارہا ہے کہ پاکستانی لڑکیوں کو زبردستی جسم فروشی یا ان کے اعضا فروخت کرنے کے لیے بھیجا جارہا ہے لیکن یہ خودساختہ ہے۔

لی جیان زاو کا کہنا تھا کہ یہ سنسنی پھیلانے کے لیے کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں ہے اور اگر ایسے کوئی ثبوت ہیں تو مجھے فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ اس سال چین میں شادی کے لیے ویزوں کے کیسز میں کافی اضافہ ہوا ہے، اس کے لیے ہم نے پاکستانی حکام کو الرٹ کردیا ہے اور اسی لیے پاکستانی ادارے کارروائی کر رہے ہیں، تاہم میرا خیال ہے کہ ہمیں ویزا پالیسی کا ازسر نو جائزہ لینا چاہیے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو کاروباری ویزا پر آئے ہیں۔

اپنے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا وہ واقعی کاروبار کے لیے آئے ہیں یا وہ یہاں بیوی کی تلاش میں آئے ہیں۔

چینی عہدیدار کا کہنا تھا کہ چینی باشندوں کی پاکستانی لڑکیوں سے شادی کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ کی شکایت کے بعد اسلام آباد میں موجود چینی سفارتخانے نے 90 پاکستانی ’دلہنوں‘ کے ویزے روک لیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال شادی ویزا کی درخواست میں اضافہ ہوا، گزشتہ سال 142 چینی شہریوں نے اپنی پاکستانی بیویوں کے لیے سفارتخانے سے ویزے لیے تاہم اس سال چند ماہ میں ہی 140 درخواستیں موصول ہوگئی، جس پر چینی سفارتخانہ محتاط ہوگیا اور 90 ویزے روک دیے گئے جبکہ 50 پاکستانی ’دلہنوں‘ کو ویزا جاری کردیا گیا۔

ڈپٹی چیف آف مشن کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس کے 142 کیسز میں سے کچھ میں تشدد یا ہراساں کرنے کی شکایات آئیں تاہم یہ تمام شادیاں قانونی تقاضے پورے کرکے کی گئیں تھیں۔

قانونی تقاضوں کے بارے میں مزید واضح کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان تمام چینی باشندوں نے پاکستانی سفارتخانے سے ویزے لیے اور وہ وہاں گئے، پھر وہی یونین کونسل سے نکاح نامے لے کر رجسٹرار کے دفتر گئے، اس کے بعد وہ وزارت خارجہ سے تصدیق کے لیے گئے اور چینی سفارتخانے سے اپنے کاغذات کی تصدیق کروائی، مزید براں انہوں نے اپنی بیویوں کے ویزا کی درخواست دی، اس لیے یہ تمام شادیاں قانونی ہیں اور ہم ان کے تحفظ کی کوشش کر رہے ہیں۔

اپنی گفتگو کے دوران 2 کیسز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک پاکستانی خاتون کو اپنے شوہر سے مسئلہ تھا، اس پر انہوں نے ایک پاکستانی وزیر کا خط لکھا، جس پر وزارت خارجہ اور چینی سفارتخانے نے فوری ایکشن لیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ چینی حکومت اور پولیس تفتیش سے یہ بات ثابت ہوئی کہ خاتون پر تشدد نہیں ہوا لیکن ان کی اپنے شوہر سے طلاق ہوگئی، جس پر وہاں (چین) کی حکومت نے پاکستانی خاتون کو ٹرین اور ہوائی جہاز کا ٹکٹ دیا اور وہ خاتون پاکستان آگئی۔

یہ بھی پڑھیں: چینی شہریوں سے ’شادی‘ کرنے والی 2 بہنوں کو آخری لمحات میں بچا لیا گیا

چینی عہدیدار نے ایک اور کیس کے بارے میں بتایا کہ چین میں پاکستانی خاتون نے اپنے شوہر کی جانب سے ہراساں کرنے کی شکایت کی اور وہ بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہاں چینی دفترخارجہ اور پاکستانی سفارتخانے نے دونوں میں صلح کروائی اور پھر خاتون اپنے شوہر کے ساتھ چلی گئی۔

لی جیان زاو کا یہ بھی کہنا تھا کہ چینی سفارتخانہ تمام پاکستانی خواتین کی مدد کے لیے تیار ہے، اس سلسلے میں حال ہی میں چینی ٹاسک فورس کے دورہ پاکستان کے بعد ایک طریقہ کار بھی بنایا گیا ہے، جس کے تحت کوئی بھی پاکستانی کال کرکے ان شادیوں کے حوالے سے سفارتخانے سے مدد طلب کر سکتا ہے اور اگر کوئی مسئلہ ہو گا تو چین کی حکومت اور پولیس مدد کرے گی۔

تاہم اس دوران انہوں نے یہ واضح کیا کہ میڈیا پر دیے جانے والے تاثر کے برعکس ہر چینی باشندے کی پاکستانی لڑکیوں سے شادی جعلی نہیں ہے۔

ڈپٹی چیف آف مشن کا کہنا تھا کہ نئے کیسز پر بھی تحقیقات کی جارہی ہیں، اگر کوئی جرم ہوا تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا اور ان افراد کے خلاف کارروائی میں پاکستانی اداروں کی مدد بھی کریں گے۔