115

مسجد حملہ: نیوزی لینڈ میں پہلی بار کسی ملزم پر دہشتگردی کی فرد جرم عائد

نیوزی لینڈ کی پولیس نے کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد پر حملے میں ملوث دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ پر دہشت گردی کی فرد جرم عائد کردی۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی ملزم پر دہشت گردی کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ' اے ایف پی ' کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے اس حوالے سے جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ ' اس فرد جرم میں الزام عائد کیا جائے گا کہ کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی کی کارروائی کی گئی تھی'۔

خیال رہے کہ دہشت گردی کی فردِ جرم کے علاوہ برینٹن ٹیرنٹ کو قتل کی 51 اور اقدام قتل کی 40 فرد جرم کا سامنا بھی ہے۔

تاہم اب تک برینٹن ٹیرنٹ پر عائد کیے گئے الزامات اتنے وسیع نہیں تھے کیونکہ نیوزی لینڈ کا ٹیرارزم سپریشن ایکٹ 2002 میں متعارف کروایا گیا تھا جس پر عدالتوں میں اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

پولیس نے کہا کہ حملے کے 2 ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد دہشت گردی کا الزام عائد کرنے کا فیصلہ پراسیکیوٹرز اور حکومتی قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ پولیس نے اضافی الزامات سے آگاہ کرنے کے لیے حملے کے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ' پولیس حملے میں متاثرہ خاندانوں اور بچ جانے والے افراد کو جذباتی اور چیلنجنگ عدالتی کارروائی کے دوران مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے'۔

نیوزی لینڈ مساجد پر حملہ

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ کو 2 مساجد النور مسجد اور لین ووڈ میں دہشت گرد نے اس وقت داخل ہوکر فائرنگ کی تھی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس افسوسناک واقعے میں 50 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے، انہوں نے حملے کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔

فائرنگ کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی تاہم فائرنگ کی آواز سن کر بچ نکلنے میں کامیاب رہی اور واپس ہوٹل پہنچ گئی۔

مذکورہ واقعے کے بعد کرائسٹ چرچ میں بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہفتے کو ہونے والا تیسرا ٹیسٹ منسوخ کردیا گیا اور بعد ازاں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم نے فوری طور پر نیوزی لینڈ کا دورہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔

مسجد میں فائرنگ کرنے والے ایک دہشت گرد نے حملے کی لائیو ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر نشر کی، جسے بعد میں نیوزی لینڈ حکام کی درخواست پر دل دہلا دینے والی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا سے ہٹادیا گیا تھا۔

بعد ازاں نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

22 مارچ کو نیوزی لینڈ کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے ایک ہفتے بعد نہ صرف سرکاری طور پر اذان نشر کی گئی بلکہ مسجد النور کے سامنے ہیگلے پارک میں نمازِ جمعہ کے اجتماع میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے علاوہ ہزاروں غیر مسلم افراد نے بھی شرکت کی تھی۔

علاوہ ازیں 2 اپریل کو نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے فوجی طرز کے نیم خودکار (سیمی آٹومیٹک) بندوقوں اور رائفلز پر پابندی کے بل کو منظور کرلیا تھا۔

مجموعی طور پر 120 قانون سازوں نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ صرف ایک قانون ساز کی جانب سے بل کی مخالفت سامنے آئی تھی۔

بعد ازاں کرائسٹ چرچ کی عدالت نے 15 مارچ کو کیے گئے حملے میں برینٹن ٹیرنٹ پر 51 افراد کے قتل اور 40 کے اقدام قتل کی فرد جرم عائد کی تھی۔

عدالت نے دہشت گرد کے دماغی معائنے کا حکم بھی جاری کیا تھا تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جاسکے کہ وہ قتل کے مقدمے کا سامنا کرسکتا ہے یا نہیں۔

برینٹن ٹیرنٹ کے خلاف آئندہ سماعت 14 جون کو ہوگی جس میں اس کی ذہنی حالت کی تشخیص کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا کہ اسے اپیل دائر کرنےکی ضرورت ہے یا نہیں۔

گزشتہ ہفتے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے دنیا بھر کے رہنماؤں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ہمراہ آن لائن انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے ' کرائسٹ چرچ کال' کے نام سے مہم کا آغاز کیا تھا۔