179

پاک فضائیہ‘عظمت کی نئی بلندیاں

 ایک ایسے عالم میں کہ ہر طرف مایوسی کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں دل کو ہزار تسلی دیں کہ دن بدل جائینگے مگر تبدیلی کا سونامی امیدوں کو بھی بہالے گیا ہے‘ ایسے میں اگر کسی قومی ادارے کی طرف سے حوصلہ افزاءخبر آئے تو مرجھائے دلوں کو سکون سا محسوس ہوتا ہے‘یہ خبر عام طورپر خبروں سے دور رہ کر یکسوئی کےساتھ کام کرنےوالی پاک فضائیہ کی طرف سے ہے جسکے ذیلی ادارے پاکستان اےروناٹیکل کمپلیکس میں پاکستان کے فخر جے ایف17تھنڈر طیاروں کی نئی جنریشن بلاک3 کی تیاری شروع ہوچکی ہے‘ جدید ترین ریڈار سے لیس یہ کثیر الجہت طیارہ مارچ2020ءتک آپریشنل ہوجائیگا یہ خوشخبری پاکستان ائر فورس کے سربراہ ائرچیف مارشل مجاہدانورنے ایک انٹرویو میں سنائی‘ اسی انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پی اے سی میں جے ایف17تھنڈر کے بلاک2کی کھیپ مکمل ہو چکی ہے جبکہ اسی طیارے کے تربیتی ضرورت کیلئے دونشستوں کے ماڈل بھی تیار کئے جارہے ہیں ‘یاد رہے کہ پی اے سی میں چین کے اشتراک سے تیار ہونیوالے اس جدید طیارے کی پروڈکشن2009ءمیں شروع ہوئی تھی اور اب تک یہ100 طیارے بنائے جاچکے ہیں جبکہ اسکے تھرڈ جنریشن میں مزید جدید ریڈار ٹیکنالوجی اور تباہ کن ہتھیاروں کےساتھ مسلح کرنے کی تیاری بھی شروع ہے۔

 پاکستان ائر فورس وہ قابل فخر قومی ادارہ ہے جس نے ہمیشہ قوم کا سرفخر سے بلند رکھا ہے‘ آسمان کی بلندیوں پر راج کرتے جدید طیاروں سے زیادہ بلند عزم رکھنے والے شاہینوں نے جب بھی موقع آیا قومی پرچم کو سربلند رکھا ہے‘اسکا تازہ ترین مظاہرہ اس سال کے شروع میں بھارت کی بے وقوفی سے شروع ہونے والی ایک جھڑپ میں بھی ہوا تھا جو جے ایف تھنڈر کی آپریشنل کارکردگی اور جنگی حالات میں تکنیکی امتحان بھی تھا جس میں ائرفورس سرخرو ٹھہری اور اسکے شاہینوں کی مہارت اور انجینئرز کی صلاحیت نے دشمن کا غرور خاک میں ملادیا‘ یہ بات ایک اعزاز کی حیثیت رکھتی ہے کہ ایسے طیاروں کی پاکستان میں تیاری کی سنچری مکمل ہوچکی ہے اور اب اسکے جدید ایڈیشن میں وہ تمام نظام رکھے گئے ہیں جو ہمسایہ دشمن کو مستقبل میں ملنے والے فرانس کے رافیل طیاروں میں ہو سکتے ہیں ‘فروری میں ہونیوالی فضائی جھڑپ میں بھارت کی رسوائی پر بھارتی وزیراعظم نے کئی مضحکہ خیز جواز پیش کئے جنکی وجہ سے خودان کی اور بھارتی فضائیہ کی مزید جگ ہنسائی ہوئی‘ پہلے تو مودی جی نے انکشاف کیا کہ فضائیہ پاکستان میں حملہ کرنے پر تیار نہیں تھی کئی دن سے ہچکچاہٹ طاری تھی پھر موسم خراب ہوا تو میں نے کہاکہ بادل ہیں انکے باعث ہمارے جہاز ریڈار میں نہیں آئینگے اس طرح26فروری کو حملہ کیاگیا ‘دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ وزیراعظم کی اس ذہانت پرائرفورس کے کسی ذمہ دار نے بھی نہیں بتایاکہ بادلوں سے ریڈار کی صلاحیت متاثر نہیں ہوتی بہرحال پاک فضائیہ کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کا اعتراف کرتے ہوئے مودی نے یہ حسرت آمیز مایوسیانہ بہانہ سازی کی کہ بھارت کے پاس رافیل طیارے ہوتے تو ہماری یہ درگت نہیں بنتی‘جہاں تک رافیل طیاروں کی خریداری کا تعلق ہے ۔

تو بھارت کے پردھان منتری نے اس بڑے سودے میں بھی ملکی ضرورت سے زیادہ ذاتی مفاد اٹھانے کو ترجیح دی اور براہ راست فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی سے خریداری معاہدہ کرنے کی بجائے بھارت کے ایک بڑے سرمایہ دار کےساتھ سودا کیا اس میں اربوں روپے کے کمیشن کا معاملہ بھی سامنے آگیا ہے ‘یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ1965ءکے معرکے سے لیکر 2019ءکی جھڑپ تک‘ پاکستان کے شاہینوں نے بھارت کو کم صلاحیت کے طیاروں کےساتھ شکست دی ہے اور دنیا میں پاکستان ائرفورس کی دھاک اسکے جہازوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اسکے شاہین صفت پائلٹوں کی وجہ سے ہے اور یہ وہ جذبہ ہے جو سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہا ہے ‘بھارتی پائلٹوں کو توزبردستی پاکستان کی طرف بھیجا جاتا ہے مگر پاکستان کے ہر پائلٹ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دشمن پر جھپٹے مگر یہ نصیب کی بات ہے کہ کس کے حصے میں سعادت آتی ہے اللہ پاکستان کے فخر کو فخر بنانے والوں کو سلامت رکھے اور کامیابیوں کی بلندی مزید عظمتوں کو چھوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔