81

نئی ما نٹیری پالیسی

سود پر اِستوار ’بینکاری نظام‘ کے اَثرات معاشرے کی ہر سطح پر مرتب ہو رہے ہیں‘ جس میں مسلسل اضافے کا رجحان تشویشناک ہے۔ بیس مئی کے روز شرح سود میں ’ڈیڑھ فیصد‘ اضافہ کرکے اِسے 12.25فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ گزشتہ برس کے آغاز پر شرح سود 6 فیصد جبکہ جولائی 2018ءکے عام انتخابات کے موقع پر 7 فیصد تھی! تحریکِ انصاف کے اقتدار میں ”شرحِ سود“ میں اضافے سے ملکی معیشت پر اثرات کا مختلف زاوئیوں سے جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ گذشتہ چند ماہ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر کم ہوئی ہے جو ڈیڑھ سو روپے فی ڈالر کی نفسیاتی حد بھی عبور کر چکی ہے اور یہ ملکی تاریخی بلند ترین سطح ہے! ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی سے درآمدات و برآمدات کا توازن متاثر ہوا ہے کیونکہ پاکستان میں درآمد کی جانی والی اشیاءہر دن مہنگی ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں جتنے یہ خرچ رہی ہے بالخصوص ملکی قرضوں کا سود سمیت چکانے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

 عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اگر کسی حکومت کا مالیاتی خسارہ 3سے 4فیصد تک ہو تو اِس میں کوئی برائی نہیں بلکہ اس اضافی پیسے کو معیشت میں مثبت طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن رواں برس پاکستان کا مالیاتی خسارہ 7.5 فیصد تک بھی جا سکتا ہے‘ جس کو پورا کرنے کےلئے حکومت کو مزید پیسوں کی ضرورت ہے۔ اصولی طور پر تو حکومت یہ پیسے چھاپ بھی سکتی ہے لیکن ایسا کرنے سے ملک میں پہلے سے بڑھتی مہنگائی میں اضافہ ہو جائےگا‘ تو ایسے میں لوگوں اور کاروباروں سے ٹیکس اکٹھا کرنے کے علاوہ ادھار لیا جا سکتا ہے‘ جیسا کہ آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر! لیکن پاکستان کی حکومت ملک کے اندر سے بھی ادھار لیتی ہے‘ ایسے ذرائع سے جن کو ہم پرائز بانڈ‘ نیشنل سیونگز سر ٹیفکیٹ اور ٹریژری بلز کے ناموں سے جانتے ہیں۔ جہاں اکثر لوگوں کےلئے یہ پیسے محفوظ رکھ کر اس پر منافع کمانے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے‘ حکومت کےلئے یہ ایک ایسا ادھار ہوتا ہے جو اسے سود سمیت واپس کرنا ہے!شرح سود بڑھانے کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مختلف بینک‘ کارپوریٹ ادارے اور لوگ حکومت کو پیسہ دینے میں زیادہ منافع دیکھیں اور حکومت کو زیادہ سے زیادہ اُدھار دیں۔

 ایسا کرنے سے حکومت کے پاس وقتی طور پر پیسے جمع ہو جائیں گے لیکن اس حکمت عملی کے منفی اثرات یہیں ختم نہیں ہوتے۔ جب لوگوں کو زیادہ سود ملے گا تو وہ بینک میں پیسے جمع کرنا پسند کریں گے بجائے اِسے خرچ کرنے کے‘ جس کی وجہ سے ان کا شدید مہنگی درآمد شدہ اشیاءپر بھی خرچ کم ہو گا‘ اس طریقہ¿ کار سے مالیاتی فیصلہ سازوں کو درآمد برآمد کا عدم توازن پھر سے بحال کرنے کی اُمید ہے اور غیر ملکی کرنسی کے ذخائر بڑھا کر گرتے ہوئے روپے کو تھوڑا سہارہ بھی دیا جا سکے گا تاہم منفی پہلو یہ ہے کہ شرحِ سود بڑھنے سے عام لوگوں اپنی روزمرہ زندگی میں خرچ بھی کم کرنے لگتے ہیں‘ جس کی وجہ سے مجموعی قومی پیداوار میں کم ہو جاتی ہے‘ لوگوں سے قرضوں پر سود نہ کمانے سے بینک کو ایک طرح سے نقصان تو ہو گا لیکن اسی اضافی شرح سود سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عام افراد کی جگہ وہ حکومت کو ادھار دے رہے ہیں‘ ایسا کرنے سے بینکوں کو منافع ہو گا۔

 خاص طور پر اسلئے کیونکہ حکومت کو قرضہ دینے میں کوئی خطرہ نہیں ہوتا اور انہوں نے ہر حال میں یہ سود سمیت چکانا ہی ہوتا ہے‘بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سود بڑھانے کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں رہا؟ درحقیقت شرح سود بڑھانے کا مقصد درآمد کو کم کرنا ہے اور بے قابو درآمدات کی وجہ سے مالیاتی خسارہ کسی صورت قابو میں نہیں آ رہا۔ ایسی ہی معاشی صورتحال سے جب ترکی کا واسطہ پڑا تو وہاں عوام نے غیرملکی کرنسیاں بالخصوص ڈالر کی فروخت اور درآمدی اشیاءکا استعمال کم کر دیا لیکن پاکستانیوں پر کسی معاشی بحران کا کوئی اثر ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ڈالر مہنگا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں ڈالروں کو خرید کر ذخیرہ کر رہے ہیں کیونکہ اُن کے خیال میں آنےوالے دنوں میں پاکستانی روپے کی قدر مزید کم ہو گی! حکومت کے لئے بلند شرح سود پر اُدھار لینا اس لئے ضروری دکھائی دے رہا ہے تاکہ یہ طویل عرصے میں بحرانی معیشت کو ڈوبنے سے بچا سکے لیکن جب تک عوام کے رجحانات تبدیل نہیں ہوتے‘ عوام حکومت سے تعاون نہیں کرتی اور درآمدی اشیاءکی طلب میں غیرمعمولی کمی دیکھنے میں نہیں آتی تو اُس وقت تک ایسی کسی بھی حکمت عملی کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔