72

آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل

آئی ایم ایف کےساتھ ڈیل ہوگئی ہے‘ حکومت خوش ہے کہ اب معاشی گاڑی چل پڑے گی جبکہ عوام پریشان ہیں کہ اب انکی معیشت ڈوب جائیگی‘ کہا جارہا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانی پڑیں گی اور یہ بات عوام ہی جانتے ہیں کہ پٹرول کی قیمت اپنی ترکیب کےساتھ بڑھتی رہے گی‘ ان تےن چیزوں کے نرخ کےساتھ ہر ضرورت کی چیز جیسے بندھی ہوتی ہے اور اب حکومت کو کوئی اور گناہ اپنے سر لینے کی ضرورت نہیں رہے گی‘ باقی سب کچھ خود کار طریقے پر ہو جائیگا اور سبز مرچ سے لیکر پیاز تک اور دودھ سے لیکر صابن تک روزمرہ کی ضروریات کی قیمتیں آسمان کی طرف اڑنے لگیں گی‘ کہا جارہا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران حکومت نے آئی ایم ایف کےساتھ مذاکرات میں بہت مزاحمت کی‘کئی سخت شرائط کو نرم کرایا‘سابق وزیر خزانہ اسد عمر زیادہ مزاحم تھے انکے پاس کوئی عالمی تجربہ نہیں تھا اسلئے وہ آئی ایم ایف کا پروٹوکول نہیں سمجھتے تھے اسلئے پہلے ایسی ٹیم سامنے لائی گئی جو ایسی نزاکتوں سے آگاہ تھی اور پھر معاہدہ ہوگیا‘ ہم سمجھ رہے تھے کہ6ارب ڈالر ایک سال میں مل جائینگے مگر ہمارے لئے یہ انکشاف ہی ہے کہ یہ رقم تین سال کے دوران ملے گی۔

 یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ہمیں ہر سال12ارب ڈالر قرضوں کی قسطیں واپس کرنی ہیں اب یہ آئی ایم ایف کے2 ارب ڈالر سالانہ کہاں تک مدد کرینگے یہ بھی ماہرین ہی بتا سکتے ہیں جہاں تک آئی ایم ایف کا تعلق ہے تو یہ پاکستان جیسے ممالک کو اپنے اقتصادی جال میں جکڑنے کیلئے ہر وقت تیار رہتی ہے‘ پاکستان کی تاریخ میں ایک تلخ سچائی یہ ہے کہ صرف جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستان آئی ایم ایف سے آزاد ہوا تھا اسکے بعد پھر جمہوریت آگئی اور جونوجوان لیڈر آج آئی ایم ایف کےساتھ معاہدے پر سخت ناراض ہو رہے ہیں اور اسکو پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ان ہی کی حکومت نے دوبارہ بالا ہی بالا اسی عالمی ساہو کار کو دوبارہ پاکستانی معیشت میں داخل کیا اور وہ بھی بذریعہ عبدالحفیظ شیخ‘ جو آج ناپسندیدہ ہیں موجودہ حکومت کے پاس سخت شرائط کےساتھ قرضے لینے کی ضرورت اسلئے بھی ہے کہ ایک سابق ماہر اسحاق ڈار نے موٹروے اور ریلوے لائن سمیت ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کے اثاثے بھی گروی رکھ کر قرض لے رکھے ہیں جو بچانے کیلئے مزید قرضوں کی ضرورت ہے اسحاق ڈار جس قدر ڈالرباہر بھجوانے میں ماہر تھے اگر اتنے ہی پاکستان لانے میں بھی مہارت دکھاتے تو شاید آج وہ بھی بھاگنے پر مجبور نہ ہوتے اور ملک میں رہ کر سیاست کرتے مگر انہوں نے ایک پورا سیاسی دور ہی داغدار کرکے رکھ دیا اور آج ملک بھی گروی ہے اوروہ بھی مفرور ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ عدالتوں میں آکر اپنے اوپر الزام صاف کرنے کی بجائے لندن میں بیٹھ کر بھاشن دیتے ہیں بہرحال جو کچھ آج عوام بھگت رہے ہیں۔

 یہ10ماہ نہیں بلکہ بڑی پارٹیوں کے دس سال کی کارگزاری کا شاخسانہ ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ کون کون اور کس کس طرح لوٹ مار کا پیسہ باہر بھجواتا رہا بہرحال ...حالات کی تلخی نے قلم کی زبان کو بھی تلخ کردیا ہے کیونکہموجودہ حالات میں صرف ریڑھی بیلچہ چلانے والا مزدور ہی نہیں قلم چلانے والا مزدور بھی متاثر ہوا ہے‘ یہ طبقہ بھی غیر یقینی کے عذاب میں مبتلا اور بے روزگاری سے دوچارہے‘عام آدمی توصرف موجودہ حکمرانوں کو ہی کوس سکتا ہے اور ایسا کرنا بھی چاہئے مگر قلم وقرطاس سے وابستہ مزدور کو ان حالات کے ذمہ داروں کا بھی پتہ ہے اسلئے اس کا اظہار بھی کرناپڑتا ہے‘ اب نیا معاہدہ تو ہوگیا ہے ان شرائط کے مطابق اب بجٹ سفارشات آئینگی اور جیسا تیسا بھی ہے عوام کو جھیلنا ہوگا مگر اب حکومت کو یہ کوشش بھی کرنی ہوگی کہ اوورسیز پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ بھیجنے کی طرف راغب کرے‘ اس کیلئے یہاں ٹیکس نظام شفاف اور سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار بنانا ہوگا بیرون ملک پاکستانی اپنا سرمایہ یہاں لانے کے خواہشمند ہیں مگر عدم تحفظ کے باعث خوفزدہ ہیں وہ جائیداد خریدنا چاہیں تو قبضہ گروپ ان کی جائیداد پر قبضہ کرلیتے ہیں اگر کوئی کاروبار کرنا چاہیں تو مقامی محکمے ان کو بھگا دیتے ہیں۔

 ‘اس کیلئے گورنر پنجاب چوہدری سرور نے مسلم لیگ ن کے دور میں کوششیں کیں تو مسلم لیگی حکومت سے اختلاف پیدا ہوا‘ پہلی بار پتہ چلا کہ سیاسی حکومتیں قبضہ گروپوں کی پشت پناہ ہیں اور انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم پر بھی یہ اندازہ ہو جاتا ہے‘ موجودہ حکومت کے بھی فنانسر ایسے ہونگے لیکن عمران خان کو ان کے چنگل سے نکل کر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد بحال کرنا ہوگا‘ عمران خان کو یہ سوچنا ہوگا کہ ان کے نجی منصوبوں کے لئے یہ لوگ پورے اعتماد کےساتھ فنڈز بھیجتے ہیں مگر ان کی حکومت پر اعتماد نہیں کرتے اور سرمایہ کاری پر تیار نہیں‘اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ایسا نظام وضح کرنے کی ہے جس پر اوورسیز پاکستانی اعتماد کریں اور اپنا سرمایہ وطن میں لانے پر تیار ہوں اور اللہ کرے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ یہ آخری معاہدہ ہو مگر یہ کام دعا سے نہیں ہوگا بلکہ دوا بھی کرنا پڑیگی اور وہ ہے صرف ملک کیلئے سوچنا اور حسب استطاعت قربانی دینا جس کیلئے ہم تیار نہیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔