91

ایمنسٹی سکیم

حکومت نے جو کام کرنا ہو اس کیلئے ہزار راستے نکال لئے جاتے ہیں‘اثاثہ جات ظاہر کرنے کیلئے ایمنسٹی سکیم لائی گئی تو عجلت میں قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس ختم کئے گئے تاکہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سکیم نافذ کی جاسکے پارلیمنٹ میں یہ سکیم منظور کرانا مشکل تھا کیونکہ اس میں سرکاری یا سیاسی عہدہ رکھنے والوں کیلئے سہولت نہیں ہے اور جعلی یا بے نامی اکاﺅنٹس کے ذریعے کرپشن کی دولت ادھر ادھر کرنےوالوں کو بھی فائدہ نہیں ہوگا‘ اسی لئے تو عام سیاستدان اس سکیم کو بے سود قرار دے رہے ہیں اور صدارتی آرڈیننس کے ذریعے لانے کو پارلیمنٹ کی توہین قرار دے رہے ہیں‘ ویسے دیکھا جائے تو ہمارے ہاں اکثر لوگوں کے پاس جائز ذرائع آمدنی سے زائد اثاثے ہیں‘ان میں اضافہ پراپرٹی کے کاروبار کے بعد ہوا ہے‘ ماضی میں امیر لوگوں کے پاس جو بھی کاروبار یا تجارت کاذریعہ ہوتا یا کوئی کارخانہ ہوتا تو یہ سب رجسٹرڈ اور ٹیکس لینے والے اداروں کے نوٹس میں ہوتا مگر پراپرٹی کا کاروبار ایسا شروع ہوا کہ منافع کی شرح ہر کاروبار سے زیادہ اور کسی جگہ رجسٹریشن کی ضرورت بھی نہیں اور پھر ہاﺅسنگ سوسائٹیوں نے تو کاروبار سے زیادہ لوٹ مار کا سلسلہ دراز کردیا‘اکثر سیاستدان کسی نہ کسی طرح اس کاروبار سے منسلک ہیں اور کسی جگہ صنعتی زون بنانے یا موٹر وے بنانے سے پہلے مجوزہ علاقے میں سستی اراضی خریدکرپھر سرکاری وسائل سے وہاں سہولیات پہنچاکر بھاری منافع کمایا جاتارہا ہمیں یاد ہے کہ موٹر وے کی تعمیر کے دوران کئی بار اسکے روٹ کو تبدیل کیا گیا اسکی وجہ بااثر حکومتی وزراءکا دباﺅ تھا جو اپنی زمینوں کے قریب سے اسے گزارنے پر بضد تھے۔

پراپرٹی کے کاروبار میں صرف راولپنڈی اسلام آباد کے گردونواح میں آباد ہونیوالی غیر قانونی بستیوں میں بھی سینکڑوں لوگ راتوں رات کروڑ پتی بن گئے ‘شہری حدود سے باہر جس طرف نکلیں نئے نئے پلازے تعمیر ہو رہے ہیں اور انکے مالکان کا ٹیکس نیٹ میں نام تک نہیں اور نہ ہی ٹیکس ادارے ان تک رسائی رکھتے ہیں‘ایسے لوگوں کے پیچھے بھی مقامی سیاسی لوگ ہیں ‘ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے وسیع فراڈ میں یقینی طور پر انتظامیہ کے افسران کی معاونت یا چشم پوشی شامل ہوتی ہے اور یہ بلاوجہ نہیں ہوتی‘ اصل بے نامی جائیدادیں اور اثاثے ان افسران کے ہیں جن پر ان کے رشتہ دار قابض ہیں‘ یہ ان سے واپس بھی نہیں لے سکتے اور ظاہر بھی نہیں کرسکتے اس لحاظ سے دیکھا جائے تو بدعنوانی کرنےوالوں کو دنیا میں ہی یہ اذیت دیکھنی پڑتی ہے کہ ان کی کمائی پر دوسرے موج کر رہے ہوتے ہیں مگر وہ صرف بے بسی سے دیکھتے رہتے ہیں‘ایمنسٹی سکیم کیلئے وزیراعظم عمران خان کو مشکل سے راضی کیا گیا کیونکہ ایسی جائیدادوں کی تلاش اور ان کو ضبط کرنے جیسے اقدامات ناممکن حد تک مشکل ہیں اور حکومت کے معاشی ماہرین چاہتے ہیں کہ کسی طرح ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو اور وقتی طورپر بھی محاصل وصول ہوجائیں‘ ہر آدمی جو اپنے اثاثے یا نقد رقم ظاہر کرے گا اس کوٹیکس فائل بھرنی ہوگی اور اس طرح مستقبل میں ٹیکس نیٹ میں آجائے گا۔

 شاید ٹیکس دینے کا خوف ہی تھا جسکی وجہ سے دولت مندوں نے اپنی دولت سے ڈالر اور سونا خریدنے کو ترجیح دی اور چند دنوں میں طلب بڑھنے پر ڈالر کی قیمت بھی بلند ہوگئی اور سونا بھی‘اگرچہ وزیراعظم نے سخت ہدایات دےکر اور کرنسی ڈےلرز کو بلاکر اس وقتی اڑان کو روک دیا ہے مگر مارکیٹ کا یہ اصول ہے کہ جس چیز کی طلب بڑھے اسکی قیمت بھی بڑھتی ہے اور ویسے بھی آئی ایم ایف کے معاہدے میں بھی یہ بات شامل ہے کہ اس سال کے اختتام تک ڈالر150 روپے تک لانا ہے حالات جیسے چل رہے ہیں یہ کوئی مشکل ہدف نہیں ہے ‘ایمنسٹی سکیم کے ذریعے اثاثے ظاہر کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی گنوایا جاتا ہے کہ اس طرح خفیہ دولت سامنے آتی ہے روپیہ گردش میں آتا ہے اور معیشت کا پہیہ چلتا ہے مگر ہمارے سرمایہ داروں کو صرف دولت جمع کرنے اور جائیدادوں کی صورت میں منجمد کرنے کا زیادہ شوق ہے اسلئے جس قدر دولت موجود ہے اس سے سماجی فائدہ نہیں پہنچ رہا اب تو سٹاک مارکیٹ بھی غیر یقینی کے حالات سے دوچار ہے بڑے بڑے سرمایہ کار اپنے حصص نکال رہے ہیں اسی لئے سٹاک ایکس چینج میں آئے روز نقصان ہوتا ہے‘ کہتے ہیں دنیا امید پر قائم ہے اور ہم تو ویسے بھی امیدوں کے سہارے چل رہے ہیں‘ اللہ کرے حکومت کے اندازے درست ثابت ہوں اور دو سال میں ہی سہی معیشت بحال ہو جائے تو یہ بھی برا نہیں ہے مگر گزشتہ 15 سال سے یہ ملک اسی قسم کی امیدوں پر چل رہا ہے اور ترقی معکوس کا سفر جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔