75

وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے درمیان دیواریں

یہ صرف عمران خان تک محدود نہیں، وزیراعظم کے منصب کے ساتھ ہی کچھ ایسی غیر مرئی دیواریں کھڑی ہوجاتی ہیں کہ ارکان پارلیمنٹ کیا، کابینہ کے ارکان بھی ملنے کو ترستے رہتے ہیں‘ چند قریبی پارٹی رہنما اور چند بیورو کریٹ ایک گھیرا ڈال لیتے ہیںاور پھر ارکان پارلیمنٹ وزیراعظم سے دور ہوتے جاتے ہیں، شکوے شکایات پیدا ہوتے ہیں اور پارٹی میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں‘ شاید اسی لئے وزیراعظم عمران خان نے ایک ایسی 20 رکنی کور کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو ارکان پارلیمنٹ کی شکایات کا ازالہ کرنے کیساتھ ساتھ پارٹی کے اندر اختلافات کو ختم کرنے کاکام بھی کرےگی‘ اطلاعات کے مطابق مجوزہ کمیٹی میں16 ممبر کابینہ سے ہونگے جبکہ4 ممبر پارٹی تنظیم سے ہونگے‘ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ یہ کمیٹی تحریک انصاف کے ارکان پارلیمان کی شکایات کو ختم کر پائے گی یا وزیراعظم سے مزید شکایات کا موجب بنے گی‘ ہمارے خیال میں پارٹی کے اندر اختلافات دور کرنے یا کم از کم ان کو میڈیا تک پہنچنے سے روکنے کیلئے اس طرح کی کور کمیٹی موثر ہوسکتی ہے مگر وزیراعظم کے متبادل کے طورپر کوئی بھی اس کو قبول نہیں کرے گا‘بلکہ یہ ایک اور دیوار ہی بن جائے گی جو ارکان پارلیمنٹ اور وزیراعظم کے درمیان کھڑی کر دی گئی ہو‘ جو بات کوئی رکن اسمبلی وزیراعظم کےساتھ کرنا چاہتا ہے یا کرسکتاہے وہ کسی دوسرے کے سامنے نہیں ہوسکتی۔

 براہ راست رابطہ کی اہمیت ہی الگ ہے‘ اس طرح کی دیواریں پہلے بھی وزرائے اعظم کے آگے کھڑی رہی ہیں بلکہ ایک خاص گروہ یہ کردار ادا کرتا آیا ہے میاں نواز شریف کے دوسرے دور میں ان کو اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل تھی، 50 سے زائد کابینہ ارکان ا ور دوسو قومی اسمبلی کے ممبران ایک بہت بڑی پارلیمانی پارٹی تھی مگر اس وقت بھی وزیراعظم سے کسی وزیر کا ملنا بھی دشوار ہوتا تھا‘ چوہدری نثار علی ایک غیر اعلانیہ ڈپٹی پرائم منسٹر بنے ہوئے تھے اور ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت تھی کہ وہ وزیراظم کی بجائے چوہدری نثار سے مل کر مسئلے بتائیں اور چوہدری نثار کا رویہ سب جانتے ہیں کہ کیسا ہوتا تھا اس وجہ سے بھی بہت سے ارکان پارلیمنٹ نواز شریف سے ناراض تھے اگر اس وقت فلور کراسنگ کی قانونی شق موجود نہ ہوتی تو فارورڈ بلاک بن جاتا، مگر نشست سے محرومی کا خوف خاموش رکھے رہا اسی لئے جب نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی اور ایک سال بعد ہی وہ جنرل پرویز مشرف سے معاہدہ کرکے اور اپنے مقدمات ختم کروا کر سعودی عرب گئے تو پارٹی ٹوٹ پھوٹ گئی، محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں تو انہوں نے سب سے پہلے پارٹی کے سینئر راہنماﺅں اور اپنے والد کے ساتھیوں سے جان چھڑائی کیونکہ وہ ”انکلز“ کی فرمانبرداری ہیں کرسکتی تھیں بلکہ انہوں نے اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو سے پارٹی کی چیئرمین شپ بھی چھین لی تھی اور اپنی پولٹیکل سیکرٹری ناہید خان کو ڈپٹی پرائم منسٹرجیسے اختیارات دے رکھے تھے۔

 کوئی بھی پارٹی عہدیدار یا رکن پارلیمنٹ وزیراعظم سے پہلے باجی ناہید خان سے ملتا اور وہ ضروری سمجھیں تووزیراعظم سے ملنے کی اجازت دیتی تھیں‘بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں تو آصف زرداری خود پورے اختیارات سنبھال چکے تھے، آصف زرداری نے بے نظیر کو اس بات پر قائل کر لیا تھا کہ اگر ہمیں سیاست میں نواز شریف کا مقابلہ کرنا ہے تو پھر دولت بھی اس جتنی کمانی ہوگی اور پھر آصف زرداری نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا‘ باقی سب تاریخ ہے،نواز شریف کے تیسرے دور میں ان کا رویہ آدم بیزار سا رہا، حکومتی فیصلوںمیں اسحاق ڈار ان پر حاوی تھا جبکہ چوہدری نثار کو اس بار رسائی نہیںمل سکی‘ کچھ عرصہ بعد مریم نواز اور پرویز رشید جیسے لوگ نواز شریف کے آگے دیوار بن گئے تھے‘ انہوںنے صرف پارٹی لیڈروں اور کابینہ ارکان سے ہی دور نہیں کیا بلکہ بار بارفوج کے ساتھ تلخی پیداکرکے خوار بھی کیا‘ ایک وقت ایسا آیا کہ نواز شریف کسی سینئر راہنما سے بھی بات کرنے کو تیار نہیں تھے اور پرویز رشید کا نظریہ ہی ان پر حاوی ہوگیا تھا حالانکہ وہ کسی اور کے مشورے پر عمل کرتے تو پنامہ لیکس سے بھی بچ کر نکل سکتے تھے مگر قریبی کچن کیبنٹ نے ان سے باربار غلط فیصلے اور جھوٹ پر جھوٹ بول کر بالآخر نااہل کروا کر ہی چھوڑا‘ یہ ایک سیاسی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہوگیا کہ ایک پارٹی اپنے قائد کو جیل سے نکالنے کے مشن پر تھی مگر پھر ایک جلوس کیساتھ اس کو جیل میں چھوڑ کر آئی‘ بہرحال اقتدار سے باہر ہونے کے بعد بھی نواز شریف ان مشیروں سے جانی نہیں چھڑاپائے جن کی وجہ سے یہاں تک پہنچے تھے‘ ا ب وزیر اعظم عمران خان اسی راستے پر گامزن ہیں‘ اب کسی نے تجویز دی کہ ایک وسیع تر کور کمیٹی بنا دی جائے جو ارکان پارلیمنٹ کے مسائل حل کرے حالانکہ اس قسم کی کمیٹیاں مسائل کو پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیںاور وزیراعظم سے مزید دوری کا موجب ہوتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔