164

چیئرمین نیب کا انٹرویو تشویشناک ہے، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب نے میاں محمد شہباز شریف کے حوالہ سے ایک کالم نگار کے ساتھ انٹرویو میں کوئی بات کہی ہے تو چیئرمین نیب کو یہ بات کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے،وہ سیاست میں نہیں ہیں انہوں نے کارروائی کرنی ہے کارروائی کریں، 

سیاسی آدمی کبھی یہ کام نہیں کرتا جو چیئرمین نیب نے باتیں کہی ہیں اور اگر کہی ہیں تو عوام کے سامنے آکر ان کا دفاع کر لیں، آکر بتائیں کس نے یہ کہا ہے، کیوں کہا ہے، کب کہا ہے، کون سا ثبوت ان کے پاس ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ حکومت کا رویہ دیکھ لیں، کارکردگی دیکھ لیں، پالیساں دیکھ لیں، کوئی امید کی کرن نہیں ہے۔ مریم نواز شریف پہلی دفعہ پارٹی سیاست میں آئی ہیں،مریم نواز کی پارٹی ورکر کے دل میں جگہ ہے سپورٹرز اور عوام کے دل میں بھی جگہ ہے۔ مریم نواز سیاست میں ہیں پہلے ان کا کوئی باضابطہ کردار نہیں تھا لیکن اب ان کا باضابطہ کردار ہے۔ان خیالات کا اظہا شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ نیب چیئرمین کا نام نہاد انٹرویو بڑا تشویشناک مسئلہ ہے کیونکہ یا کالم نگار جھوٹ بول رہے ہیں انٹرویو نہیں ہوا یا یہ ہوا ہے اور یہ باتیں نیب چیئرمین نے کی ہیں تو پھر ذرا آکر جواب دے دیں۔ ہم اس کی تحقیق مانگیں کے اورسپریم جوڈیشل کونسل میں جائیں گے، یہ ہمارا حق ہے، اگر وہ تردید جاری نہیں کرتے تویہ ہمارا حق ہے۔ نام لے کر باتیں کرنے کا کوئی قانونی حق چیئرمین نیب کو نہیں ہے بلکہ جس عہدے اور پوزیشن پر وہ بیٹھے ہیں اس کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری خارجہ پالیسی بھی معیشت کے تابع ہو گئی ہے اور وہ بھی پیسے لینے کے لئے داؤ پر لگا دی ہے۔ہو سکتا ہے کل سیاست بھی پیچھے رہ جائے اور معیشت اوورٹیک کر لے۔

 ان کا کہنا تھا کہ بہت خطرناک صورتحال ہے۔ ان کا کہنا تھا کی وزیر اعظم سے لے کر ہر وزیر جھوٹ پہ جھوٹ بولے جا رہا ہے اور پرواہ ہی نہیں ہے کہ کل کوئی کہے گا کہ آپ نے جھوٹ بولا یا نہیں بولا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے اجلاس میں ملکی مسائل پر بات ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے گی جس میں مشترکہ لائحہ عمل بنائیں گے۔ اجلاس میں مہنگائی، بیروزگاری پر بات ہوئی، معیشت پر ہر شخص نے تشویش کا اظہار کیا۔ہم پاکستان کے عوام کے مسائل کے حل کی بات کر رہے ہیں، اس کے لئے حکومت گرانا ہوا تو حکومت گرائیں گے،احتجاج کرنا ہوا تو احتجاج کریں گے، الیکشن کا مطالبہ ہوا تو الیکشن کا مطالبہ کریں گے، اس مسئلہ کا حل نکالیں گے کہ آج جو مہنگا ئی ہے، ملک میں جو ترقی کی رفتار ختم ہو گئی ہے، جو ملک کو آئی ایم ایف کے حوالہ کر دیا گیا ہے اس کا حل کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ (ن)لیگ کے اپنے اجلاس میں ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم تنخواہ 20ہزار مقرر کی جائے، گیس اور بجلی کی قیمتیں پرانی سطح پر لائی جائیں، ڈی اے پی اور یوریا کی پرانی قیمتیں بحال کی جائیں ورنہ ذراعت کا شعبہ بھی تباہ ہو گیا ہے اور کسان پریشان ہے، پیٹرول اور ڈیزل پر لگائے جانے والے اضافی ٹیکس ختم کئے جائیں، آئی ایم ایف کی جو بھی شرائط ہیں وہ بھی عوام کے سامنے رکھنی ضروری ہیں کیونکہ بڑے شدید شکوک و شبہات ہیں۔ ماضی میں جب آئی ایم ایف ہوتے تھے تو ملک بہتری کی طرف جا رہا ہوتا تھا، ریکوری شروع ہو چکی ہوتی تھی جب آئی ایم ایف پروگرام پر عمل ہوتا ہے، اس وقت معیشت گراوٹ کا شکار ہے اور آپ آئی ایم ایف پروگرام میں جا رہے ہیں اور ہر شخص آپ پر شبہ کر رہا ہے،اس لئے بڑا ضروری ہے کہ عوام کے سامنے رکھا جائے کہ ہوا کیا ہے۔