85

انڈیا میں کاروبار اور کرپشن

انڈیا کے سترویں عام انتخابات میں اگر نریندر مودی دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اسکی سب سے بڑی وجہ انکی حکومت کا بزنس فرینڈلی ہونا ہے آئی ایم ایف کے اعدادو شمار کے مطابق اسوقت انڈیا کی اکانومی کا سائز 2.61 ٹریلین ڈالر ہے یہ دنیاکی چھٹی سب سے بری اکانومی ہے ایک انڈین اکانومسٹ امیتابھ کانٹ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال میںانڈیا برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویںبڑی اقتصادی طاقت بن جائیگا اسکا مطلب یہ نہیں کہ بھارت برطانیہ سے زیادہ خوشحال ہو جائیگا بلکہ یہ کہ اسکی ترقی کی رفتار برطانیہ سے زیادہ تیز ہے مسٹر کانٹ کی رپورٹ جسکا عنوان " The world in 2030" ہے میں یہ حیران کن انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش گروتھ ریٹ کے اعتبار سے اگلے دس سالوں میں بھارت کو پیچھے چھوڑ جائیگا اسکی وجہ بنگلہ دیش کی خواتین کا ایک بڑی تعداد میں کھیتوں کھلیانوں‘کارخانوں اور دفتروں کے علاوہ گھروںمیں چلنے والی کاٹج انڈسٹری میں کام کرنا ہے سوا ارب سے زیادہ آبادی کے ملک انڈیا میں آج بھی ایک چوتھائی لوگوں کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا مگر ملک کی مڈل کلاس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ‘ لوگوں کی قوت خرید بڑھ رہی ہے اور محنت کش طبقات کو آگے بڑھنے کے امکانات نظر آ رہے ہیںاسی طرح چین‘ امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی طاقت ہے اسکی اکانومی کا سائز 13.40 کھرب ڈالر ہے امریکہ کی اکانومی کا حجم 19.40 کھرب ڈالر ہے۔

نریندر مودی نے اگر پانچ سال تک مسلسل انڈیا کی شرح نمو اوسطاپانچ فیصد رکھی ہے تو اسمیں اسکی ذاتی ذہانت یا سمجھ بوجھ کا کوئی عمل دخل نہیں اور نہ ہی اسکے وزیر خزانہ ارون جیٹلے اتنے بڑے اقتصادی ماہر ہیںکہ یہ کارنامہ یکہ و تنہا سر انجام دے دیں یہ کام وزارت خزانہ کی اس بیوروکریسی کاہے جسے سات عشروں سے یہ کام چلانے کا تجربہ ہے انگریزی کا محاورہ ہے There is no alternative to experience یعنی تجربے کاکوئی متبادل نہیں ہے نا تجربہ کار اور جوشیلے لوگ کتنے ہی ذہین کیوں نہ ہوں اور انکے کاندھوں پر کتنی ہی بڑی ڈگریاں کیوں نہ لدی ہوں یہ کسی چھوٹے یا بڑے ملک کے اقتصادی معاملات کو اپنے جوش و جذبے اور تعلیم کے بل بوتے پر نہیں چلا سکتے چین اور انڈیا کے اقتصادی انجنوں نے اچانک اتنی سپیڈ سے دوڑنا شروع نہیں کیا ترقی کے اس سفر کا آغاز دونوں ممالک نے تیس برس پہلے کیا تھا ان دنوں جب دنیا ایک عالمی گاﺅں بننے لگی تو یہ دونوں ملک اس نئے سفر میں شامل ہو گئے انہوں نے اپنے Human Resources یعنی آبادی کے وسائل کو ایک جدید اکانومی میں حصہ لینے کی تربیت دینی شروع کی اگر چین کے کاریگروں نے ایسی مصنوعات تیار کرنی ہیں جنہوں نے یورپ اور امریکہ میںدوسرے ملکوں کے تیار کردہ پروڈکٹس کیساتھ مقابلہ کرنا ہے تو پھر ان محنت کشوں کو اس کام کی تربیت دینا ہو گی اتنے بڑے ملک میں اگر ہر روز ہزاروں کی تعداد میںنیم خواندہ نوجوان دیہاتوں سے روز گار کی تلاش میںبڑے شہروں میں آئیں گے تو انہیں ٹیکنیکل ٹریننگ دینے کے بعد ہی کسی کام پر لگایا جائیگا چین ‘ اور انڈیا کے علاوہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی ورک فورس کا ایک بڑا حصہ سروس اندسٹری میں کام کرتا ہے یعنی ہوٹلوں‘ ریسٹورنٹوں ‘ دفتروں‘ دکانوں‘ تجارتی مراکز ‘ پلمبنگ‘ مکینیکل کام‘ ٹورازم ‘ ٹریولنگ ‘کمپیوٹر سروسز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ملازمتیں مہیا کرنے کیلئے حکومت اور نجی اداروں نے مل جل کر لوگوں کو تعلیم اور ٹریننگ دیکر تیار کرنا ہوتا ہے ایک مرتبہ یہ کام شروع ہو جائے تو پھر چلتا رہتا ہے جہاں یہ کام شروع ہی نہ ہو تو وہاں چلے گا کیسے ۔

جن دنوں چین اور انڈیا ایک نئی عالمی معیشت میںشامل ہونیکی کی کوشش کر رہے تھے ان دنوں ہم جنگ دہشت گردی میں امریکہ کا دست و بازو بنے ہوئے تھے اب اٹھارہ برس بعد یہ جنگ ختم ہو رہی ہے تو ہمارے دارلخلافے میںہمارے فرنٹ لائن اتحادی کی بجائے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس)کی ٹیمیں بیٹھی ہوئی ہیںگذشتہ دو عشروں میں چین اور انڈیا کی حیران کن ترقی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے کرپشن کے ہوتے ہوئے بھی اپنے سیاسی لیڈروں کو کٹہروں میں کھڑا کر کے دنیا کو تماشہ نہیں دکھایا وہ یہ بھید جانتے ہیں کہ جب پکڑ دھکڑ کا کھیل شروع ہو جاتا ہے تو پھر باقی کے سارے کام رہ جاتے ہیںانڈیا میں نریندر مودی پر فرانس کی دسالٹ کمپنی سے تین گنا زیادہ قیمت پر رافیل طیارے خریدنے کی منظوری دینے کا الزام ہے یہ مقدمہ تین سالوں سے سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے مگر تاریخیں دی جا رہی ہیں اور فیصلہ نہیں سنایا جا رہا صاف نظر آ رہا ہے کہ عدالت عظمیٰ سیاست کی اس دلدل میں اترکر اپنے آپ کو متنازعہ نہیں بنانا چاہتی اس سکینڈل کو ساٹھ ہزار کروڑ روپے کی لوٹ کہا جا رہا ہے انڈیا کی سرکار اگر ایک احتسابی ادارہ بنا اسے ہر کس و نا کس کو ہتھکڑیاں لگانے کا اختیار دے دیتی تو آج نریندر مودی جیل میں اور آئی ایم ایف نئی دہلی میں براجمان ہوتااسی طرح چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بیشتر ممبر ارب پتی ہیں ان میں سے اکثر پر کرپشن کے الزامات ہیں مگر انہیںجیلوں میں ڈالنے کی بجائے انکے ساتھ خاموشی سے حساب کتاب کیا جا رہا ہے تا کہ جگ ہنسائی نہ ہو اور لوگ ہیجان خیزی میں مبتلا ہو کر تقسیم نہ ہو جائیں مضطرب لوگ یکسو ہو کر کام نہیں کر سکتے سرمایہ دار بھی ایسے ملکوں کا رخ نہیں کرتے جہاں دنگا فساد ہو رہا ہو بیرونی سرمایہ کار ایسی جگہ بھی نہیں جاتے جہاں کرپشن بے لگام ہو وہ رشوت دینے کی بجائے حکومت کو ٹیکس دیکر کاروبار کرنا چاہتے ہیںمودی حکومت نے پانچ سالوں میں اس حد تک رشوت پر قابو پایا ہے کہ کاروباری لوگ منافع بھی کما رہے ہیں اور ٹیکس بھی دے رہے ہیں کل کلاں جو لوگ سرکاری دفتروں کے چکر لگاتے لگاتے تھک جاتے تھے وہ آج آن لائن پرمٹ لیکر کاروبار کر رہے ہیں۔

جس کاروباری ادارے میں کل تک ٹیکس لینے والوں کی ٹیمیں جایا کرتی تھیں اور رشوت کا مال سمیٹ کر آپس میں بانٹ لیا کرتی تھیںوہاں ا ب انڈین ریونیو سروس کے افسر کے علاوہ کسی دوسرے ادارے کا ملازم نہیں جا سکتا‘آجکل امریکی اخبارات میں انڈیا کے انتخابات اور نریندر مودی کے بارے میں جو خبریں اور تجزیئے شائع ہورہے ہیں ان میں مودی کے پہلے دور حکومت کو اسلئے کامیاب قرار دیا جا رہا ہے کہ اسمیں انڈیا نے اقتصادی طور پر ترقی کی ہے ‘امریکیوںکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ They vote with their pocket books یعنی یہ بٹوے کو دیکھ کر ووٹ ڈالتے ہیں اگر جیب بھری ہوئی ہے تو ووٹ حکومت وقت ہی کو ملے گاانڈیا میں اگر نریندر مودی دوسری مرتبہ وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو اسکا مطلب یہی ہو گا کہ بھارتی عوام نے بھی جیب دیکھ کر ووٹ ڈالے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔