59

بنیادی ذمہ داری!

ٹیکس وصولی حسب سابق نہیں ہو رہی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 350ارب روپے سے زائد ٹیکس وصولیوں میں کمی سے پیدا ہونے والا بحران ’وفاقی حکومت‘ کے لئے پریشانی سے زیادہ شرمندگی کا باعث بن رہا ہے کیونکہ اقتدار میں آنے سے قبل تحریک انصاف کے رہنما یہ دعوٰی کرتے تھے کہ وہ سب سے پہلا کام ہی ٹیکسوں کا نظام منصفانہ بنیادوں پر استوار کرنے کی صورت کریں گے۔ کم آمدنی والوں سے کم اور زیادہ آمدنی رکھنے والوں سے زیادہ ٹیکس وصول کر کے انصاف پر مبنی طرزحکمرانی کی بنیاد رکھی جائے گی۔ ٹیکس وصولی کے نظام کو آسان اور بدعنوانی سے پاک کیا جائے گا لیکن نہ تو چند ماہ کے اندر ٹیکس وصولی 8ہزار ارب روپے جیسی بلندی کو چھو سکی اور نہ ہی ٹیکس لاگو کرنے میں کم آمدنی رکھنے والوں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکا ہے!پاکستان کی مجموعی ٹیکس وصولی 4ہزار ارب روپے جبکہ دستاویزی معیشت کا حجم ’ساڑھے تین ہزار ارب‘ ہے جبکہ غیر دستاویزی معیشت کا حجم بھی تین ہزار ارب کے آس پاس یا اِس سے کچھ زیادہ ہے۔ یہی وہ خرابی ہے جس کا باوجود کوشش بھی علاج نہیں ہو پا رہا یعنی تین ہزار ارب روپے کی غیردستاویزی (چوری چھپے ہونےوالے کاروباری) معیشت سے ٹیکس وصول نہیں ہو رہا۔ کاروباری اِداروں اور شخصیات کو آمدنی تو ہو رہی ہے لیکن وہ حسب آمدنی ٹیکس ادا نہیں کر رہے۔

 معیشت میں بینکاری یا دیگر لین دین کو ٹیکس نظام سے مربوط نہیں کیا جا سکا ہے اور اب تحریک انصاف نے اِس چیلنج کو قبول کیا ہے کہ وہ ایف بی آر‘ نادرا‘ اسٹیٹ بینک‘ مالیاتی اِداروں (بینکوں) اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے اُن کاروباری سرگرمیوں کو ’ٹیکس نیٹ‘ میں لے آئیں گے‘ جو فی الوقت ٹیکس ادائیگی جیسی ’قومی ذمہ داری‘ ادا نہیں کر رہے‘ آمدن بڑھانے کے لئے وفاقی حکومت کی حکمت عملی بھی لائق توجہ ہے۔ شبر زیدی واحد فرد نہیں جنہیں نجی شعبے سے لاکر ایف بی آر کا چیئرمین بنایا گیا ہو بلکہ اس سے قبل نواز شریف نے معین الدین کو یہ ذمہ داری دی تھی جو پیشے کے لحاظ سے بینکار تھے۔ اُنہوں نے کسٹم چوری کی گاڑیوں کی تلاش میں پارلیمنٹ میں کھڑی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی جانچ پڑتال شروع کی تو اراکین اسمبلی اُن کے خلاف کھڑے ہوگئے اور معین الدین کو عہدے سے فارغ کردیا گیا‘حکومت کی کوشش بناءسختی کئے اصلاحات کی ہے اور اِس مقصد کے لئے شبر زیدی کو لایا گیا ہے جن کے بارے میں بھی خیال ہے کہ وہ بھی شاید معین الدین کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کریں گے مگر اپنے الگ انداز سے۔ حکومتی سوچ ہے کہ ٹیکس وصولی کے محدود نظام کو شہری علاقوں اور معیشت سے نکال کر دیہات کی معیشت کی طرف لے جایا جائے۔ کسانوں کی پیداوار جو فارم پر فروخت ہوتی ہے شہر پہنچنے تک اس کی قیمت میں چار سے پانچ گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ دیہات میں موجود آڑھتی‘ اسٹوریج‘ ٹرانسپورٹیشن اُور دیگر ایگرو بیس خدمات و اخراجات سے ہونے والی آمدنی پر ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے۔

 اگر براہِ راست زراعت کو ٹیکس نہ بھی کیا جائے مگر زراعت کے تجارتی لین دین اور اس پر ہونے والے منافع پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ٹیکس چوری سے کمائے ہوا سرمایہ زیادہ تر جائیداد کی خریدوفروخت میں خرچ ہو رہا ہے اور پراپرٹی ٹیکس نظام کا حصہ نہیں جبکہ بدقسمتی یہ ہے کہ ٹیکس نادہندگان کو یہ سہولت قانونی طور پر دی جاتی ہے!لمحہ¿ فکریہ ہے کہ وفاقی حکومت پاکستان میں ’ویلیو ایڈڈ ٹیکس (ویٹ)‘ نافذ کرنا چاہتی ہے‘ جس کے لئے ’ویٹ‘ کو انکم ٹیکس کے ساتھ منسلک کیا جائے گا اور اِس عمل کے لئے ’مکمل فریم ورک‘ چاہئے جلدبازی میں اگر ’ویٹ‘ لگایا گیا تو ’جعلی انوائسیز‘ کا سلسلہ چل نکلے گا کیونکہ ٹیکس چوری کلچر میں ’خردبرد اور بدعنوانی کے راستے‘ خود سرکاری محکموں کے متعلقہ اہلکار بتاتے ہیں۔ ’ویٹ‘ اپنی نوعیت میں ’سیلز ٹیکس‘ سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی چیز کے خام مال سے اُس کی فروخت تک کے مراحل پر لگایا جاتا ہے۔ جیسے خام کپڑے پر الگ اور جب وہی کپڑا سل کر (تیار ہو) جائے تو اُس پر الگ سے ویٹ لگتا ہے۔ اِس کپڑے کو جب مارکیٹ میں فروخت کے لئے پیش کیا جاتا تو اِس تیسرے مرحلے میں الگ ویٹ لگتا ہے۔ اِس کے بعد دکاندار خریدار سے ویٹ وصول کرتا ہے۔ چار مراحل میں ٹیکس لگنے سے لامحالہ اشیاءمہنگی ہوجاتی ہیں‘ جو صارف کے لئے تو نقصان کا سودا ہے مگر حکومت کو بیٹھے بٹھائے اِس سے اچھا خاصہ ٹیکس مل جاتا ہے۔ تحریک انصاف کو ٹیکسوں میں کمی اور رعایت متعارف کروانا ہوگی کیونکہ ٹیکسوں کی کمی نہیں لیکن صارفین کی آمدن اور اخراجات میں توازن برقرار رکھنے کی ہر کوشش ناکام ثابت ہو رہی ہے! ٹیکس اِصلاحات میں عام آدمی (ہم عوام) کی قوت خرید کو بطور خاص نظر میں رکھنا چاہئے جو‘ ہر گزرتے دن پہلے سے کم ہو رہی ہے۔