62

مہنگا سودا

کیا آپ نے کبھی یہ تخمینہ لگایا ہے کہ قوم کو بلکہ یوں کہئے مقروض قوم کو ہررکن پارلیمنٹ سالانہ کتنے میں پڑ رہا ہے ؟ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک رکن پر کم وبیش5 کروڑسالانہ خرچ ہوتے ہیں وہ بھلا کیسے ؟ ہ ایسے کہ آپ ان کا ماہانہ مشاہرہ اور اعلیٰ معیار کا طبی علاج معالجہ کہ جس میںبیرون ملک علاج کی گنجائش بھی موجود ہے تو ایک طرف رکھ دیں ہر ایم این اے اپنی بیگم اور معاون کے ہمراہ سال میں لا تعداد مرتبہ ہوائی جہاز میں سفر بھی کرسکتے ہیں پچاس ہزار یونٹ تک مفت بجلی دو لاکھ روپے کاٹیلی فون الائنس وغیر وغیرہ بھی ان کو میسر ہے مشاہرہ کے علاوہ اور کئی اقسام کے الاﺅنسز ہیں جو ان کو ملتے ہیں با الفاظ دیگر ہر رکن اسمبلی پر سالانہ 60 کروڑ روپے کے اخراجات اٹھتے ہیں اور اگر آپ اس رقم کو 342 اراکین قومی اسمبلی کے ساتھ ضرب دے دیں تو بات سالانہ 17 ارب10 کروڑ روپے تک جا پہنچتی ہے اور اگریہ لوگ پانچ سال تک اسمبلی کے رکن رہتے ہیں تو ان پر اٹھنے والے اخراجات مجموعی طور پر 85 ارب50 کروڑ بن جاتے ہیں اگر آپ ان کی سالانہ کارکردگی پر ایک تنقیدی نظر ڈالیں تو آپ جان جائیں گے جتنا وقت یہ لوگ ایک دوسرے کےخلاف دشنام طرازیوں میں اورایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے میں صرف کرتے ہیں۔

 اس کا عشر عشیر وہ قانون سازی میں نہیں لگاتے کہ جو ان کا بنیادی کام ہے ان میں اکثریت تو گونگے پہلوانوں کی ہوتی ہے کہ جو صرف حاضری لگوانے کیلئے قومی اسمبلی کا رخ کرتے ہیں تاکہ وہ اپنا مشاہرہ اور الاﺅنسز کھرا کر سکیں قومی اسمبلی میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ اگر اس کا کوئی رکن مفاد عامہ کیلئے قانون سازی کرنے کیلئے کوئی بل پیش کرنا چاہئے تو وہ کر سکتا ہے لیکن آپ نے کیا کبھی دیکھا ہے کہ کسی بھی رکن نے ایسا کیا ہو‘ اسمبلیوں میں معاشرے کے قابل ترین اور نہایت ہی پڑھے لکھے لوگ جن کی مالی دیانت بھی مسلم ہو ان کوجانا چاہئے اور پھر اس بات پر بھی قومی سطح پر ایک سیر حاصل بحث ہونی چاہئے کہ اگرپارلیمانی نظام اور ملٹری ڈکٹیٹر شپ نے اس ملک میں ڈلیور نہیں کیا تو کیا کسی بہتر نظام حکومت سے اس ملک کے موجودہ نظام کو بدنا ضروری نہیں ہے ؟ ارتقائی عمل سے گزر کر ہی انسان ترقی کرتا ہے چرچل نے تو بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں یہ تو نہیں کہتا کہ پارلیمانی جمہوریت سب سے بہتر ین نظام حکومت ہے لیکن اس کو اس رو ز تک چلانا چاہئے تاوقتیکہ اس سے کسی بہتر نظام سے ہم روشناس نہیں ہو جاتے جمہوریت کے بارے میں کیا شاعر مشرق نے یہ نہیں کہا تھا ۔

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
 بندوں کو گنا کرتے ہیں تو لا نہیں کرتے
اور پھرانہیںنے ہی تو بھی کہا تھا کہ
گریز ازطرز جمہوری ‘ غلام پختہ کارئے شو
کہ از مغز دو صدخر‘ فکر انسانی نہ می آید

اس فارسی شعر کا مطلب یہ ہے کہ دو سوگدھوں کے دماغ سے انسانی سوچ پیدا نہیں ہو سکتی ‘ جمہوریت کے نام پر حکمرانوں نے بھلے ان کا تعلق بھی سیاسی پارٹی سے کیوں نہیں ایسے ایسے غلط اورعوام دشمن کام کئے کہ جن کی مثال تاریخ کی کتابوں میں بہت کم ملتی ہے امریکہ میں صرف صدر عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر آتاہے اس کے علاوہ امریکی حکومت کے تمام چیدہ چیدہ مناصب پر وہ ہر منصب کے تقاضوں کے مطابق ٹیکنو کریٹس کو تعینات کرتا ہے جو پھرو اقعی ڈلیور بھی کرتے ہیں بہرحال قصہ کوتاہ یہ ہے کہ نظام حکومت کے بارے میں بھی اس ملک کے عوام کواب کچھ نہ کچھ ضرور سوچنا ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔