168

سائنس کے بغیرترقی ناممکن ہے

کہنے کو توآج دنیا میں ساٹھ سے زائد ممالک اسلامی ہیں لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی سپر پاور کے طفیلی ہیں آج سائنس اور ٹیکنالوجی کا دورہے اس میں صرف اس ملک کا سکہ چلے گا اور چل رہا ہے کہ جو سائنسی علوم میں یدطولیٰ رکھے گااسلامی دنیا بدقسمتی سے سائنسی میدان میں غیر مسلم دنیا سے کوسوں پیچھے ہے کیا اللہ پاک کا یہ فرمان نہیں کہ اگر تم نے آئین حیات سے منہ پھیر لیا تویہ زمین کسی اور قوم کے قبضے میں دیدی جائے گی؟ کیا کسی دور میں اس زمین پر فرنگیوں کا راج نہ تھا ؟کیا ایک لمبے عرصے تک 1947ء کے بعد اس خطے میں امریکہ کی مرضی نہیں چلی اور کیا آج کل ہم چین کے دست نگر نہیں ہو گئے ؟ صرف فولاد کی ہی بات کر لیتے ہیں اس سے کیسے کیسے مہلک ہتھیار بنتے ہیں جہاز ‘ ٹینک ‘ توپیں جنکے استعمال سے دنیا لرز اٹھتی ہے آپ ذرا دنیا کے نقشے پر ایک طائرانہ نظر دوڑائیے کیا یہ حقیقت نہیں کہ جن ممالک نے فولاد کا علم حاصل کیا وہ کس قدر طاقتور ٹھہریں اور جو ممالک اس علم کو حاصل نہ کر سکے وہ دنیا میں ذلیل اور خوار ہوئے ہیں ؟ہمارے حکمران یہ بات تو بڑے فخرسے کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں ملک سے جدید ترین طیارے حاصل کر لئے ہیں لیکن کسی نے یہ بھی سوچا کہ اگر کل کلاں خدانخواستہ ہم کسی جنگ میں الجھ گئے اور ان طیاروں کے سپیئر پارٹس کی ہمیں ضرورت پڑ گئی اور ان طیاروں کو سپلائی کرنیوالے ملک نے ہمیں سپیئرپارٹس مہیا کرنے سے انکار کر دیا تو ہمارے جنگی طیارے فضا میں کیسے اڑیں گے ؟

ہٹلر دوسری جنگ عظیم میں صرف اسوقت کودا تھا جب اس کو یقین ہو گیا تھا کہ جرمنی کے کارخانے اپنا جنگی سامان بنانے کی خود صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ دوران جنگ کسی دوسرے ملک کے جنگی سازوسامان کیلئے محتاج نہ ہوں گے وہ اگرہارا تو اسکی وجوہات کچھ اور تھیں‘ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کائنات کا مطالعہ ازحد ضروری ہے ریسرچ اور مطالعہ کائنات کی اہمیت و افادیت کا انداز ہ آپ اس بات سے لگا لیجئے کہ اللہ کے کلام میں مطالعہ کائنات کے بارے میں جتنی زیادہ آیات ہیں وہ کسی اور عنوان کے متعلق نہیں ‘کیا یہ درست نہیں کہ آج غیر ممالک صحیفہ کائنات کے مطالعہ کے بعد اس درج قوانین و آیات کو اپنی بہتری کیلئے استعمال کر رہے ہیں آنیوالے حوادث سماویہ بادوباراں کی پیشگی اطلاع دے رہے ہیں کیا یہ سائنس کے کمالات نہیں کہ سپر پاور تانبے ‘ فولاد ‘ بارود اور دیگر لاتعداد خزائن ارضی سے مستفید ہو کر فضا میں بھی راج کر رہی ہیں اور دریاؤں اور زمین کے اندر کے حالات سے بھی با خبر ہو رہی ہیں اور دوسری طرف ہم ہیں کہ ہمارے حکمران کسی اور چکر میں پڑے ہوئے ہیں ۔

وہ بس لمبی لمبی گاڑیوں میں گھومنے کے شوقین ہیں محلات نما بنگلوں میں رہنا پسند کرتے ہیں اپنی اندھی دولت سے بیرون ملک جزیرے خرید رہے ہیں عربی زبان کا ایک مقولہ ہے کہ رعایا اپنے حاکموں کا لائف سٹائل اور رہن سہن کے طریقوں کو اپنانے کی نقل کرتی ہے‘ سو یہی حال ہمارے عوام کا بھی ہے تقریباً ایک ہزار سال سے ہمارا حال پتلا ہے خدا کرے عالم اسلام میں کوئی ایسا رہنما پیدا ہو جائے جو اس کی ترجیحات کو صحیح طور پر متعین کر دے جو ایسا نظام وضع کر دے کہ جس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کا خیال رکھا جائے جس میں تفرقوں کی کوئی گنجائش نہ ہو جس میں حاکم وہی طرز زندگی اپنائیں جو کہ اس ملک کے عام آدمی جیسی ہو جس میں یہ بالکل نہ ہو کہ زردار کی توقبر پر بھی کمخواب کی چادر بچھائی جائے اور غریب اور مفلس کی میت بھی کفن کو ترسے ۔