122

’دھمکیوں سے ایران کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ معاشی دہشت گردی اور قتل و غارت کی دھمکیوں سے ایران کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ٹوئٹر' پر بیان جاری کرتے ہوئے جواد ظریف نے کہا کہ ’ٹیم بی کی جانب سے اکسائے جانے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو امید ہے کہ جو الیگزینڈر اور چنگیز خان سمیت دیگر ظالم حکمراں حاصل کرنے میں ناکام رہے، وہ اسے حاصل کر لیں گے، ایران تمام ظالموں کے خلاف ہزار سالوں سے کھڑا ہے جبکہ تمام ظلم کرنے والے ختم ہوچکے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’معاشی دہشت گردی اور قتل و غارت کی دھمکیوں سے ایران کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا‘۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ’کبھی کسی ایرانی کو دھمکی نہیں دینا بلکہ عزت دینا، یہ کام کرتی ہے‘۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ امریکا کو دھمکانے کا سلسلہ بند کر دے یا پھر اپنے 'خاتمے' کے لیے تیار ہوجائے۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ 'اگر ایران لڑنا چاہتا ہے تو یہ اس کا واضح خاتمہ ہوگا، امریکا کو دوبارہ دھمکی نہ دی جائے'۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹ ایسے موقع پر سامنے آئی جب کچھ ہی روز قبل ایران پر امریکا کی معاشی پابندیوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں اور واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں بمبار طیارے اور طیارہ بردار جہاز تعینات کر دیئے ہیں۔

اس سے قبل فوکس نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو 'خوفناک شو' قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ 'میں نہیں چاہتا کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوں اور وہ ہمیں دھمکیاں دیں'۔

گزشتہ روز امریکی بحریہ کے پانچویں فلیٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ خلیجی تعاون کی تنظیم کے رکن ممالک، جن میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، کے ساتھ مل کر بین الاقوامی سمندر میں 'سیکیورٹی پروٹوکول میں اضافہ' کرے گا۔

واضح رہے کہ یو ایس ایس ابراہیم لنکن ایئر کرافٹ کیرئیر، یو ایس ایس کیارساریج اور دیگر جہاز بحرہ عرب میں موجود ہیں، یہ علاقہ ہرمونز کے قریب خلیج فارس سے منسلک ہے جو تیل کی تجارت کا بین الاقوامی سمندری راستہ ہے۔

گزشتہ روز سعودی حکام نے کہا تھا کہ ہمارا ملک جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور طریقے سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

سعودی عرب کے حکام کی جانب سے یہ اعلان ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب گزشتہ ہفتے ملک کی تیل کمپنی پر ڈرون حملے اور متحدہ عرب امارات کے ساحل پر تیل بردار جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ان حملوں کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کی کڑی قرار دیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ ریاض نے تہران کو مذکورہ حملوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا، جس کی ذمہ داری یمن کے حوثی قبائل نے قبول کی تھی۔

تاہم ایران نے ان الزامات کی تردید کی تھی جن پر الزام تھا کہ حملے واشنگٹن کی جانب سے ایران پر لگائی جانے والی معاشی پابندیوں اور اس کے فوری بعد خطے میں امریکی فورسز کی موجودگی کے تناظر میں کیے گئے تھے۔

قبل ازیں سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان نے خلیجی اور عرب رہنماؤں کو 30 مئی کو مکہ مکرمہ میں طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی جس میں حملے کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے خطے میں نئی جنگ چھڑ جانے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایران جنگ کی مخالفت کرتا ہے اور کوئی بھی یہ گمان نہیں کر سکتا کہ تہران پر حملہ ہوسکتا ہے‘۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ جنگ نہیں ہوگی اور نہ ہی ہم جنگ کے حق میں ہیں‘۔