124

پاکستان پر قرضوں کا حجم 35.1ٹریلین روپے ہوگیا 

 کراچی۔پاکستان پر قرضوں کا مجموعی حجم مارچ کے اختتام پر 35.1ٹریلین روپے یعنی معیشت کے 91.2 فصد تک پہنچ گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا مارچ ملک پر قرضوں کا مجموعی حجم 5.2ٹریلین روپے بڑھ گیا۔مرکزی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق مقامی، غیرملکی اور پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کے قرضوں میں اضافہ ہوا۔ حکومت نے 28.6 ٹریلین روپے کا براہ راست قرض لیا جب کہ بقیہ قرضوں کے لیے بھی وفاقی حکومت، وزارت خزانہ کی دی گئی ضمانتوں اور مرکزی بینک کے کردار کی وجہ سے ذمے دار ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے خسارے میں چلنے والے اداروں کی بحالی کا وعدہ کیا تھا۔مارچ کے اختتام تک پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کا مجموعی خسارہ 1.9 ٹریلین روپے ہوچکا تھا۔ 9  ماہ کے دوران خسارے میں 4141.2 ٹریلین روپے یا 28.5فیصد کا اضافہ ہوا۔مرکزی بینک کے مطابق مارچ کے اختتام پر ملک پر بیرونی قرضوں کا حجم 105.8 بلین ڈالر تھا۔

 9ماہ کے دوران بیرونی قرض میں 10.6 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا۔ پاکستان کا مجموعی قرض اب جی ڈی پی کے 91.2فیصد تک پہنچ چکا ہے۔