156

ڈالر کی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح سے پھر 144 پر واپسی

اوپن مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر 2 روپے 25 پیسے اضافے کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح 146 روپے 25 پیسے پہنچنے کے بعد پھر نیچے آگئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ہدایت پر ایکسچینج ریٹ کو فری کرنے کی خبروں پر مارکیٹ سے امریکی ڈالر غائب ہوگیا۔ مذکورہ ہدایت پر ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوگیا جس کی وجہ سے لوگ بڑی پیمانے پر خریداری کر رہے ہیں۔

آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کے تحت پاکستان کو ایکسچینج ریٹ کو آزدانہ بنانا ہوگا جس پر کرنسی ڈیلرز کہتے ہیں کہ ایکسچینج ریٹ کوفری کرنے سے ڈالر کی قیمت بڑھے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کی افواہوں پر بازار میں ڈالر غائب ہوگیا ہے۔

سیکریٹری ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ظفر پراچہ جنرل کا کہنا ہے کہ لوگ ڈالر خرید رہے ہیں لیکن اس کے مارکیٹ سے غائب ہونے پر اسٹیٹ بینک نوٹس لے۔

سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس عبداللہ زکی بھی روپے کی قدر میں متوقع کمی پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ روپے کی قدر میں مزید کمی کی گئی تو اس کے منفی اثرات ہر شعبے پر آئیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کی خبریں چل رہی ہیں اور روپے کی قدر میں کمی سے ملک میں مہنگائی بڑھے گی۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کے تحت پاکستانی کرنسی کو طلب و رسد کے مطابق لچک دار کیا جائے گا، جس سے خدشہ ہے کہ ڈالر کی قیمت 15 سے 20 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔