71

افطاریوں کا موسم

 اللہ تعالیٰ روزہ داروں پر مہربان ہے رمضان آدھا گزر گیا مگر موسم ایسا رہا کہ گرمی نے تنگ نہیں کیا ایک مستقل روزہ دار دوستم کا گلہ ہے کہ افطاری کے وقت وہ پیاس ہی نہیں ہوتی جس سے افطار کا مزہ دوبالا ہوتا ہے‘ رب کریم کی عنایات اپنی جگہ مگر لوگوں نے اس کا توڑ کرنے کیلئے مہنگائی کا طوفان برپا کررکھا ہے‘ مختلف شہروں میں انتظامی افسران مارکیٹوں کے دورے کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ قیمتوں کو قابو میں رکھنے کیلئے کوشاں ہیں مگر انتظامی چابکدستی یہ ہوتی ہے کہ یہ افسران دفتر میں ہوں پھر بھی مارکیٹ میں اثر ہو‘ غریب آدمی کے روزے تو حسب معمول سخت بھی ہیں اور خشک بھی البتہ بڑوں کی افطار پارٹیاں ضرور جاری ہیں‘جہاں رزق کی بے قدری اور روزے کی توہین کا بھی خوب مظاہرہ ہوتا ہے‘ روزے کا ایک مقصد یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس طرح صاحب ثروت لوگوں کو بھی غریب کی بھوک کا احساس ہوتا ہے مگر لگتا یہ ہے کہ اس طبقے کی افطارپارٹیاں غریب کا مذاق اڑانے کے مصداق ہیں انواع و اقسام کے کھانے اور سیاسی گفت وشنید کے دوران مفاد باہمی کے معاملے ہی زیر غور آتے ہیں غریب کا تو کہیں ذکر ہی نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو یہی کہ اب اپنی سیاست کیلئے ان غریبوں کو کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔

گرمی اور بھوک کے ماروں کو کیسے سڑکوں پر لایا جا سکتا ہے خود انکی اپنی اولاد بھی انکا ساتھ دینے کو تیار نہیں سابق وزیراعظم نوازشریف کے دونوں بیٹے انکے خلاف لندن جائیداد کی ملکیت کےخلاف گواہی دینے بھی نہیں آئے ایک موقع پر عدالت نے پوچھا تھا کہ اپنے بیٹوں کو بلائیں تاکہ وہ بیان دیں کہ مذکورہ فلیٹس انکی ملکیت ہیں مگر نوازشریف نے بے بسی کےساتھ کہا تھا کہ وہ برطانوی شہری اور خودمختار ہیں میں انکو کیسے بلاﺅں‘ خود بیٹوں نے بوڑھے اور بیمار والد کو جیل بھیجنا قبول کرلیا مگر خود نہیں آئے ان کو اپنی جان پیاری ہے مگر دوسروں کے بیٹوں کو سڑکوں پر لاکر آزادی کے حصول کیلئے استعمال کرنے کے جواز ڈھونڈے جارہے ہیں آصف زرداری نے جعلی اکاﺅنٹس کو بزنس اکاﺅنٹس تو تسلیم کرلیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایسے اکاﺅنٹ ہر کاروباری کھولتا ہے انکے سندھ میں پہلے بھوک سے بچوں کی اموات کا ریکارڈ تھا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے‘ اب ایڈز کے مریضوں کی تعداد کا عالمی ریکارڈ بن رہا ہے اور شواہد ہیں کہ یہ بیماری ہسپتالوں میں غیر محتاط انتقال خون اور آلودہ سرنجوں کے استعمال سے بڑھی ہے مگر وہ ملک کے عوام کے حقوق کیلئے لڑائی کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس کیلئے ہی اسلام آباد میں ایک سیاسی دعوت افطار بھی دی ہے اس دعوت کانتیجہ خبروں کے ذریعے قارئین تک پہنچ چکا ہوگا جس کا لب لباب یہی ہوگا کہ عوام کے دکھوں کا مداواکرنے کیلئے اپوزیشن کو متحد ہونے کی ضرورت ہے‘ یہ الگ بات ہے کہ اس اتحاد کا خیال اور عوام کا دکھ صرف اپوزیشن میں ہی جاگتا ہے اور وہ بھی اپنی شرائط پر‘اب دیکھیں کیا نکلتا ہے اس شاہی افطاری سے‘ ہمارے ایک دوست اس اجتماع کو سیاسی گٹھ کہتے ہیں مگر ایک دوسرے دوست کا اصرار ہے کہ یہ سیاسی ٹھگ ہے‘ بہرحال عوام اس بار کم از کم اتنا تاثر ضرور دے رہے ہیں کہ انکو کسی سے کوئی امید نہیں ہے اگر عمران خان سے امیدیں پوری نہیں ہو سکیں تو باقی پہلے کے آزمودہ ہیں ان کیلئے اب شاید ہی کوئی سڑکوں پر نکلنے کو تیار ہو‘ اسی لئے کوئی سیاسی پارٹی کسی تحریک کا اعلان کرنے کا رسک لینے کو تیار نہیں‘ ایک دلچسپ تبصرہ لاہور میں نوازشریف کے جیل چھوڑنے والے جلوس پر آیا ہے کہ اتنی تعداد میں لوگ نوازشریف کو جیل میں بند کرانے کیلئے آئے تو ان کو جیل سے نکلوانے کیلئے کوئی باہر نہیں نکلے گا جہاں تک ملک اور قوم سے ہمدردی کا تعلق ہے تو کراچی کے قریب سمندر سے تیل کی تلاش کیلئے 5500 میٹر کھدائی کے باوجود تیل نہ نکلنے کی غیر مصدقہ خبر پر بھی یار لوگ بغلیں بجا رہے ہیں ۔

حالانکہ چند ہفتے پہلے جب عمران خان نے اس مہم سے خوشخبری ملنے کی نوید سنائی تھی تو مسلم لیگ کے ترجمانوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ منصوبہ اور معاہدہ ان کا تھا مگر اب یہ عمران کی ناکامی ثابت کرکے خوشی منائی جارہی ہے اگررمضان کے مہینے میں اپوزیشن بھی قوم سے یہ اپیل کرتی کہ کےکڑا ون کنویں سے تیل نکلنے کی دعا کی جائے تو کچھ بعید نہیں تھا کہ اللہ مہربانی فرما دیتا اور زمین کے اندر سے خزانے کھول دیتا مگر لگتا ہے کہ دعا کی بجائے یہ التجا کی جاتی رہی کہ عمران ناکام ہو جائے‘ یہ بات طے ہے کہ عمران کی ناکامی دراصل پاکستان کی ناکامی ہے اور اب دعا ہی آخری سہارا رہ گیا ہے رمضان میں سادہ دسترخوان پر بیٹھ کر افطار کرنے سے پہلے اس ملک کیلئے اللہ سے مدد کی دعا کریں کیونکہ یہی غریب روزہ دار ہی دراصل ملک کو درپیش مشکلات کے حقیقی متاثرین ہیں اور ان کو ہی ملک کےساتھ محبت بھی ہے انکی بے لوث اور دل سے نکلنے والی دعائیں ہی ملک کیلئے کوئی آسانی نکال سکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔